اساتذہ کے مطابق بھیونڈی ، مالیگائوں، شولاپور، اورنگ آباد، جلگائوں، اکولہ اور دیگر شہروں میں ممبئی کے مقابلے اردو زباندانی کی تدریس بہتر ہو رہی ہے ۔
عامر انصاری اورشیخ اخلاق احمد-تصویر:آئی این این
نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوچکا ہے اور اسکولوں میں پڑھائی بھی پورے زور شور سے شروع ہو گئی ہے۔ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ اساتذہ نے مختلف مضامین کے ساتھ ساتھ اردو زباندانی پر بھی محنت شروع کردی ہو گی ۔ ادھر کچھ عرصے میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ ممبئی کے مقابلے میں مہاراشٹر کے دیگر شہروں جن میں بھیونڈی، مالیگائوں، اکولہ ، اورنگ آباد، پونے ، شولاپور ،عثمان آباد،امرائوتی اور ناگپور شامل ہیں، میں اردو زباندانی کی تدریس زیادہ بہتر طریقے سےہو رہی ہے جس کا واضح ثبوت یہاں کے طلبہ کی اردو زبان و ادب سے متعلق مقابلوں اور سرگرمیوں میں نمایاں شرکت اور کامیابی ہے۔ساتھ ہی ان شہروں میں زباندانی کی تدریس کا ایسا ماحول قائم ہےکہ یہاں کے سیکڑوں اسکولوں میں زبان کو مسلسل بہتر بنانے پر زور دیا جارہا ہے۔ کل تک یہ اعزاز ممبئی کو حاصل تھاکہ یہاں کے طلبہ پوری ریاست میں اردو زباندانی کے معاملے میں چھائے ہوئےتھےلیکن اب یہ اعزاز بھیونڈی یا مالیگائوں کے طلبہ کو حاصل ہو گیا ہے۔ہم نے اس سلسلے میں چند کریئر کونسلرس، اساتذہ اور موٹیویشنل اسپیکرس سے گفتگو کی اور ان سے وجوہات جاننے کی کوشش کی کیوںکہ یہ افراد اِن شہروں کے اسکولوں کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔
معروف کریئر کونسلر اورمدنی ہائی اسکول (جوگیشوری ممبئی) کے پرنسپل عامر انصاری نے کہا کہ ’’اردو زباندانی کی تدریس بلاشبہ متاثر ہوئی ہے کیوںکہ کووڈ کے بعد نصاب کو اتنا آسان بنادیا گیا ہے کہ اب اس کی مدد سےہم صرف اردو کی بنیادی سمجھ رکھنے والے طلبہ ہی تیار کرپارہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایک یا دو دہائی قبل اردو زباندانی میں کافی زور پڑھنے ، سمجھنے اور لکھنے پر تھا جبکہ اب صرف سننے پر رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے طلبہ کی تحریری صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ‘‘ عامر انصاری نے ایک اور اہم وجہ یہ بیان کی کہ ممبئی میں اب اردو اسکول بند ہورہے ہیں اور ان کی جگہ سیمی انگلش یا انگلش میڈیم اسکول لے رہے ہیں۔ ان میں اگر اردو پڑھائی بھی جاتی ہے تو وہ آسان نصاب ہوتاہے۔ ایسے میں ہم امید کیسے کرسکتے ہیں کہ یہاں سے اردو کے نئے ساحرؔ، نئے ابن صفی یا نئےپریم چند نکلیں گے ۔عامر انصاری کے مطابق مہاراشٹر کے دیگر شہروں کی بات کی جائے تو یہاں اب بھی سیمی انگلش یا انگلش میڈیم کی وباء پوری طرح سے نہیں پہنچی ہے۔ اسی لئے مالیگائوں یا بھیونڈی میں ہمیں کئی بہترین اسکول مل جائیں گے۔ یہاں کے اساتذہ بھی طلبہ پر بھرپور محنت کرتے ہیںجس کا انہیں فائدہ ہو تا ہے۔
معروف کریئر کونسلر اوراستاذ شیخ اخلاق احمد کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں کے اردو طلبہ کے درمیان زبان کے استعمال میں نمایاں فرق محسوس کیا جا رہا ہے۔ممبئی جیسے شہر میں اردو طلبہ روزمرہ زندگی میں اردو کے ساتھ ہندی، مراٹھی اور انگریزی کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا اثر ان کی بول چال اور تحریر پر بھی پڑتا ہے۔ گفتگو میں اردو الفاظ کے ساتھ انگریزی الفاظ کی آمیزش عام ہو چکی ہے۔سوشل میڈیا، موبائل فون اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے اس رجحان کو مزید فروغ دیا ہے۔اس کے برعکس مہاراشٹر کے دیگر شہروں جیسے بھیونڈی ، مالیگائوں، جلگائوں، اکولہ ، اورنگ آباد اورشولاپور میں طلبہ کی روزمرہ گفتگو میں اردو کا استعمال زیادہ فطری نظر آتا ہے۔ اس کی اہم وجہ وہاں اردو میڈیم اسکولوں کا جال اور ان کے درمیان بہترین مقابلہ آرائی بھی ہے۔ہر چند کہ ان علاقوں میں خطہ کے لہجے کی آمیزش ہوجاتی ہے لیکن یہاں کے طلبہ کی تحریر اب کافی بہتر ہو گئی ہے۔ تحریری مہارت کے اعتبار سے شہری طلبہ املا، قواعد اور ادبی اسلوب پر کم توجہ دیتے ہیں جبکہ دیہی طلبہ کو جدید موضوعات پر اظہارِ خیال، تخلیقی تحریر اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو لکھنے کی مشق کی ضرورت ہے۔ اخلاق احمد کے مطابق یہ کہنا پوری طرح سے درست نہیں ہوگا کہ صرف شہری یا صرف دیہی طلبہ اردو زباندانی میں بہتر ہیں۔ دونوں طرف کمیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے لیکن آن پیپر دیکھا جائے تو فی الحال مہاراشٹر کے دیگر شہروں کے طلبہ ممبئی سے آگے نظر آتے ہیں۔
موٹیویشنل اسپیکر اور کریئر کونسلر سید سعید احمد نے ہمیں اس سوال کے جواب میں بتایا کہ ’’بھیونڈی، مالیگائوں، شولاپور اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر ادبی مقابلے ہوتے ہیں جیسے بیت بازی ، تقریری مقابلے ،شعر گوئی اور مختلف کوئز مقابلے۔ ان مقابلوں کی وجہ سے طلبہ کی شخصیت نکھرتی ہے، ان کی زبان بہتر ہوتی ہے اور ان میں کہیں نہ کہیں زبان کا شعور پیدا ہوتا ہے۔‘‘ سعید احمد کے مطابق کل تک اس طرح کے مقابلے ممبئی کے اسکولوں کا طرۂ امتیاز تھے لیکن آج ان کی جگہ بھیونڈی یا مالیگائوں کے اسکولوں نے لےلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ ممبئی میں آج بھی کئی بہترین اسکول ہیں مثال کے طور پر مدنی ہائی اسکول ،یا پھر انجمن اسلام کے کچھ اسکول جہاں زباندانی پرکافی محنت ہوتی ہے لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تومہاراشٹر کے دیگر شہر ہی بازی لے جاتے ہیں۔
کریئر کونسلر اور صمدیہ ہائی اسکول و جونیئر کالج کے سپروائزر مومن فیاض احمد نےکہا کہ ’’ممبئی کے مقابلے میں اب مہاراشٹر کے دیگر شہروں میں اردو کی سرگرمیاں بہت بڑے پیمانے پر ہورہی ہیں۔ مثال کے طور پر صرف بھیونڈی میں کئی اہم اسکولوںمیں مختلف تقریری مقابلے ، بیت بازی ، تحریری مقابلے ، شعر گوئی ، قصہ گوئی کے مقابلے ہوتے ہیں جو بلاشبہ طلبہ کی زباندانی اور اردو کی سمجھ کو بہتر بناتے ہیں۔‘‘ مومن فیاض نے یہ بھی کہا کہ ممبئی کے علاوہ ان شہروں میں آپس میں ایک صحت مند مقابلہ آرائی بھی ہےجس سے طلبہ کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہاں کے اسکولوں میں ہر ۱۵؍ سے۲۰؍ دن میں کوئی نہ کوئی مقابلہ ہوتا ہے جبکہ ممبئی میں یہ سلسلہ بہت کم ہو گیا ہے۔