• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یواے پی اے ملزمہ نتاشا نروال کو ملی پی ایچ ڈی کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت

Updated: October 17, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

یواے پی اے ملزمہ نتاشا نروال کو پی ایچ ڈی کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی، دہلی فسادات کی ملزمہ اور طلبہ لیڈرنےدہلی ہائی کورٹ سے درخواست کی تھی کہ انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی پی ایچ ڈی سےمتعلق تحقیقی کام مکمل کر سکیں۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ یو اے پی اے کے تحت درج کوئی بھی مقدمہ کسی شخص کے بیرون ملک سفر کرنے کے حق پر بنیادی طور پر کوئی مکمل یا عمومی پابندی نہیں لگا سکتا۔

Natasha Narwal. Photo: X
نتاشا نروال۔ تصویر: ایکس

 دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کی ملزمہ نتاشا نروال کو تعلیمی مقاصد اور اپنے پی ایچ ڈی سپروائزر سے ملاقات کیلئے برطانیہ (یو کے) جانے کی اجازت دے دی ہے۔جسٹس امیت بنسل نے ۱۶؍ اکتوبر کو یہ حکم جاری کیا اور ٹرائل کورٹ کے ۶؍ اکتوبر کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔یہ حکم سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی یو اے پی اے کے تحت درج کوئی بھی مقدمہ کسی شخص کے بیرون ملک سفر کرنے کے حق پر بنیادی طور پر کوئی مکمل یا عمومی پابندی نہیں لگا سکتا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں مشاہدہ کیا، ’’صرف اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ملزمہ پر یو اے پی اے کے تحت سنگین الزامات عائد ہیں، ان کے بیرون ملک سفر کرنے کے حق کو یکسر اور عمومی انداز میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔‘‘لہٰذا، عدالت نے انہیں ایک لاکھ روپے کے ذاتی بانڈ اور اپنے بھائی کو بطور ضمانتی پیش کرنے کی شرط پر سفر کرنے کی اجازت دی۔ جسٹس امیت بنسل نے مزید کہا کہ وہ برطانیہ میں پناہ کیلئے درخواست نہیں دیں گی اور نہ ہی اپنے خلاف زیرِ التواء مقدمات پر کوئی تبصرہ کریں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’مودی حکومت کو ہراکر نظام بدلنا اپوزیشن کا ہدف ہے‘‘

واضح رہے کہ نتاشا نروال یونیورسٹی آف واروک سے پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور انہوں نے لندن میں ایک بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس میں شرکت کیلئے اجازت مانگی تھی، جہاں ان کا تحقیقی مقالہ (ریسرچ پیپر ) بعنوان ’’جینڈرڈ کارسرل لیبر ایز سوشل ری پروڈکشن‘‘  پیش کرنے کیلئے قبول کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی سپروائزر سے ملاقات کرنے اور یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے کیلئے بھی اجازت طلب کی تھی۔حکومت نے ان کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے یہ دلیل دی تھی کہ وہ اپنی تعلیمی مصروفیات ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی جاری رکھ سکتی ہیں اور برطانیہ کا سفر اس صورت میں مشکلات کا سبب بن سکتا ہے اگر وہ وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کر دیں۔اس معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ نے نوٹس لیا کہ نتاشا نروال اکتوبر ۲۰۲۳ء میں داخلہ لینے کے بعد سے اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم ریموٹلی (آن لائن) جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے سپروائزر نے انہیں ذاتی طور پر ملاقاتوں، ڈاکٹریٹ کی ٹریننگ اور تحقیقی سرگرمیوں کیلئے خصوصی طور پر مدعو کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’شہریت کا فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن آف انڈیا کا کام نہیں‘

مزید برآں عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مقدمات کی سماعت ختم ہونے میں کافی طویل وقت لگ سکتا ہے اور اس بات کا کوئی الزام نہیں ہے کہ ضمانت ملنے کے بعد سے انہوں نے ضمانت کی کسی بھی شرط کے خلاف ورزی کی ہے۔لہٰذا، عدالت نے ان کے سفر کی درخواست منظور کر لی۔نتاشا نروال کی جانب سے ایڈوکیٹ ادت ایس پجاری، چیتنیا سندریال، منویندر سنگھ شیکھاوت اور ہرشوردھن پشکن شرما پیش ہوئے۔جبکہ دہلی پولیس کی نمائندگی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایس وی راجو، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز (ایس پی پی ) مدھوکر پانڈے اور ایودھیا پرساد نے کی، جن کے ساتھ ایڈوکیٹ دھرو پانڈے، آروش بھاٹیا، سروجیت سنگھ اور ایشیکا سنگلا بھی موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK