سپریم کورٹ نے ساتھ ہی جنتر منتر کو دہلی پولیس کی جانب سے’’ڈی نوٹیفائی‘‘ کرنے اور مہاراشٹر ایس آئی آر میں لاکھوں نام خذف ہونے پر بھی نوٹس جاری کئے۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 9:23 AM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ نے ساتھ ہی جنتر منتر کو دہلی پولیس کی جانب سے’’ڈی نوٹیفائی‘‘ کرنے اور مہاراشٹر ایس آئی آر میں لاکھوں نام خذف ہونے پر بھی نوٹس جاری کئے۔
گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنرس کو نوٹس
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران کی گئی کارروائی اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کو لے کرجمعرات کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور انڈیا بلاک کے دیگر لیڈران کی عرضی پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنرس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی راہل گاندھی کے حامیوں کے ساتھ سپریم کورٹ آنے پر وضاحت بھی طلب کی ہے۔سپریم کورٹ نے ایس آئی آر سے متعلق اپوزیشن پارٹیوں کی مشترکہ عرضی پر نوٹس جاری کیا اور تینوں الیکشن کمشنرس سے جواب مانگا ہےکہ ایس آئی آر کے نام پر کروڑوں نام کیسے حذف ہوئے۔ لیکن اس سےقبل چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے کہا کہ عرضی پر فیصلہ سنانے سے قبل عرضی دہندگان کو اپنے رویہ پر وضاحت پیش کرنی ہوگی۔ اپوزیشن پارٹی لیڈران کی اس مشترکہ عرضی میں مجموعی طور پر۱۳؍ عرضی دہندگان ہیں لیکن سپریم کورٹ نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ کس عرضی دہندہ کے رویہ پر اسے اعتراض ہے۔اس درمیان احتجاجی مظاہروں سے منسلک معاملوں میں کئی وکلا کے مطالبہ پر سپریم کورٹ نے سبھی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ احتجاجی مظاہرہ سے جڑے واقعات کے سبھی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھیں اور انہیں عدالت میں پیش کریں تاکہ ان پر غور کیا جاسکے اور مناسب احکامات جاری کئے جاسکیں۔
جنتر منتر کے معاملے میں جواب مانگا
سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکزی حکومت سے اس درخواست پر جواب طلب کیا ہے جس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے دہلی کے جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی حیثیت سے خارج کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کے بیانات میں بھی تضاد سامنے آیا ہے۔دہلی پولیس نے ۱۳؍ اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے ۹؍ اکتوبر کے حکم کی بنیاد پر کیا گیا ہے، تاہم جمعرات کو مرکزی حکومت نے اس دعوے کی تردید کردی۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالاباغچی پر مشتمل بنچ نے مرکز سے اس معاملے میں وضاحت طلب کی۔
یہ بھی پڑھئے: اورنگ آباد: کانگریس کا کسانوں کیلئے ’جن آکروش مورچہ‘
مرکز کی جانب سےسالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم کی بنیاد پر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کمیٹی بہت پہلے تشکیل دی گئی تھی اور اس نے اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر ایڈوکیٹ مکتاگپتا نے پرامن احتجاج کے شہریوں کے بنیادی حق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے احتجاج کے حق کو محض اس بنیاد پر ختم نہیں کیا جاسکتا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکاہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی صرف چند مخصوص لوگوں کے لیے نہیں ہے اور شہریوں کو اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کا حق حاصل ہے۔بہرحال کورٹ نے نوٹس جاری کردیا ہے۔
مہاراشٹر ایس آئی آر پر۴؍ ہفتے میں جواب طلب
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) میں بڑے پیمانے پر نام ہٹائے جانے کے الزامات پر جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر کے ۴؍ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی بھی فیصلہ قانون کے مطابق نہیں پایا گیا تو اسے منسوخ کر دیا جائے گا۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے کی۔عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران ۳۳؍ فیصد ووٹرس کے نام ہٹا د ئیے گئے ہیں۔ تصدیق کا عمل نامکمل ہونے، فارم جمع نہ ہونے اور تکنیکی دشواریوں کے باعث ایک کروڑ سے زائد لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب پائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں ایس آئی آر، الیکشن کمیشن اور دہلی میں احتجاج کو لے کر مجموعی طور پر ۲۶؍ عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے اشارہ دیا کہ عدالت عظمیٰ ایس آئی آر سے متعلق مسائل کو عمومی طور پر نہیں بلکہ ریاست وار یعنی ہر ریاست کے لئے الگ الگ طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرے گی۔عرضی میں سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک آزاد کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے، تاکہ مقررہ مدت کے اندر ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے اور ان میں ترمیم کرنے کے عمل کا مکمل اور آزادانہ آڈٹ کیا جا سکے۔