معاشرہ کی یہ شکایت کہ بچے اپنے بڑوں کی بالکل نہیں سنتے، کافی پرانی ہوچکی ہے۔ کسی سے کہئے تو جواب ملے گا کہ حضور کوئی نئی بات کیجئے
EPAPER
Updated: December 11, 2019, 9:36 PM IST
|
Editorial
معاشرہ کی یہ شکایت کہ بچے اپنے بڑوں کی بالکل نہیں سنتے، کافی پرانی ہوچکی ہے۔ کسی سے کہئے تو جواب ملے گا کہ حضور کوئی نئی بات کیجئے معاشرہ کی یہ شکایت کہ بچے اپنے بڑوں کی بالکل نہیں سنتے، کافی پرانی ہوچکی ہے۔ کسی سے کہئے تو جواب ملے گا کہ حضور کوئی نئی بات کیجئے۔ یہ پرانی اس لئے ہوگئی ہے کہ نئی شکایت عام ہورہی ہے۔ وہ یہ کہ بچے خدا جانے کس دُنیا میں رہنے لگے ہیں۔ یہ معلوم کرنا مشکل ہورہا ہے کہ اُن کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ وہ کس چیز سے کیا اثر لے رہے ہیں۔ وہ کس قسم کے احساسات اور جذ بات رکھتے ہیں۔ یہ اعتراف ہر شخص کریگا کہ بچوں کی تربیت کسی دَور میں اتنی مشکل نہ رہی ہوگی جتنی اب ہے۔
مگر ان شکایات کے ساتھ زندگی گزارنے کو اپنا مقدر سمجھ لینا تو ہرگز درست نہیں ہوگا۔ کیوں نہ حالات اور ماحول کی خرابی کے باوجود تربیت کی راہ نکالی جائے اور اساتذہ نیز والدین بچوں پر کسی ایسی حکمت کے ساتھ اثر انداز ہوں کہ اُنہیں مسحور کردینے والے خارجی محرکات پسپا ہوجائیں؟ ایسا ہوسکتا ہے اور آئندہ نسلوں کی فلاح کیلئے ضروری ہے کہ ایسا ہو۔
بچے اپنے والدین کا پرتو ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اُنہی کے عادات و اطوار اور اُنہی کی تہذیب اُن میں منتقل ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کسی شخص کو دیکھ کر اُس کے والدین اور گھر کے ماحول کا اندازہ لگالیا جاتا تھا۔ اِسی طرح کسی گھراور اس کی تہذیب کو دیکھ کر فیصلہ کرنا آسان تھا کہ اس گھر کے بچے کیسے ہونگے۔ وقت کے ساتھ حالات بدلے اور حالات کے ساتھ بہت کچھ تبدیل بدل گیا۔ اب بچوں کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اُن کا گھر کیسا ہوگا اور اُن کے والدین کیسے ہوں گے۔
کل تک الفاظ، جملے اور ان کی ادائیگی کا انداز بھی بہت کچھ گواہی دے دیتا تھا۔ اب نہ تو الفاظ ہی اپنے رہ گئے ہیں نہ ہی جملے اور اُن کی ادائیگی۔ تمام بچوں کا لب و لہجہ ایک سا معلوم ہوتا ہے۔ زبان بھی ایک جیسی ہے جسے دل کی تسلی کیلئے اُردو ضرور کہا جاسکتا ہے لیکن اس میں الفاظ انگریزی کے بھی ہیں، ہندی کے بھی اور مقامی بول چال کے بھی۔جو بچے بزعم خود اُردو بولتے ہیں اُن کی زبان پر جو اُردو ہے وہ بے چاری ماحول زدہ یا ٹی وی زدہ ہے۔
بہت سے لوگوں کو اپنے نونہالوں کے اُٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور گفتگو کرنے کے طریقے پر قطعی اعتراض نہیں ہے کیونکہ یہ ساری چیزیں اُن کی تربیتی ترجیحات میں تھیں ہی نہیں لیکن جن مٹھی بھر لوگوں کو یہ طریقے پسند نہیں آتے وہ بھی اس لئے خاموش رہتے ہیں کہ اس میں قصور اُنہی کا ہے۔ اگر وہ گھر کا ماحول ویسا بنائے رکھتے، جیسا کہ مہذب گھرانوں کا ہوا کرتا تھا اور جس کی خوشبو بچوں کی شخصیت کا جزو لاینفک بن جاتی تھی، تو یہ صورت حال نہ پیدا ہوتی لیکن بیشتر گھرانوں میں یہی ہوا ہے کہ اس جانب توجہ نہیں دی گئی چنانچہ اب سوائے افسوس کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ زمانہ اس حد تک بدل چکا ہے کہ اب اگر کوئی بچہ جھک کر سلام کرے تو لوگ باگ اُسے حیرت سے دیکھیں گے یا ہنسیں گے۔
تربیت ضروری ہے، یہ الگ بات کہ موجودہ دور میں یہ بھی ایک بڑی آزمائش ہے کیونکہ اس کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ آج کی تربیت کا گزرے ہوئے کل کی تربیت سے مختلف ہونا ضروری ہے کیونکہ جن بچوں کی تربیت کی جارہی ہے اُنہیں بدلے ہوئے حالات میں زندگی گزارنی ہے تاہم یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ تربیت اس حد تک مختلف نہ ہو کہ اس میں اپنی تہذیب کے تحفظ کا کوئی سامان نہ ہو اور سب کچھ اوروں کے کلچر سے مستعار ہو۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، یہ مشکل کام ہے مگر کرنا تو ہوگا۔ یہ کوشش ہر جانب سے ہو، والدین بھی شریک ہوں، اساتذہ بھی، فلاحی تنظیمیں بھی اور وہ لوگ بھی جو جدید آلات کی سمجھ رکھتے ہیں تو شاید یہ فیصلہ کرنا آسان ہو کہ تربیت کا اسلوب کیا ہو