• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بچوں کو انٹرنیٹ سے دور نہیں رکھا جا سکتا، یہ ان کا بنیادی حق ہے‘‘

Updated: October 18, 2026, 9:47 AM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آن لائن خطرات سے بچانے کے نام پر بچوں کو انٹر نیٹ سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

Supreme Court. Photo: INN.
سپریم کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

سپریم کورٹ نے بچوں کے انٹرنیٹ استعمال کرنے کے حوالے سے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ تک رسائی اور اس کے استعمال کا حق ہر شخص کا بنیادی حق ہے اوراس میں بچے بھی شامل ہیں، خواہ ان کی عمر کچھ بھی ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے نام پر انہیں انٹرنیٹ سے مکمل طور پر محروم نہیں کیا جا سکتا۔ بچوں کی حفاظت اور ان کی آزادی ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں بلکہ بچے دونوں کے حقدار ہیں۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس ونود چندرن کی بنچ نے کہا کہ انٹرنیٹ تک رسائی اور اس کے استعمال کا حق آئین کی دفعہ ۲۱؍ اور دفعہ ۱۹؍( ۱)(اے) کے تحت بنیادی حق ہے۔ عدالت کے مطابق بچوں کو اس حق سے مکمل طور پر محروم کرنا اتنا ہی غلط ہوگا، جتنا یہ ماننا کہ ایک مخصوص عمر سے کم بچوں میں عقل و شعور یا اظہار رائے کی آزادی نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس سوال پر غور کیا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لئے کیا انہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے مکمل طور پر دور رکھا جانا چا ہئے؟عدالت نے انٹرنیٹ کو خیالات، تخلیقی اظہار اور معلومات کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ اس کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہے، بلکہ بالغوں اور بچوں دونوں کو معلومات تک رسائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ کئی بچوں کے لیے خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کے لیے انٹرنیٹ سیکھنے اور معلومات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں بچوں کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر دور رکھنا ان کے سیکھنے، معلومات حاصل کرنے اور اپنی بات پیش کرنے کے مواقع کو محدود کر سکتا ہے۔ کورٹ نے واضح کیا کہ بچوں کو انٹرنیٹ کا حق دینے کا مطلب ان کی آن لائن سیکوریٹی کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ بچوں کو جنسی استحصال، بدسلوکی اور دیگر آن لائن خطرات سے بچانا بھی ضروری ہے۔ اسی تناظر میں بنچ نے کچھ ہدایات جاری کیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK