اسی دوران ایک عورت نے اپنے شوہر پر برتن پھینک کر کہا’’تم نے اپنے بھائی کو قرض کیوں دیا؟ اب وہ ہمیں غلام بنائے گا۔ ‘‘ شوہر نے کہا: ’’بھائی ہے، اس لئے مدد کی۔ ‘‘ بیوی نے چیخ کر کہا: ’’مدد ہمیشہ دشمنی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ ‘‘
EPAPER
Updated: June 08, 2026, 3:18 PM IST | Alim Ismail | Mumbai
اسی دوران ایک عورت نے اپنے شوہر پر برتن پھینک کر کہا’’تم نے اپنے بھائی کو قرض کیوں دیا؟ اب وہ ہمیں غلام بنائے گا۔ ‘‘ شوہر نے کہا: ’’بھائی ہے، اس لئے مدد کی۔ ‘‘ بیوی نے چیخ کر کہا: ’’مدد ہمیشہ دشمنی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ ‘‘
گلیوں میں کافی چہل پہل تھی۔ محلے کے نکڑ پرچائے والے نے اپنے برتن الٹے رکھ د ئیے تھے تاکہ کوئی چائے نہ مانگ سکے مگر گاہک پھر بھی آ کر خالی پیالیوں میں سیاست انڈیل رہے تھے۔ ہر گھونٹ میں سازش کی چسکی تھی اور ہر پیالی سے عالمی سازش کی بھاپ اڑ رہی تھی۔ کسی نے کہا، ’’مہنگائی بڑھ گئی ہے‘‘، کسی نے جواب دیا ’’ڈالر کی وجہ سے‘‘ اور کسی نے چائے کی پیالی اٹھاتے ہوئے کہا، ’’ڈالر کون؟ وہ ہمارے محلے کا نوجوان لڑکا؟‘‘
اسی دوران ایک عورت نے اپنے شوہر پر برتن پھینک کر کہا’’تم نے اپنے بھائی کو قرض کیوں دیا؟ اب وہ ہمیں غلام بنائے گا۔ ‘‘ شوہر نے کہا: ’’بھائی ہے، اس لئے مدد کی۔ ‘‘ بیوی نے چیخ کر کہا: ’’مدد ہمیشہ دشمنی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ ‘‘ اور وہ برتن سڑک پر گر کر ایسے بجنے لگے جیسے کسی اسمبلی میں ڈیسک بجائے جاتے ہیں۔ ادھر گاؤں کے چوراہے پر ایک بندر کھڑا تھا جو تماشا دکھا کر دعویٰ کر رہا تھا کہ وہ پورے ملک کا مالک ہے۔ لوگ تالیاں بجا رہے تھے، بزرگ پگڑی ٹھیک کر کے کہہ رہے تھے: ’’ہاں اب تو جانور ہی ہم پر حکومت کرنے کے اہل ہیں۔ ‘‘
بیوی نے شوہر سے کہا کہ بیٹی کے لئے کوئی اچھا رشتہ ملے تو فورا ہاتھ کر لینا نہیں تو کوئی دوسرا اٹھا لے جائے گا۔ بیٹی نے کہا: ’’امی! میں پڑھنا چاہتی ہوں۔ ‘‘ ماں نے ڈانٹ کر کہا: ’’پڑھائی عورت کو آزاد کر دیتی ہے، اور ہمارا ملک ابھی تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ ‘‘
رات کو بجلی چلی گئی۔ سیاسی رہنما نے اعلان کیا کہ بجلی عوام کی اخلاقی پستی کی وجہ سے گئی ہے۔ کسی نے کہا: ’’صاحب! بجلی کے بل ادا ہو چکے تھے، پھر بھی اندھیرا کیوں ہے؟‘‘ سیاسی لیڈر نے کہا: ’’کیا تمہاری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے؟ اندھیرا ہی تو اصل روشنی ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: انشائیہ: داخلے جاری ہیں
کسی اخبار نے خبر چھاپی کہ ’’شہر میں اخلاقیات زندہ ہو گئی ہیں۔ ‘‘ لوگ حیران ہوئے۔ بازار گئے تو دیکھا، اخلاقیات بازار کے بیچوں بیچ بھیک مانگ رہی ہیں۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ لوگ تصویریں لے رہے تھے، ہیش ٹیگ بنا رہے تھے: ’’اخلاقیات زندہ ہے‘‘ مگر کسی نے اس کو روٹی نہ دی۔
محلے کی عورتیں چھت پر کھڑی حکومت کو برا بھلا کہہ رہی تھیں، اور نیچے ان کے بچے ایک دوسرے کے بال نوچ رہے تھے۔ ایک آدمی نے ان عورتوں سے کہا: ’’بچوں کو کیوں نہیں روکتیں ؟‘‘ ایک عورت نے جواب دیا: ’’یہ ہماری آزادی ہے، تم سیاست میں کیوں دخل دیتے ہو؟‘‘
ایک رات خواب میں پورا محلہ الٹا چلنے لگا۔ استاد الٹی سمت پڑھا رہے تھے، سیاست داں اُلٹی سمت وعدے کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ گھڑی کی سوئیاں بھی الٹی سمت گھوم رہی تھیں۔ کسی نے کہا: ’’یہ سب غیر منطقی ہے۔ ‘‘ دوسرے نے جواب دیا: ’’منطق وہی ہوتی ہے جو طاقتور طے کرتے ہیں۔ ‘‘
بازار میں ایک مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔ اس پر لکھا تھا: ’’یہ عوام کی یادگار ہے۔ ‘‘ لیکن اس کا چہرہ نہ تھا، صرف ایک خالی آئینہ لگا ہوا تھا۔ جو بھی دیکھتا، اپنا چہرہ دیکھتا اور سوچتا کہ وہ یادگار میں ہی ہوں۔ اور من ہی من خوش ہو جاتا۔ شہر کی فصیل پر کسی نے لکھ دیا تھا کہ ہم تیزی سے ترقی کر رہے ہیں لیکن الٹی سمت میں۔
ایک بین الاقوامی کانفرنس میں سب رہنما ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے لیکن ہر ایک کی جیب میں خنجر چھپا ہوا تھا۔ میز پر رکھا ہوا گلوب بار بار گھوم رہا تھا اور ہر بار گھومنے پر کوئی نہ کوئی چھوٹا ملک گرتا جا رہا تھا۔ کسی نے کہا: ’’یہ عالمی امن کی کانفرنس ہے۔ ‘‘
تبھی پیچھے سے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی، سبھی نے پلٹ کر ادھر ادھر دیکھا لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ اسی ماحول میں عالمی سیاست دانوں نے اعلان کیا کہ اب دنیا کو ایک ہی زبان بولنی چاہئے۔ فیصلہ ہوا کہ وہ زبان خاموشی ہوگی۔ سب خاموش ہو گئے لیکن اس خاموشی میں صرف اسلحے کی کھٹکھٹاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ ہاں میں جانتا ہوں کہ بڑی طاقتیں چھوٹے ملکوں کو جمہوریت کا تحفہ دینے نکلی ہیں لیکن وہ تحفہ بم کے ڈبے میں لپیٹ کر دیا جا رہا ہے۔