ہمارے بچپن میں گرمی کی چھٹیوں کا مطلب ننہال کا سفر ہوتا تھا۔نانی کے گائوں جانا ، کھیل کود ،مستی، دھماچوکڑی یہی زندگی کے مزے تھے۔ میری عمر اس وقت شاید گیارہ برس تھی جب پنجم جماعت کا رزلٹ آیا اور میں اول نمبر سے کامیاب ہوا ۔ امی جان بہت خوش ہوئیں۔ ڈیڑھ مہینے کی چھٹیاں تھیں ۔
ہمارے بچپن میں گرمی کی چھٹیوں کا مطلب ننہال کا سفر ہوتا تھا۔نانی کے گائوں جانا ، کھیل کود ،مستی، دھماچوکڑی یہی زندگی کے مزے تھے۔ میری عمر اس وقت شاید گیارہ برس تھی جب پنجم جماعت کا رزلٹ آیا اور میں اول نمبر سے کامیاب ہوا ۔ امی جان بہت خوش ہوئیں۔ ڈیڑھ مہینے کی چھٹیاں تھیں ۔ اگلے ہی دن ننہال کا ٹکٹ کٹوا دیا ۔ میں اپنی والدہ اور بڑے بھائی کے ساتھ جو عمر میں مجھ سے محض دو سال بڑے تھے ، اپنی نانی کے ہاں گلبرگہ پہنچا ۔ یہاں پہنچ کر امی جان تو رشتے داروں سے ملاقاتوں میں مصروف ہو گئیں اور ہم دونوں بھائی لگے دھماچوکڑی مچانے ۔ ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ بڑی خالہ اپنے میکے یعنی نانی کے گھر آئیں اپنی بہن سے ملاقات کرنے ۔ اس روز اتفاق سے میرا اور بڑے بھائی صاحب کا کسی بات پر جھگڑا ہوگیا ۔ امی اورخالہ جان نے مل کر ہم دونوں کو چھڑایا اور خالہ جان نے بڑے پیار سے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ بڑوں کے ساتھ ادب سے پیش آیا کرتے ہیں ، جھگڑا نہیں کرتے ۔ امی نے غصے میں بول دیا ۔ اس کو تمیز سکھانا ضروری ہوگیا ہے۔ اب یہ شرارتی کم اور بدتمیز زیادہ ہوتا جا رہا ہے ۔
چار دن میرے گھر میں رہےگا تو خود بخود تمیز سیکھ جائے گا،یہ کہہ کر خالہ مجھے اپنے گھر لے آئیں ۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی مجھے یوں لگا جیسے میں کسی قلعے میں آگیا ہوں ۔اونچی اونچی دیواریں اور گھر میں ہر طرف پھیلی ہوئی خموشی مجھے کچھ عجیب سی لگی ۔ نانی کے گھر کا صحن کافی کشادہ تھا اور سڑک کے اس پار بڑا سا میدان تھا جہاں محلے کے سبھی بچے مل کر ہلا گلا کرتے لیکن یہاں ؟ یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا تھا ۔ خالہ جان نے تہذیب سکھانے کے بہانے مجھے اپنی دو بیٹیوں کے حوالے کردیا جو اس وقت کالج میں پڑھتی تھیں ۔ یہاں میری عمر کا کوئی بچہ بھی نہ تھا جس کے ساتھ میں کھیلتا۔ دونوں خالہ زاد بہنیں جمیل باجی اور نسرین باجی کتابوں میں سر کھپائے رہتیں اور میں اکیلا بور ہوتا ۔دو دن میں ہی میں مرجھا گیا ۔ نسرین باجی نے دیکھا تو کہنے لگیں ، یوں منہ لٹکائے کیوں پھرتے ہو ؟ میں نے کہا مجھے کھیلنا ہے ۔باجی بولیں پڑھوگے لکھوگے تو بنوگے نواب، کھیلوگے کودوگے تو بنوگے خراب۔ میرے پلے کچھ نہ پڑا اور میں کمرے میں پڑا منہ بسورتا رہا ۔ کچھ دیر بعد باجی خود ہی میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں ۔
ابا جان کے کمرے میں ڈھیر ساری کتابیں ہیں ۔وہاں سے کوئی کہانی کی کتاب تلاش کرتے ہیں ، میں نے حامی بھر لی ۔ مشکل یہ تھی کہ مجھے خالو کی مونچھیں پسند نہیں تھیں اس لئے ان کے ہوتے ان کے کمرے میں جانے سے ڈر لگتا تھا ۔ میں ان کے باہر جانے کا انتظار کرنے لگا ۔کچھ دیر بعد جب وہ کسی کام سے باہر چلے گئے تو باجی دوڑتی ہوئی آئیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر خالو کے کمرے میں لے گئیں ۔ کمرہ کیا تھا ، ایک چھوٹی سی لائبریری تھی جہاں شیشوں کی الماریوں سے جھانکتی موٹی موٹی کتابیں ہمارا منہ چڑا رہی تھیں کیونکہ خالو الماریوں کو تالا لگا کر کنجی اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔ میں مایوس ہوگیا لیکن باجی کے چہرے پر مجھے مسکان نظر آئی۔ وہ دھیرے سے ایک چھوٹی سی الماری کے قریب آئیں جسکا شیشہ ڈھیلا تھا۔ انھوں نے اس شیشے کو وہاں سے ہٹایا ، ایک کتاب جھٹ سے نکالی ، شیشے کو واپس کھسکا دیا اور ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ مجھے واپس اپنے کمرے میں لے آئیں ۔ میری سمجھ میں کچھ نہ آیا لیکن میں نے دیکھا کہ آتے ہی انھوں نے وہ کتاب پڑھنی شروع کردی ہے ۔ کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ باجی کبھی بے اختیار ہنس دیتی ہیں اور کبھی ان کے ہونٹوں سے قہقہہ بلند ہوتا ہے ۔ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ یہ کیسی کتاب ہے جس کو پڑھ کر کبھی باجی کی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں تو کبھی چہرے پر بلا کی سنجیدگی طاری ہوتی ہے ۔ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں باجی نے وہ کتاب ختم کردی اور واپس الماری میں رکھنے کے لئے جانے لگیں ۔میں نے راستہ روکتے ہوئے کہا ، مجھے بھی یہ کتاب پڑھنا ہے۔ باجی نے میرے سر پر دھیرے سے ایک چپت لگائی اور کہا ابھی بچے ہو ۔میرے جتنے ہو جائوگے تو پڑھ لینا ۔
پھر انھوں نے اس کتاب کو بالکل اسی انداز میں وہاں رکھ دیا جس انداز سے باہر نکالا تھا ۔ مجھے باجی پر بڑا غصہ آیا اور میں دن بھر سلگتا رہا ۔ شام ہوئی تو باجی سے کہا ۔ اچھا باجی، وہ کہانی ہی سنا دو جو آپ نے پڑھی ہے۔باجی بولیں بچُو، ابھی تمہارا دماغ اتنا بڑا نہیں ہے کہ تم ان کہانیوں کو سمجھ سکو چلو میں تمہیں ایک دوسری کہانی سناتی ہوں ....یہ کہہ کر انھوں نے مجھے ایک پری اور شہزادے کی کہانی سنائی لیکن میرا دھیان تو اس کہانی میں اٹکا ہوا تھا جو شیشے کی الماری میں بند تھی، میں ہوں ہاں کرکے کہانی سنتا رہا اور سو گیا ۔دوسرے روز جب خالو خلاف توقع کسی کام سے جلد ہی باہر چلے گئے تو میں نے باجی کے کمرے میں جھانک کر دیکھا ، وہ کچھ نوٹس لکھنے میں مصروف تھیں ۔ میں دبے قدموں خالو کے کمرے میں آیا ۔دھیرے سے الماری کے شیشے کو ہٹایا۔ چپکے سے وہی کتاب اٹھائی اور واپس شیشہ لگا کرہلکے ہلکے قدم اٹھاتا اپنے کمرے تک آگیا ۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور دل میں پکڑے جانے کا خوف بھی تھا ۔ میں نے کتاب کھولی اور صفحات پلٹے۔مجھے سخت مایوسی ہوئی ۔ مجھے لگا تھا کوئی کامکس ہوگی لیکن یہاں تو پوری کتاب میں ہی کوئی تصویر نظر نہ آئی سوائے سر ورق کے ۔ سر ورق کی تصویر بھی عجیب و غریب تھی ۔ایک خوش پوش نوجوان جس کے سر پر فلیٹ ہیٹ اور ایک ہاتھ میں بندوق تھی ۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے کتے کی زنجیر تھام رکھی تھی ۔ کتاب کا نام بھی بڑا عجیب تھا ’’تصویر کی موت‘‘ بھلا یہ بھی کوئی نام ہوا ۔ مصنف کے آگے کسی ابن صفی کا نام لکھا ہوا تھا ۔ سوچا کہ یہ بد رنگ کتاب پڑھنے سے اچھا ہے کہ بیٹھا بیٹھا بور ہوتا رہوں لیکن فوراً باجی کی مسکراہٹ اور قہقہہ یاد آیا ۔ میں نے بے دلی سے پہلا صفحہ پڑھ ڈالا ...پھر دوسرا صفحہ....پھر تیسرا ، چوتھا ، پانچواں....اور پڑھتا ہی رہا ۔ دس صفحات گزرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ کہانی عام کہانیوں جیسی نہیں ہے ۔اس میں یقیناً کوئی ایسی بات ہے جو پڑھنے والے کو باندھ کر رکھتی ہے ۔ کہانی میں وہ موڑ بھی آیا جہاں میرے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی اور قہقہہ بھی پھوٹ پڑا ۔ یہ کوئی عمران نامی کردار تھا جو اپنی اوٹ پٹانگ حرکتوں کے ذریعے قاری کو مسکرانے پر مجبور کرتا تھا۔ دو ڈھائی گھنٹوں میں میں نے وہ چھوٹی سی کتاب مکمل کرڈالی۔ درمیان میں ایک آدھ بار پانی وغیرہ پینے کے بہانے باجی کے کمرے کے چکر بھی لگا لیتا تاکہ کسی کو کوئی شبہ نہ ہو ۔
یہاں میں بتاتا چلوں کہ ہمارے وقتوں میںمطالعہ پر بہت زور دیا جاتا تھا اور دس گیارہ سال کا بچہ بھی روانی کے ساتھ کوئی مضمون یا اخبار بہ آسانی پڑھ لیتا۔ اس لئے ڈھائی گھنٹے میں چھوٹی سی کتاب مکمل کرلینا میرے لیے کوئی بڑی بات نہ تھی ۔ خیر ان ڈھائی تین گھنٹوں میں میری دنیا ہی بدل گئی اور میں نے ایک نئے جہان کی سیرکی ۔ایک عجیب سی خوشی بےچینی اور خوف کا ملا جلا تاثر تھا جسے میں بیان نہیں کر سکتا ۔ میں نے وقت دیکھا ۔ابھی دوپہر کے دو ہی بجے تھے اور کچھ ہی دیر میں دستر خوان لگنا تھا ۔ دستر خوان سجا اور سب مل کر کھانا کھانے لگے ۔کھاتے وقت مجھے اچانک عمران کی ایک اوٹ پٹانگ حرکت یاد آئی ۔میں نے بڑی مشکل سے اپنے قہقہے کو دبایا کیونکہ سامنے خالوجان تشریف فرما تھے لیکن پھر بھی دانت نکل ہی پڑے ۔ کسی کو کچھ سمجھ میں نہ آیا لیکن ایک دیوانہ دوسرے دیوانے کو برابر پہچان لیتا ہے ۔باجی نے کنکھیوں سے میری طرف دیکھا گویا کسی بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہی ہوں ۔کھانا ہونے کے بعد وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئیں اور بلا تمہید پوچھا ،تم نے الماری سے کتاب نکال کے پڑھی؟ میں نے بھی بلا جھجھک جواب دیا ہاں۔ انہوںنے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ،ابا جان کو شبہ ہوگیا تو نیا شیشہ لگوا دیں گے ۔ پھر وہ کتابیں بھی گئیں ہاتھ سے ۔
میں نے کہا ۔ میں اپنی باجی کے لئے بہت آہستہ سے کتابیں نکال لائوں گا لیکن شرط یہ ہوگی کہ مجھے بھی پڑھنے کا موقع دیا جائے ۔ہم دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور دونوں کے درمیان اسی دن یہ معاہدہ طے پایا کہ روزانہ ایک کتاب کا مطالعہ کیا جائے ۔ خالو کے باہر قدم رکھتے ہی میں ان کے کمرے میں گھس جاتا، بڑی صفائی سے الماری کا شیشہ ہٹا کر ایک کتاب نکال لاتا جو باجی کے مطابق جاسوسی ناول تھی ۔ہم دونوں اسے پڑھتے اور دوسرے دن اس ناول کو واپس رکھ کر اس کی جگہ دوسرا ناول نکالا جاتا ۔ باجی تو ان کتابوں کو کئی بار پڑھ چکی تھیں لیکن میرے لئے یہ تجربہ نیا تھا ۔میں تقریباً دو ہفتے خالہ جان کے گھر رہا اور ان دو ہفتوں میں میں نے بیس سے بائیس جاسوسی ناول پڑھ ڈالے ۔ عمران ، فریدی، حمید ، قاسم ، انور اور رشیدہ سے واقفیت یہیں ہوئی ۔
ایک دن اچانک والد صاحب مجھے واپس لے جانے کے لئے آئے تو مجھے بڑا ملال ہوا کہ اب ابن صفی سے ملاقاتیں نہیں ہوں گی ۔ عمران ، حمید اور فریدی سے جدائی کا غم بھی تھا ۔باجی بھی کچھ رنجیدہ تھیں ۔نم آنکھوں سے انھوں نے مجھے رخصت کیا اور میں گھر واپس آگیا لیکن گھر آتے ہی میری خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا جب والد صاحب کی صندوق میں مجھے ابن صفی کی ایک کتاب دکھائی دی ۔ میں نے ان کی غیرحاضری میں صندوق کی تلاشی لی تو پتہ چلا کہ یہاں بھی کم از کم چالیس سے پچاس جاسوسی ناول موجود ہیں ۔میں نے خوشی خوشی باجی کو خط لکھ کر بتایا کہ میرے ہاتھ یہاں خزانہ لگ گیا ہے ۔
اس طرح ایک کتاب نے( جو چرائی گئی تھی) مجھ میں پڑھنے کا وہ ذوق پیدا کیا کہ میں روزانہ ایک ناول پڑھنے لگا ۔عمر کے ساتھ ساتھ مطالعہ کا شوق بڑھتا گیا اور آج تک یہ شوق برقرار ہے ۔ اب ابن صفی کے علاوہ دیگر ادبی کتابیں ، رسائل اور ماہنامے بھی پڑھے جاتے ہیں۔ مطالعے کی اس عادت نے مجھے دوستوں میں ممتاز بنا دیا ہے ۔ آج بھی میں یاد کرتا ہوں کہ اس کی ابتدا میں نے کتاب چرا کر کی تھی مگر میری نظر میں اس وقت یہ ایک خوبصورت چوری تھی کیونکہ اس چوری میں کسی کا نقصان یا دل آزاری نہیں تھی ۔