وطن عزیز میں جمہوریت کا جشن اور جمہور کے مسائل

Updated: January 26, 2020, 2:25 PM IST | Jamal Rizvi

اس جشن میں اقتدار اور عوام دونوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ جن حوالوں سے یہ جشن منعقد کیا جارہا ہے حکومت اور عوام ہر دو سطح پر ان کی نوعیت اور حیثیت اس وقت کیا ہے

 وطن عزیز میں جمہوریت کا جشن اور جمہور کے مسائل
امیت شاہ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

آج پورے ملک میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ جمہوریت کا جشن منایا جا رہا ہے ۔اس ملک کے عوام کیلئے یہ جشن اسلئے  اہم ہے کہ یہ دن ان کے اندر اس احساس کو تازہ کرتا ہے کہ معاصرسیاسی نظام میں ان کی حیثیت اس محور کی سی ہے جو ملک میں وقو ع پذیر ہونے والی سیاسی سرگرمیوں میں بہت نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس دن خصوصی طور سے حکمراں طبقہ کی جانب سے عوام کو یہ یقین دلایا  جاتا ہے کہ ان کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے گی اور مجموعی طور پر ملک کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی ۔ یہ اور اس طرح کی باتیں کرنا اقتدار کا شیوہ اور کسی حد تک ایک مجبوری بھی ہے کہ اس کی حکمرانی کی بقا کا بڑا دارو مدار اس کے تئیں عوام کے یقین پر ہے ۔ آزادی کے بعد سے اب تک اس دن خصوصی طور سے حکمراں طبقہ عوام کے اس یقین کو محکم بنانے کی اپنے طور پر کوشش کرتا رہا ہے اور اس کوشش میں کبھی تو حقیقت حال کو پیش نظر رکھ کر بات کی گئی اور کبھی موجود حقائق سے بالاتر ہو کر ایک ایسا مثالی انداز اختیار کیا گیا جو عوام کو صرف اچھے دنوں کا خواب دکھا کر ان کا مسلسل استحصال کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
 اس وقت ملک پر جس سیاسی طبقے کی حکمرانی ہے، اس کی پہلی شناخت یہی مثالی رویہ ہے جو عوام کو درپیش زندگی کے بنیادی مسائل کا حل فراہم کرنے کے بجائے انھیں مزیدایسے اضافی مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے کہ ان کی ساری توانائی ان اضافی اور کسی حد تک غیر ضروری قسم کے مسائل سے جوجھنے میں صرف ہو جاتی ہے ۔ ایسی صورت میں نہ تو وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی معاشی ضرورتوں کی تکمیل بہتر انداز میں کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی سماجی زندگی میں وہ معیاری مقام حاصل کر سکتے ہیں جو اِن کی عزت و توقیر میں اضافہ کر سکے۔وطن عزیز میںاس وقت عوامی سطح پر تقریباً یہی صورتحال ہے۔ یہ ضرورہے کہ چند مخصوص طبقات اس صورتحال سے استثنا ہیں اور اسلئے کہ وہ اقتدار کے طرز حکومت اور اس کی آئیڈیالوجی کی بہرطور حمایت کرتے ہیں۔  اس وقت ہندوستانی جمہوریت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جس میں اقتدار اصولی سطح پرجمہور کی فلاح و بہبود کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کی یہ کوشش عملی سطح پر جس صورت میں ظاہر ہور ہی ہے اس میں جمہور کی فلاح و بہبود کے نام پر اس ملک کی سماجی و تہذیبی روایات کو بالکل نئے طرز کا خوگر بنانے کا رویہ پوشیدہ ہے ۔ اس ملک کو سماجی و تہذیبی اعتبار سے نئی شناخت دینے کا یہ منصوبہ صریح طور پراس سماجی ہم آہنگی کیلئے ایک خطرہ ہے جس پر اس ملک کی خوشحالی اور ترقی کا انحصار ہے ۔ اگر اس روایت کو کسی ایک خاص مذہب کا تابع کر دیا جائے تو وطن عزیز میں سماجی سطح پر کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہو جائیں گے ۔
 جمہوریت کے اس جشن میں عوام کی ترقی اور خوشحالی کے تئیں اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے وقت اگر حکمراں طبقہ موجودہ حقائق کے تناظر میںبات کرے تو اسے سب سے پہلے یہ قبول کرنا ہوگا کہ عوام اور اقتدار کے درمیان رابطے کی نوعیت میںایسی تبدیلیاں آچکی ہیں جو جمہوری اقدار کے عین خلاف ہیں۔جمہوریت کا اولین تقاضا یہ ہے کہ اگر عوام حکمراں طبقہ کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کرے تو اس کے اظہار پر کشادہ نظری سے غور کرنا چاہئے ۔ عوام کا یہ عدم اطمینان جن خدشات پر مبنی ہے اگر حکومت کی کارکردگی  سے واقعتاً ایسا ہونے کا امکان ہے تو اسے دور کرنے کی مخلصانہ کوشش اقتدار کی جانب سے کی جانی چاہئے۔ کسی بھی جمہوری طرز حکومت میں اقتدار اور عوام کے رابطہ کو محکم بنائے رکھنے میں حکمراں طبقے کا رویہ جب تک اس طرز کا نہ ہوتب تک اس ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کے متعلق وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اگر اس تناظر میں اقتدار کے رویے کا جائزہ لیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ جمہوری طرز حکومت میں عوام کو حاصل حقوق کا پاس و لحاظ کرنے کے بجائے بہر صورت اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کو ترجیح دیتا ہے ۔اقتدار کے اس رویے کے سبب ملک گیر سطح پر عوام کے درمیان عدم اطمینان کی جو ایک لہر سی چل رہی ہے وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ بنام جمہوریت اقتدار آمریت کے راستے پر گامزن ہے۔
 ان دنوں وطن عزیز میں حکومت کا ایک متنازع قانون عوام کے عدم اطمینان کی خاص وجہ بنا ہوا ہے۔ اس قانون کے متعلق جس طرح کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے حکمراں طبقہ عوام کو دھونس اور دھمکی دینے میں زیادہ سرگرم نظر آتا ہے۔ اقتدار کا یہ رویہ جمہوری قدروں کی صریح پامالی ہے ۔ اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس طرح کا رویہ روا رکھنے والی حکومت بڑی گرم جوشی کے ساتھ جشن جمہوریہ کے موقع پر جمہوریت کی بقا کا یقین عوام کودلائے گی۔
 اس وقت اقتدار اور عوام کے مابین رابطے کی نوعیت میں صرف حکمراں طبقہ کا آمرانہ رویہ ہی شامل نہیں ہے بلکہ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کو صریح طور پر نظر انداز کرنے کی روش بھی اس رابطے کو مزیدکمزور بنا رہی ہے ۔ملک کو معاشی محاذ پر جس طرح کے مسائل درپیش ہیں وہ سماجی خوشحالی اور ترقی کی راہ کو مسدود کئے دے رہے ہیں ۔ ان مسائل کے سبب مالی اعتبار سے کمزور طبقہ دن بہ دن غربت و افلاس سے نزدیک تر ہو تا جارہا ہے۔حکومت کی جانب سے اب تک کسی ایسے منصوبے کا اعلان نہیں ہوا جو اس طبقے کی بگڑتی جارہی صورتحال میں بہتری کا امکان پیدا کر سکے۔  اس کے برعکس سابقہ میعاد حکومت میں بعض ایسے فیصلے کئے گئے جن سے صنعت و حرفت اور تجارت و ملازمت کے شعبوں میں سنگین قسم کے معاشی مسائل پیدا ہو گئے اور یہ صورتحال اب بھی بڑی حد تک باقی ہے۔ نوجوانون کو روزگار فراہمی کے بڑے بڑے دعوے والی اس حکومت نے اس معاملے میں جو رویہ اختیار کیا وہ نوجوان نسل کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے ۔ملک میں اس وقت بے روزگاری کی جو صورتحال ہے وہ گزشتہ تقریباً نصف صدی میں سب سے خراب سطح پر ہے۔ نوجوانوں کو ملازمت دینے کے بجائے مختلف شعبوں میں نوکریاں ہی ختم یا کم کی جارہی ہیں۔ بے روزگاری کی مار جھیل رہی نوجوان نسل کے اندر مایوسی کا پیدا ہونا فطری ہے۔  اقتدار ان کی اس مایوسی کا کوئی کارگر حل تلاش کرنے کے بجائے انھیں مذہب اور قوم کی منافرت کے کاروبار میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے۔ جشن جمہوریہ کے موقع پر جمہور سے اپنی ہمدردی اور ان کے مسائل کے تئیں اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے وقت اگر ان حقائق پر گفتگو کی جائے توہی یہ مانا جا سکتا ہے کہ اقتدار واقعی عوام کیلئے فکر مند ہے ۔ 
 نوجوان نسل کسی بھی ملک کے مستقبل کو بنانے اور سنوارنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔دیکھا جائے تو اقتدار نے اس نسل کے ان مسائل کو سرے ہی سے نظر انداز کرنے کی خو اختیار کر رکھی ہے جو ان کی ترقی اور خوشحالی اور ان کے توسط سے ملک کی خوشحالی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں۔ جس طرح ملک میں بے روزگاری کا مسئلہ روز بہ روز سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے تقریباً وہی کچھ حال ملک کے تعلیمی نظام کا بھی ہے ۔ اقتدار نے اپنی مخصوص آئیڈیالوجی کی تشہیر کیلئے اعلیٰ تعلیمی مراکز کو جس طرح ہدف بنایا ہے وہ ان نوجوانوں کیلئے تکلیف اور پریشانی کا باعث ہے جو بغیر کسی تفریق اور تعصب کے اپنے تعلیمی مرحلے کو عبور کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ایک خاص مذہبی عقیدے کی تشہیر کیلئے جس طرح کی ماحول سازی کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کوشش میں تشدد سے بھی گریز نہیں کیا گیا ،وہ تعلیمی ترقی کیلئے اقتدار کے نام نہاد دعوےکو آئینہ دکھاتا ہے ۔ادھر کچھ مہینوں سے شہریت کے متنازع قانون کے سبب ملک گیر سطح پر جاری احتجاج نے بھی اعلیٰ تعلیمی نظام کو متاثر کیا ہے اور کئی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ پڑ گئی ہیں۔ ان طلبہ کی پڑھائی اور امتحان کی عدم تکمیل ان کی تعلیمی زندگی کا ایک اہم سال خراب کر سکتی ہے۔ ان سب کے درمیان اقتدار کا رویہ جس طرز کا رہا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے صرف اپنی مرضی اور منشا سے غرض ہے اور وہ ہر حال میں عوام کو اپنی مرضی کا تابع بنائے رکھنا چاہتا ہے ۔
 جمہوریت کے اس جشن میں اقتدار اور عوام دونوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ جن حوالوں سے یہ جشن منعقد کیا جارہا ہے حکومت اور عوام ہر دو سطح پر ان کی نوعیت اور حیثیت اس وقت کیا ہے ؟ اگر جمہوری طرز حکومت کے بنیادی تقاضوں کی تکمیل میں اقتدار ناکام ہے تو اسے اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔اسی طرح عوام کو بھی تعصب اور تفریق کے خانوں میں تقسیم ہونے کے بجائے مجموعی طو رپر سماج اور ملک کی خوشحالی اور ترقی کیلئے کوشاں رہنا چاہئے۔ اگرا س کوشش میں اقتدار کی جانب سے خاطر خواہ تعاون نہ حاصل ہو تو پھر عوام کو متحد ہو کراپنے جمہوری حقوق کا مطالبہ کچھ اس طرح سے کرنا چاہئے کہ اقتدار ان مطالبات کی تکمیل کیلئے آمادہ ہو جائے ۔ اگر ایسا ہو توہی جمہوریت کے جشن کی اہمیت اور معنویت باقی رہتی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK