Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان کے آخری ایام دراصل خود احتسابی کے دن ہوتے ہیں

Updated: March 18, 2026, 3:06 PM IST | Muhammad Jamil Akhtar Jalili | Mumbai

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جب اپنی تمام تر روحانی رعنائیوں، رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ افقِ حیات پر طلوع ہوتا ہے تو دلوں میں ایمان کی ایک نئی بہار لے آتا ہے، عبادت کی لذتیں روح کو تازگی بخشتی ہیں اور بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کا ایک خاص احساس پاتا ہے؛ مگر وقت کی رفتار کے ساتھ یہ مبارک مہینہ بھی اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگتا ہے، پھر جب رمضان کے آخری ایام دستک دیتے ہیں تو ایک بیدار دل مومن کے اندر ایک گہری فکر پیدا ہوتی ہے کہ اس نے اس نیکیوں کے موسم سے کیا حاصل کیا اور کیا گنوا دیا؟

During the last days of Ramadan, believers are especially engaged in prayers and worship. Photo: INN
رمضان کے آخری ایام میں اہل ایمان خاص طور سے دعاو عبادات میں مشغول ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جب اپنی تمام تر روحانی رعنائیوں، رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ افقِ حیات پر طلوع ہوتا ہے تو دلوں میں ایمان کی ایک نئی بہار لے آتا ہے، عبادت کی لذتیں روح کو تازگی بخشتی ہیں اور بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کا ایک خاص احساس پاتا ہے؛ مگر وقت کی رفتار کے ساتھ یہ مبارک مہینہ بھی اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگتا ہے، پھر جب رمضان کے آخری ایام دستک دیتے ہیں تو ایک بیدار دل مومن کے اندر ایک گہری فکر پیدا ہوتی ہے کہ اس نے اس نیکیوں کے موسم سے کیا حاصل کیا اور کیا گنوا دیا؟

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۷): جب ایک چائے فروش تقسیمِ زکوٰۃ سے متعلق دِل میں کانٹا چبھو گیا!

حقیقت یہ ہے کہ رمضان کے آخری ایام دراصل خود احتسابی کے دن ہوتے ہیں، جس طرح دنیا کا تاجر کسی کاروباری سیزن کے اختتام پر اپنے نفع و نقصان کا حساب لگاتا ہے، اسی طرح ایک مومن کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ رمضان کے اختتام پر اپنے اعمال کا جائزہ لے، اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کی عبادات نے اس کی زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے اور اس نے اس بابرکت مہینے سے کتنا روحانی سرمایہ حاصل کیا ہے۔

عموماً ہم رمضان میں روزوں، تراویح، تلاوتِ قرآن اور صدقہ و خیرات کی کثرت کو ہی اپنی کامیابی سمجھ لیتے ہیں؛حالانکہ رمضان کی اصل کمائی اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت ہے؛ اس لئے خود احتسابی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ ہماری عبادات میں اخلاص، خشوع اور روحانیت کس قدر موجود تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری عبادتیں صرف ظاہری رسم بن کر رہ گئیں؟ رسولؐ اللہ  نے اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: بہت سے روزہ دار ایسے ہیں، جنھیں اپنے روزوں سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے راتوں میں عبادت کرنے والے ایسے ہیں، جنھیں مشقت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ 

یہ ارشادِ نبوی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت کا مقصد صرف اعمال کی کثرت نہیں؛بلکہ نیت کی پاکیزگی اور دل کی حاضری ہے، اسی لئے رسولؐ اللہ  نے فرمایا:جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اور راتوں میں عبادت کی، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (بخاری)

یہ بھی پڑھئے: آج کی تراویح میں سنئے، روز ِجزاء کی منظرکشی اور جب نامہ ٔ اعمال کھولے جائینگے

رمضان کا آخری عشرہ خصوصی فضیلت کا حامل ہے؛کیوں کہ انہی مبارک راتوں میں شبِ قدر عطا کی گئی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اسی لئے رسول اکرم ﷺ ان دنوں میں عبادت کا خاص اہتمام فرماتے تھے، خود بھی شب بیداری کرتے اور اپنے اہلِ خانہ کو بھی عبادت کے لئے بیدار رکھتے تھے۔ (بخاری)یہ ایام بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو ازسرِنو مضبوط کرنے کا سنہری موقع ہوتے ہیں، قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ (الزمر:۵۳) یہ آیت بندوں کو امید اور توبہ کا پیغام دیتی ہے۔

خود احتسابی دراصل انسان کو اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتی ہے،حضرت لقمان حکیم سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے حکمت کہاں سے سیکھی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نادانوں سے حکمت سیکھی۔جب کسی کو غلطی کرتے دیکھتا تو اپنے دل میں جھانکتا کہ کہیں یہ عادت مجھ میں تو نہیں، یہی طرزِ فکر خود احتسابی کی اصل روح ہے۔

اسلام نے اس صفت کو بڑی اہمیت دی ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے:’’ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس نے کل کے لئے کیا آگے بھیجا ہے۔‘‘ (الحشر:۱۸) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عقلمند وہ ہے، جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے تیاری کرے‘‘، اسی طرح حضرت عمر فاروقؓ کا مشہور قول ہے: ’’حساب لئے جانے سے پہلے اپنا حساب کر لو‘‘۔

رمضان کے آخری ایام میں صدقۂ فطر کی ادائیگی بھی اسی روحانی تربیت کا حصہ ہے،اس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے محروم طبقات بھی خوشیوں میں شریک ہوں، اس موقع پر بھی ہمیں خود احتسابی کرنی چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق بہترین چیز مستحقین تک پہنچائیں۔

یہ بھی پڑھئے: صدقہ ٔ فطر (فطرہ): مقصد ، حکمت اور ہماری ذمہ داری

درحقیقت رمضان کے یہ آخری ایام فکری بیداری کے دن ہیں، یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی عارضی ہے اور ایک دن ہمیں اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے؛ اس لئے ان مبارک راتوں میں بندہ عاجزی کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکتا ہے اور مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے شبِ قدر کی راتوں میں یہ دعا سکھائی: اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي۔

اگر انسان رمضان کے آخری ایام میں سچے دل سے اپنے اعمال کا جائزہ لے، اپنی کوتاہیوں پر نادم ہو اور آئندہ کے لئے اصلاح کا عزم کر لے تو یہی اس مہینے کی اصل کامیابی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK