مضمون نگار نے شہریوں کے تین اہم اختیارات (ووٹ، عدالت اور احتجاج) کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے اب اُن کے پاس صرف احتجاج کا اختیار رہ گیا ہے اور وہی استعمال کیا جارہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 2:45 PM IST | Aakar Patel | Mumbai
مضمون نگار نے شہریوں کے تین اہم اختیارات (ووٹ، عدالت اور احتجاج) کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے اب اُن کے پاس صرف احتجاج کا اختیار رہ گیا ہے اور وہی استعمال کیا جارہا ہے۔
تین جمہوری ہتھیار ووٹ، عدالت اور احتجاج شہریوں کے پاس ہیں۔ ان میں سے واحد ذریعہ جس پر ہندوستانیوں کا حقیقی اختیار ہے وہ ’احتجاج‘ ہے۔ عموماً ووٹ دینے کے عمل کو ہی جمہوریت سمجھ لیا جاتا ہے۔ کیا انتخابات کے درمیانی وقفے میں جمہوریت کا وجود ختم ہو جاتا ہے؟ کئی دہائیوں تک، ہندوستان میں انتخابی عمل کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوتا رہا لیکن وہ دور اب گزر چکا ہے۔
آئین کے مطابق، ۱۸؍ سال سے زائد عمر کا ہر وہ ہندوستانی شہری ووٹر بن سکتا ہے اگر وہ کسی قانون کے تحت، رہائش نہ ہونے، ذہنی عدم توازن، کسی جرم یا بدعنوانی یا غیر قانونی عمل کی بنا پر نااہل قرار نہ دیا گیا ہو۔ موجودہ الیکشن کمیشن کیلئے یہ آئینی ہدایت شاید `مشورے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کمیشن یہ کیوں فرض کر لیتا کہ کروڑوں لوگوں کو بلاوجہ شدید ذہنی کوفت اور صدمے سے دوچار کرنے کا اس کا عمل بلا روک ٹوک جاری رہے گا؟
اگر گزشتہ چار ہفتوں کے دوران کمیشن کی جانب سے کئے گئے فیصلوں کی واپسی (Rollbacks) اور جاری کردہ وضاحتوں کا جائزہ لیا جائے، تو ایسی تقریباً ایک درجن مثالیں سامنے آتی ہیں۔ ان میں ایک ’خصوصی اندراج کی مہم‘ شامل ہے تاکہ جو لوگ چھو‘ٹ گئے ہیں اُن کا نام دوبارہ شامل کیا جا سکے۔ اس کے بعد بھی الیکشن کمیشن نے اپنے کئی فیصلوں میں ترمیم کی ہے جس کی تفصیل خبروں کے ذریعہ ہم تک پہنچی رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں حالیہ دنوں میں الیکشن کمیشن نے ’’سرچیبل ووٹر لسٹ‘‘ جاری کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ اب تک وہ اس مطالبہ کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔
اقدامات کی تعداد اس کاہلی کو ظاہر کرتی ہے جس کے ساتھ یہ مہم شروع کی گئی تھی۔ جس رفتار سے اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ گھبراہٹ کا اشارہ ہے۔ اس انکشاف سے کہ کمیشن کے اکثریتی فیصلوں کو نظر انداز کیا جا رہا تھا، بہت کم لوگوں کو حیرانی ہوئی ہوگی۔ کیا یہ بعد میں ہونے والی اصلاحات، رول بیک اور جائزے اس گڑبڑ کو حل کریں گے؟ ہرگز نہیں۔ ہم یعنی تمام ہندوستانی شہری کئی درجوں میں تقسیم ہوچکے ہیں : بہتوں کے نام لسٹ میں ہیں، بہتوں کے نام حذف ہوچکے ہیں، بہتوں کو معلوم ہی نہیں کہ اُن کا نام ہے یا نہیں، بہتوں نے اپنا نام حذف ہونے کے سبب اپیل کررکھی ہے اور بہتوں کو پتہ ہی نہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ اسی کیفیت میں بنگال جیسی ریاستو ں میں انتخابات ہوبھی چکے اور نئی حکومت بن بھی چکی۔
ہمارے پاس دوسرا جمہوری ذریعہ ’عدالت‘ ہے۔ آئین کی دفعہ ۳۲؍ کہتی ہے کہ بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے عدالت سے رجوع کرنے کا ہمارا حق ’ضمانت شدہ‘ ہے۔ غور کریں کہ جس چیز کی ضمانت دی گئی ہے، وہ عدالت سے رجوع کرنے کی آزادی ہے۔ اس کے بعد عدالتی کارروائی میں کیا ہوتا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے بہترین وکلاء پہلے ہی صورتحال پر تبصرہ کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرح، عدلیہ کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔
تیسرا جمہوری ذریعہ ’احتجاج‘ ہے۔ یہ واحد ایسا ذریعہ جس پر ہمارا حقیقی اختیار ہے۔ اہل اقتدار کو یہ بتانا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے حقوق پامال کئے گئے ہیں اور یہ سلسلہ رکنا چاہئے۔ حکومت ہمارے ووٹ کے ساتھ کھلواڑ کر سکتی ہے (جیسا کہ وہ کر رہی ہے)، اور نظامِ انصاف بھی، جو ایگزیکٹو (انتظامیہ) کے تابع ہو کر کام کرتا ہے، ہمارے ساتھ کھیل کھیل سکتا ہے۔ تاہم، ہمارے جسم پر اپنا تسلط جمانا اس کیلئے مشکل ہے، اگرچہ وہ اس کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ’احتجاج‘ ہمارا سب سے مؤثر ہتھیار ہے جو آئینی حق بھی ہے اور جمہوری طریقہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اسے روکنے، محدود کرنے اور دبانے کچلنے کیلئے اپنی پوری توانائی صرف کر دیتی ہے۔
زرعی قوانین (Farm Laws) ختم ہو چکے تھے مگر یاد کیجئے ان کے خلاف کس طرح دسیوں ہزار کسان متحرک ہو کر دہلی پہنچے تھے۔ حکومت کو ان قوانین کو باضابطہ طور پر منسوخ کرنے میں پورا ایک سال لگا؛ اتنا طویل عرصہ ا سلئے ضائع ہوگیا کیونکہ حکمراں طبقہ یہ نہیں دکھانا چاہتا تھا کہ اسے عوام کے سامنے جھکنا پڑا ہے۔ لیکن جس لمحے یہ عوامی تحریک اٹھی، اسی وقت بہت سوں پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ جیت عوام کی ہی ہوگی۔
’نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز‘ یعنی این آر سی کے خلاف ہونے والے احتجاج کی قیادت کرنے والی بہادر مسلم خواتین نے اس بات کو یقینی بنایا کہ جو کچھ آسام میں ہوا، وہ بھارت کے دیگر حصوں میں نہ دہرایا جائے۔ یہ سچ ہے کہ اس ’نیشنل رجسٹر‘ کی جانب جانے والا راستہ بالآخر ہمیں اسی منزل کی طرف لے جائیگا، لیکن حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کیلئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ چاہے بی جے پی کی قیادت کروڑوں لوگوں کو شہریت سے محروم، حقوق سے بے دخل اور حراستی مراکز میں قید کرنے کے تصور سے کتنی ہی خوش کیوں نہ ہوتی ہو۔ پرامن اجتماع (آئین کا آرٹیکل ۱۹ ) ایک بنیادی حق ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسے حکومتی مداخلت سے اعلیٰ درجے کا تحفظ حاصل ہے۔ لیکن عملی طور پر، گزشتہ برسوں کے دوران آزادیٔ اظہار اور کسی جگہ جمع ہونے کی آزادی پر حکومتی مداخلت حاوی ہو گئی ہے۔ اب نوٹیفائڈ ایریاز (احتجاج کے نامزد مقامات) پربھی یکجا ہونے اور احتجاج یا مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ جنتر منتر کے معاملے میں ہم نے دیکھا کہ سی جے پی کو اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس دوران وزارت داخلہ کے ایک فیصلے کے بعد دہلی پولیس نے جنتر منتر کو نوٹیفائڈ ایریا کے زمرے سے نکال دیا اور دیگر تین جگہوں کو جو کافی دور ہیں، احتجاج کیلئے مختص کیا۔
ہم نہیں جانتے کہ اہل اقتدار کا جبر کب تک جاری رہے گا، آئندہ اس میں نرمی لائی جائیگی یا مزید سختی پیدا کی جائیگی، ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ جن مقاصد کیلئے احتجاج کیا جارہا ہے وہ مقاصد حاصل ہوں گے یا نہیں مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کیلئے، یہ ہمارے دور کی سب سے حوصلہ افزا بات ہے کہ ایک سخت گیر اور آمرانہ طرز عمل اپنانے والے حکمراں طبقہ کو آخر کار ہمارے نوجوانوں نے ایک پرجوش، جمہوری اور پُرامن عوامی ردعمل کے ذریعے چیلنج کیا ہے۔