کتابیں: حقائق یہ بھی ہیں!

Updated: April 25, 2021, 1:37 AM IST

پارلیمانی الیکشن ۲۰۱۴ء سے پہلے ملک کے دومشہور ماہرین معاشیات عوامی پلیٹ فارم پر لڑ پڑے تھے۔ چونکہ وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں اس لئے اُن کا انداز گفتگو شائستہ تھا مگر اُن کے درمیان پایا جانے والا اختلاف رائے معمولی نہیں تھا

world book day.Picture:Midday
عالمی یوم کتب تصویر مڈڈے

دو روز قبل جب عالمی یوم کتب منایا جارہا تھا، ہم نے انٹرنیٹ کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کس ملک میں کتنی کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ عوام اور خواص میں کتب بینی کا مزاج کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے۔ لوگ باگ اس تاثر کو بہت آسانی سے قبول کرلیتے ہیں چنانچہ کسی نے سوچا نہیں ہوگا کہ کیا اس کا اثر کتابوں کی طباعت و اشاعت پر بھی پڑا ہے اور کیا ماضی کے مقابلے حال میں کتابیں کم تعداد میں چھپتی ہیں؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے جب ہم نے انٹرنیٹ پر کئی متعلقہ صفحات کھولے تو معلوم ہوا کہ کتابیں تو آج بھی بڑی تعداد میں چھپ رہی ہیں۔ بڑے بڑے پبلشر کتابیں شائع کرتے ہیں وہ خواہ امریکہ ہو، برطانیہ ہو، روس ہو یا ہمارا اپنا ملک ہو۔ ہر جگہ کتابیں آج بھی شائع ہورہی ہیں اور فروخت بھی ہورہی ہیں۔ یاد رہنا چاہئے کہ بڑے پبلشرس نقصان کا سودا نہیں کرتے۔ وہ علم کے فروغ کیلئے کتاب شائع نہیں کرتے بلکہ اپنے منافع کیلئے پیسہ لگاتے ہیں۔ اگر کوئی کتاب اس قابل نہ ہو کہ بآسانی فروخت ہوجائے تو وہ اسے طباعت و اشاعت کیلئے قبول ہی نہیں کریں گے چنانچہ صورتحال یہ ہے کہ امریکہ میں ہر سال ایک ملین یعنی دس لاکھ کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ ایک اور ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۰ء میں امریکہ میں تین لاکھ اٹھائیس ہزار سے زائد اور چین میں بھی کم وبیش اتنی ہی تعداد میں کتابیں شائع ہوئیں۔ بعض ویب سائٹس نے یونیسکو کے حوالے سے اعدادوشمار جاری کئے اور امریکہ و چین کی مذکورہ تعداد کی توثیق کرتے ہوئےدیگر ملکوں کی صورتحال بیان کی  جس کے مطابق ۲۰۰۸ء میںروس میں ایک لاکھ تئیس ہزار، ۲۰۰۹ء میں جرمنی میں ترانوے ہزار، ۲۰۰۸ء میں اسپین میں چھیاسی ہزار، ۲۰۱۰ء میں فرانس میں ترسٹھ ہزار اور ۲۰۰۴ء میں ہندوستان میں بیاسی ہزار سے زائد کتابیں چھپیں۔ 
 اس سلسلے کی تفصیل اور بھی ہے مگر ہم اتنے پر اکتفا کرتے ہوئے اپنے قارئین کو بتانا چاہتے ہیں کہ آج بھی کتابیں ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں چھپ رہی ہیں۔ پوری دُنیا میں شائع ہونےوالی کتابوں کو شمار کرنے جائیں تو حیرت انگیز  تعداد ہمارے سامنے ہوگی۔ ممکن ہے کہ اس میں ای بُکس کو بھی شامل کیا گیا ہو، مگر، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اہم بات کتابوں کا خریدا اور پڑھا جانا ہے جس میں ہمارا ملک بھی پیچھے نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اتنی بڑی تعداد میں کتابیں چھپ رہی ہیں اور کسی بھی ملک میں پبلشنگ کا کاروبار بند نہیں ہوا ہے تو کس بنیاد پر اس عام تاثر کو قبول کرلیا جائے کہ قاری کتابوں سے دورہوگیا ہے؟ 
 اس کی وجہ ہے۔ جو شخص مطالعہ کا ذوق نہیں رکھتا وہ دوسروں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ ایک میں ہی نہیں اور بھی لوگ کتابیں نہیں پڑھتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر زمانے میں کتابیں پڑھنے والے لوگ کم رہے ہیں۔ اس وقت جو لوگ پچاس سے زائد عمر کے ہیں وہ چالیس سال پہلے کے اپنے شہر کا جائزہ لیں اور جن کی عمر چالیس سال ہے وہ تیس سال پہلے کے حالات کو یاد کریں تو گواہی دیں گے کہ کتابیں پڑھنے والے اُس دور میں بھی کم تھے۔ اس اعتبار سے تکنالوجی کی مدد سے ای بک پڑھنے کی سہولت دستیاب ہوجانے کے بعد کتابیں پڑھنے کا رجحان بڑھا ہے، یہ بات ہم بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں۔ اس لئے جو لوگ دوسروں کو کتاب نہ پڑھتا دیکھ کر خود بھی اس ذوق کو تقویت نہیں بخشتے اُنہیں سوچنا چاہئے کہ وہ کتابوں سے دور رہ کر اپنا نقصان کررہے ہیں کسی اور کا نہیں۔ عام تاثر بنانے والوں کا بھی نہیں ! n 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK