Updated: July 23, 2026, 6:02 PM IST
| Luckhnow
اتر پردیش کی سیاست کی معروف شخصیت، سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور پانچ مرتبہ رکن اسمبلی عالم بدیع اعظمی کا ۹۰؍ برس کی عمر میں لکھنؤ کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور زیرِ علاج تھے۔ ان کے انتقال پر سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سمیت مختلف سیاسی لیڈروں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک دیانت دار، باوقار اور عوامی لیڈر قرار دیا۔
اتر پردیش کی سیاست کے سینئر ترین لیڈرعالم بدیع اعظمی۔ تصویر: ایکس
اتر پردیش کی سیاست کے سینئر ترین لیڈروں میں شمار ہونے والے عالم بدیع اعظمی کا جمعرات کو ۹۰؍ برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ وہ لکھنؤ کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں دورانِ علاج انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی سماج وادی پارٹی کے کارکنوں اور سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ عالم بدیع اعظمی نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں پانچ مرتبہ اتر پردیش اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ ریاست کے ضلع اعظم گڑھ کی سیاست کا ایک نمایاں چہرہ تھے اور عوامی رابطے، سادگی اور دیانت داری کے لیے جانے جاتے تھے۔ پارٹی کارکن انہیں ایک ایسے لیڈر کے طور پر یاد کرتے ہیں جو ہمیشہ عوامی مسائل کو اسمبلی میں اٹھاتے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: دھولیہ میں کانگریس کا زبردست احتجاج، وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ
سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالم بدیع اعظمی نے پوری زندگی عوامی خدمت اور سماجی انصاف کے اصولوں کے لیے کام کیا۔ انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحوم کی سادگی، شائستگی اور عوام سے وابستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ان کا انتقال پارٹی کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔عالم بدیع اعظمی نے مختلف ادوار میں اسمبلی میں اپنے حلقے کی نمائندگی کی اور ترقیاتی منصوبوں، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے معاملات پر سرگرم کردار ادا کیا۔ سیاسی اختلافات کے باوجود انہیں مختلف جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے بھی احترام حاصل تھا، جس کی وجہ ان کا نرم لہجہ اور شفاف سیاسی طرزِ عمل تھا۔
یہ بھی پڑھئے: پیپر لیک معاملے میں راہل گاندھی کی مودی پر تنقید، طلبہ کے ۳؍ مطالبات دہرائے
ان کے انتقال کی خبر کے بعد سماج وادی پارٹی کے لیڈروں، کارکنوں اور بڑی تعداد میں مقامی افراد نے اظہارِ افسوس کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی متعدد سیاسی شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی سیاست ایک تجربہ کار اور باوقار لیڈر سے محروم ہوگئی ہے۔