Updated: July 23, 2026, 6:06 PM IST
| Thiruvananthapuram
وائناڈ کے علاقے کلپٹہ سے تعلق رکھنے والے پی سی مصطفیٰ کی کامیابی کی کہانی آج لاکھوں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بن چکی ہے۔ غربت اور مالی مشکلات کے باعث انہیں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی، لیکن محنت، لگن اور عزم نے انہیں ۴۴۵۰؍ کروڑ روپے مالیت والی کمپنی آئی ڈی فریش فوڈ کا بانی بنا دیا۔
مصطفیٰ۔ تصویر:آئی این این
کیرالا کے ضلع وائناڈ کے علاقے کلپٹہ سے تعلق رکھنے والے پی سی مصطفیٰ کی کامیابی کی کہانی آج لاکھوں نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بن چکی ہے۔ غربت اور مالی مشکلات کے باعث انہیں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی، لیکن محنت، لگن اور عزم نے انہیں ۴۴۵۰؍ کروڑ روپے مالیت والی کمپنی آئی ڈی فریش فوڈ کا بانی بنا دیا۔
یہ بھی پڑھئے:یوتھ ٹیسٹ: ہندوستان نے سری لنکا کو ۲۱۱؍ رنز سے شکست دے دی
غربت کے باعث تعلیم چھوڑنی پڑی
پی سی مصطفیٰ کے والد کافی کے باغات میں مزدوری کرتے تھے۔ خاندان کی مالی حالت انتہائی کمزور تھی، جس کے باعث مصطفیٰ نے بھی والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے کافی کے باغات میں کام کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران ان کے ایک استاد نے انہیں باغ میں کام کرتے دیکھا اور ان کے والد کو دوبارہ اسکول بھیجنے پر آمادہ کیا۔ استاد نے ان کی کتابوں کا خرچ اٹھانے کی ذمہ داری بھی لی۔
محنت سے این آئی ٹی اور آئی آئی ایم تک کا سفر
دوبارہ تعلیم شروع کرنے کے بعد مصطفیٰ نے دل لگا کر پڑھائی کی اور اپنی محنت کے بل پرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (NIT)، کالی کٹ میں داخلہ حاصل کیا۔بعد ازاں انہوں نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (IIM)، بنگلورو سے مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی اور ایک کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر ملازمت اختیار کی۔ تاہم ان کا خواب اپنا کاروبار قائم کرنا تھا، اس لیے انہوں نے ملازمت چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
ڈوسا بیٹر کے کاروبار کا خیال
اپنے چچا زاد بھائی شمس الدین سے ملاقات کے دوران انہیں ایک منفرد کاروباری خیال ملا۔اس وقت بازار میں فروخت ہونے والا ڈوسا کا گھول (بیٹر) غیر معیاری پیکنگ میں پلاسٹک کے تھیلوں میں فروخت کیا جاتا تھا اور اس کی تازگی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی تھی۔مصطفیٰ اور شمس الدین نے معیاری پیکنگ میں تازہ ڈوسا بیٹر فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا۔
۲۵؍ ہزار روپے سے آغاز
شمس الدین نے۲۵؍ہزار روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری سے ۵۵۰؍ مربع فٹ کے ایک چھوٹے سے یونٹ میں کاروبار شروع کیا۔ابتدا میں خاندان کے پانچ چچا زاد بھائی اس کاروبار میں شریک ہوئے۔ اس وقت ان کے پاس صرف دو گرائنڈر، ایک مکسر اور ایک سیلنگ مشین تھی۔کاروبار کے پہلے نو ماہ تک روزانہ صرف ۱۰۰؍ پیکٹ فروخت ہوتے تھے، لیکن مصطفیٰ نے ہمت نہیں ہاری۔
آئی ڈی فریش فوڈ بنا ملک کا معروف برانڈ
وقت کے ساتھ فروخت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا اور کمپنی نے آئی ڈی فریش فوڈ کے نام سے اپنی مصنوعات فروخت کرنا شروع کیں۔ آج کمپنی کی مصنوعات ہندوستان کے ۱۰۰؍ سے زائد شہروں میں دستیاب ہیں۔ مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء میں کمپنی کی آمدنی تقریباً۶۸۰؍ کروڑ روپے رہی، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران کمپنی نے تقریباً ۲۰؍ فیصد کمپاؤنڈ سالانہ شرح نمو (CAGR) برقرار رکھی۔ ۴۴۵۰؍کروڑ روپے کی کمپنی جولائی ۲۰۲۵ء میں آئی ڈی فریش فوڈ کی مالیت ۴۴۵۰؍کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ٹریکس این کے اعداد و شمار کے مطابق کمپنی میں پی سی مصطفیٰ کی حصے داری کی مالیت تقریباً۱۱۴۰؍ کروڑ روپے ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’رامائن‘‘ میں کون سا اداکار کون سا کردار ادا کرے گا؟
متاثر کن مثال
آج آئی فریش فوڈ ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے ۔ چھٹی جماعت کے بعد تعلیم چھوڑنے، دوبارہ اسکول واپس آنے، این آئی ٹی اور آئی آئی ایم تک پہنچنے اور پھر ایک کامیاب کاروباری شخصیت بننے تک پی سی مصطفیٰ کا سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ محنت، عزم اور مسلسل کوشش کے ذریعے مشکل ترین حالات کو بھی کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔