تم مجھے پکارو، میں تمہاری دُعا قبول کروں گا

Updated: September 04, 2020, 8:50 AM IST | Mufti Sanaullah Khan

آج ہمیں کوئی مصیبت، پریشانی یا کوئی ضرورت پیش آجائے، تو سب سے پہلے ہماری نظر دنیاوی اسباب کی طرف جاتی ہے اور ہم دنیاوی اسباب ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں چنانچہ جہاں جہاں سے تھوڑی سی امید بھی حاجت پوری ہونے کی ہو

Dua
دعا کے ذریعے بندہ اپنی عاجزی کا اقرار کرتا ہے

 آج ہمیں کوئی مصیبت، پریشانی یا کوئی ضرورت پیش آجائے، تو سب سے پہلے ہماری نظر دنیاوی اسباب کی طرف جاتی ہے اور ہم دنیاوی اسباب ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں چنانچہ جہاں جہاں سے تھوڑی سی امید بھی حاجت پوری ہونے کی ہو، وہاں وہاں گھومتے پھرتے ہیں، دَر دَر کی خاک چھانتے ہیں، لیکن ہمارا ذہن اس بات کی طرف نہیں جاتا کہ جس ذات نے اس تکلیف میں مبتلا کیا ہے، کیا میں نے اس ذات کے سامنے اپنی اس تکلیف کو پیش کیا ہے ؟ یا مجھے اس کی ضرورت ہے کہ میں اپنی اس حاجت کو اس ذات کے سامنے پیش کروں، جس کے پاس زمین و آسمان کے خزانے ہیں، وہ ایسی قادر ذات ہے کہ اگر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک آنے والے انسان اور جنات سب کے سب ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور سب اپنی اپنی خواہشات کے مطابق الله تعالیٰ سے مانگیں اور الله تعالیٰ ان سب کو ان کی خواہش کے مطابق عطا کر دے، تو اس سے الله تعالیٰ کے خزانوں میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی، جتنی کہ ایک سوئی سمندر میں ڈبودی جائے اور اسکے ساتھ جو پانی کا قطرہ نکلے۔
 لیکن آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم دنیاوی اسباب ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور دُعا کرنے، الله تعالیٰ سے مانگنے کی سوچ اور فکر نہیں ہوتی اور اگر دعا کرتے بھی ہیں، تو بس ذرا نام کو ہاتھ اٹھا لیتے ہیں، نہ دل حاضر ، نہ آداب کا خیال، ہاتھ اٹھائے اور منہ پر پھیرلیا، یہ بھی پتہ نہیں کہ زبان سے کیا کلمات نکلے اور کیا دعا مانگی؟!
 اور دنیا میں کسی دوسرے آدمی کے سامنے انسان اپنی حاجت پیش کرے تو بہت کم ایسے ہوتے ہیں، جو انسان کی عزت نفس کو مجروح کئے بغیر حاجت پوری کر دیتے ہوں اور اگر ایک دفعہ پوری کردیں، تو دوسری یا تیسری بار انکار کر دیتے ہیں اور تنگ آجاتے ہیں۔لیکن قربان جائیے اس رحیم وکریم ذات ِ رب العالمین کے کہ مانگنے سے تنگ نہیں ہوتا ، بلکہ خوش ہوتا ہے اور نہ مانگنے والوں سے ناراض ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو  قرآن کریم  کی آیت کی روشنی میں دیکھئے:
 ’’اور تمہارے رب نے فرمادیا ہے کہ تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بلاشبہ جو میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں، عنقریب بحالت ذلت جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘ 
 اس آیت کریمہ میں الله تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، یہ الله تعالیٰ کا بہت بڑا انعام اور احسان ہے کہ بندوں کو اپنی ذات عالی سے مانگنے کی اجازت دے دی اور پھر قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمالیا۔
 آپ جانتے ہیں، عبادتیں بہت سی ہیں اور دعا بھی ایک عبادت ہے ، لیکن یہ ایک بہت بڑی عبادت ہے، عبادت ہی نہیں، عبادت کا مغز ہے اور اصل عبادت ہے۔ کیونکہ عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ الله جل شانہ کے حضور میں بندہ اپنی عاجزی اور ذلت پیش کرے اور خشوع وخضوع یعنی ظاہر و باطن کے جھکاؤ کے ساتھ بارگاہ بے نیاز میں پوری نیاز مندی کے ساتھ حاضر ہو اور چوں کہ یہ عاجزی والی حضوری دعا میں سب عبادتوں سے زیادہ پائی جاتی ہے، اس لئے دعا کو عین عبادت اور عبادت کا مغز قرار دیا گیا۔
 دعا کرتے وقت بندہ اپنی عاجزی اور حاجت مندی کا اقرار کرتا ہے اور سراپا نیاز ہو کر بارگاہ خداوندی میں اپنی حاجت پیش کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ صرف الله ہی دینے والا ہے، وہ قادر ہے، کریم ہے، وہ بے نیاز ہے اور مخلوق سراسر عاجز او رمحتاج ہے، جب اپنے اس یقین کے ساتھ قادر قیوم کی بارگاہ میں بندہ ہاتھ پھیلا کر سوال کرتا ہے، تو اس کا یہ شغل سراپا عبادت بن جاتا ہے اور یہ دعا الله تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا مندی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص دُعا سے گریز کرتا ہے وہ اپنی حاجت مندی کے اقرار کو خلاف شان سمجھتا ہے، چوں کہ اس کے اس طرز عمل میں تکبر ہے اور اپنی بے نیازی کا دعویٰ ہے، اس لئے الله جل شانہ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK