دیویکا بائی شندے: پاردھی سماج کی ایک دلیر خاتون

Updated: March 30, 2021, 2:11 AM IST | Shahid Nadeem

پاردھی مہاراشٹر کی ایک بنجارہ ذات ہے، شہر کی عورتیں، پاردھی عورتوں کی زندگی اوراس مشکلات اور جدوجہد کا تصوربھی نہیں کرسکیں ، پچھڑا پن ، پسماندگی اور دوسروں کی حقارت نے ان کی زندگی کو مشکل بنادیاتھا۔

Pardhi Society
پاردھی سماج

پاردھی مہاراشٹر کی ایک بنجارہ ذات ہے، شہر کی عورتیں، پاردھی عورتوں کی زندگی اوراس مشکلات اور جدوجہد کا تصوربھی نہیں کرسکیں ، پچھڑا پن ، پسماندگی اور دوسروں کی حقارت نے ان کی زندگی کو مشکل بنادیاتھا۔ دیویکا بائی شندے اسی سماج کی ایک دلیر خاتون تھیں ، جنہوں نے کڑی مخالفت کے باوجود باعزت زندگی گزاری ، ان کی جدوجہد اور زندگی کے حالات کی یہ کہانی شری گریش پربھونے  ان کی ہی زبانی کتاب ’پالواں چا جبڑے ‘ میں تحریر کئے ہیں۔
  میں تقریباً چھ برس کی تھی، گھر میں کل سات بہنیں اور دوبھائی تھے، بہنوں کی شادی ہوچکی تھی، میں سب سے چھوٹی تھی، ان دنوں ہم منگل ویٹرا میں رہتے تھے، ماں صبح سویرے لوگوں کے دروازے روٹی مانگنے جاتی۔ میں اپنے جھوپڑے کے آس پاس سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی ، پڑوس میں (دیگر بنجارہ دانوں) بیرڈ ، نندی ولے ، ویدو وغیرہ کے جھوپڑے تھے، سب ہماری طرح غریب اور مفلس تھے۔ بیرڈوں کی کَمّا میری سہیلی تھی، ان میں سے چند تھے جو چھوٹے موٹے کام کرتے ، کوئی بندر نچاتا، کوئی کچھ اور کرتا لیکن ہمارا کوئی روزگار نہیں تھا۔دن بھر جھوپڑے سنسان رہتے ، شام کو سب لوٹتے ، خوب شور مچتا اور دیر رات تک جاری رہتا۔ میرے ماں باپ بھی آپس میں خوب جھگڑتے۔ کمسن تھی تبھی سے میرے رشتے آنے لگے تھے۔  شروع میں تو میں تو ماں باپ نے منع کیا۔ ایک روز کَمّانے پوچھا ، اسکول چلے گی؟اسکول کیا ہوتا ہے؟اسکول ، اسکول ہوتا ہے ، ماسٹر ہوتا ہے ، پڑھاتا ہے ، مارتا بھی ہے۔کیوں مارتا ہے؟پتا نہیں، اسکول نہ جاؤ تو باپ بیدسے مجھے پیٹتا ہے۔  میں کیسے چلوں؟میرا بھائی کھیت گیا ہے اس کی پائی (سلیٹ) تمہیں دیتی ہوں، تم بھی چلو۔ میں کما کے ساتھ اسکول گئی۔ اسکول جیل کی طرح بڑا تھا، بہت ڈر لگا ایک بار بہن کے شوہر سے ملنے ماں کے ساتھ جیل گئی تھی تب بھی ایسا ہی ڈر لگا تھا، کمّا کے پیچھے اک چھپ کرتی اندرگئی۔ بہت سے لڑکے لڑکیاں تھے،
  ماسٹر نے نام پوچھا ، میں بول نہیں پارہی تھی، کَمّا نے بتایا دیویکا، نام دیوی کا تھا مگر سب اسی طرح پکارتے ۔ ’’پاردھی ہے ؟‘‘ میں نے یاد کرنے کی کوشش کی ’بھیک مانگنے جاتا ہے ، ماں سے جھگڑا کرتا ہے ، شکار کچلتا ہے اورکیا کرتا ہے‘‘ میں خاموش کھڑی رہی ، روزا سکول آنا ، ماسٹر نے کہا۔ میں نے دیکھا ماں کلاس   کے دروازے  پر کھڑی چلا رہی تھی، ’’ تو یہاں کیا کررہی تھی ‘میں اسکول میں پڑھ رہی ہوں، میں نے جواب دیا، ڈرسے کانپ رہی تھی، 
 اسکول میں پڑھ کرکیا کرے گی، ماں نے بالوں سے پکڑ کر مجھے گھسیٹا  اور پیٹھ  پر دوگھولنے جڑدیئے۔دوپہر کو ماسٹر گھرآئے، پوچھا دیویکا کو اسکول کیوں نہیں بھیجا، اسکول اسے اچھا لگتا ہے ، میں داخلہ کرادیتا ہوں۔’رہنے دو‘ اسکول جائے گی تو گھر کا کام کاج کون کرے گا۔ ہماری برادری میں پڑھی لکھی لڑکی سے کوئی شادی نہیں کرتا، ماں نے جواب دیا اور میں گھر میں ہی رہ گئی۔
 باپ بیمار تھا۔ شولاپور کے سول اسپتال میں بھرتی تھے بازوالی بستر پربھی ایک پاردھی تھا۔ جان پہچان ہوئی تواس نے باپ سے کہا، بیٹے کی شادی کرنی ہے  ، تیری بیٹی  خریدوں گا  چار ہزاردوں گا۔ باپ کو پیسوں کی ضرورت تھی ، بیماری کی وجہ سے خرچ  بڑھ گیا تھا۔پنیلا میں ہماری زمین ہے، میرے سسر بڑے تگڑا  آدمی تھے، ہرنوں کا شکار کرکے انہوںنے زمین خریدی تھی، ایک دن میری نند بتانے لگی کہ ہمارے شوہر کی پہلے بھی شادی ہوچکی تھی۔ سن کر مجھے بہت صدمہ پہنچا۔
 شکار کرنا اورکھیت میں کام کرنا مجھے نہیں آتا تھا، ماں بھیک مانگنے جاتی اور باپ شکار کرتے۔ بھائی بھی کچھ نہ کچھ کرتا،  میں جھوپڑے کے آس پاس کھیلتی رہتی۔ گھر کا کام آتا تھا، کبھی کسی اور چیز کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا، ایک روز میرے سسر گھر کے لوگوں کے ساتھ مجھے بھی لے کر نکلے۔ ہم سات آٹھ لوگ گاؤں کے باہر آئے اور کھیتوں میں گھس گئے۔ جوار کی فصل تیارتھی ، سب جلدی جلدی جوار کی بالیاں توڑ کر تھیلوں میں بھرنے لگے۔ میرے ہاتھ  پاؤں خرگوش کی طرح کانپ رہے تھے۔ گلا خشک ہوگیا ۔ پہلے کبھی  ایسا کام نہیں کیا تھا۔
     سسر کی موت پر سب جمع ہوئے، میری بہن کی لڑکی ، میرے چچا سسر کے بڑے بیٹے سے بیاہی تھی، اسے بھی سسرال میں کام نہ کرنے کا بہانہ بناکر ایسی جگہ مارا گیاتھا کہ وہ چل نہیں سکتی تھی، میرا بھائی بھی آیاتھا، اس دن بہن کی لڑکی کی بات پر جھگڑا ہوا، میں بھی لڑرہی تھی، میری بہن کی وجہ سے جھگڑا ہوا اس لئے سب کا کہنا تھا کہ شوہرمجھے چھوڑدے۔ میں نے احتجاج کیا تو شوہر نے جلتی لکڑی سے مجھے پیٹا، اوراس دن کے چھوڑدیا، میرے پیٹ میں بچہ تھا۔ پیدا ہوا تو باپ نے شوہر کو بلوایا ، وہ نہیں آیا۔ بھائی نے اس پر مقدمہ دائر کردیا، وہ مجھے لینے آیا، عدالت  میں لکھ کر دیا کہ اب و ہ مجھے ٹھیک طرح رکھے گا۔ میں ساتھ رہنے لگی۔
 پاردھیوں کیلئے پولیس ملک الموت کی طرح ہوتی ہے ، وہ جتنا اپنے گھر والوں کو نہیں پہچانتے، اس سے زیادہ پاردھیوں کو پہچانتے ہیں۔پاردھی کے بازار میں داخل ہوتے ہی جانے کہاں سے کٹھل کی طرح نمودار ہوجاتے ہیں۔ پنڈت بھونسلے کی بہن پانگری کے گوپی ناتھ پوار کے گھر بیاہی تھی، اس کا شوہر فرار ہوگیا تو پولیس اسے پکڑلے گئی، ساتھ بچہ بھی تھا، جو چوری اس نے کی ہی نہیں تھی، اسے قبولوانے لگے، اس نے انکار کیا تو اس  ماردیا۔ پولیس  نے اسے باہر سڑک پر پھینک دیا۔ اس نے زندگی بھر شوہر کو چوری کرنے سے روکا تھا، بچوںکو اسکول میں پڑھایا، تعلیم دلوائی لیکن اس کی قسمت میں ایک پاردھی عورت کی ہی موت لکھی تھی ، کتے کی موت۔ 
 مہاکینہ کے میرے چاچا سسرنے اپنے بچوں کو پڑھایا، ایک بیٹا کولہاپور میں پہلوان ہے، منجھلا نیم چند بارہویں پاس کرکے تلاٹھی بن گیا ۔ چھوٹا سمیر گومتوپریشد کا رکن ہے ، ایک بار سمیر نے بتایا کہ شولاپور  میں برادری کا جلد ہے، سبھی پاردھی جمع ہوں گے۔ پونے بمبئی سے نیتا آئیں یہ سن کر بوڑھے شیواجی نے کہا پرمیشوربھی پاردھیوں کو اکٹھا نہیں کرسکتا۔اب کی بات  غلط ثابت ہوئی۔ ۲۴؍۲۵؍ اور ۲۶؍ جنوری ۱۹۹۲ء کوپاردھیوں کا پہلا جلسہ ہوا، دوسروں کی طرح مجھے بھی محسوس ہوا کہ یہ بھی پولیس کی کوئی سازش ہوگی، باقی لوگ چولا کے بیل کی طرح سج دھج کرآئیں اور آگے نکل جائیں گے ، پاردھی گومرکے کیڑوں کی طرح گورمیں ہی پڑے رہیں گے، ہماری کوئی دنیا نہیں کوئی قسمت نہیں۔ جدھر قدم لے جائیں اُدھر دوڑنے لگیں۔ کولہو کے بیل کی طرح گول گول گھومنا اورایک روز کسی راستے کے کنارے فٹ پاتھ پر، جنگل یا گاؤں میں درخت تلے جان گنوادینا۔ وہ زمین بھی اپنی نہیں۔ کیا پاردھی انسان نہیں ہوتے۔
    میں شوہر بچوں اور دیور سمیت جلسہ میں موجودتھے، بہت  پاردھی جمع تھے ، اسٹیج سے اعلان ہورہا تھا، ہم پاگلوں کی طرح کبھی سنتے کبھی آپس میں لڑپڑتے۔ پولیس اورظالم جیسے سن کر تالیاں بجاتے، اچانک کسی وجہ سے پاردھیوں میں ہاتھا پائی ہونے لگی۔ ایک نے کٹار نکال لی۔ سامنے والے کے پیٹ میں اتارنے ہی والا تھا کہ اسٹیج سے تقریر کرنے والے کی نظر پڑگئی۔ اس نے کود کر مارنے والے کا ہاتھ پکڑلیا۔ وہ خود بھی زخمی ہوا۔ سب کہنے لگے پاردھیوں کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں۔
 سادہ لباس میں پولیس بھی تھی ، جس طرح  پولیس پاردھیوں کو پہچانتی ہے اسی طرح پاردھی بھی پولیس کو پہچان لیتے ہیں۔ دوپہر کو کھانا تھا اور رات میں فلم۔ فلم سے کسی کو دلچسپی نہیں تھی ۔ بتایا گیا تھا کہ رات میں جلسہ کی جگہ سے شہر نہیں جائے گا، انہیں ڈرتھا کہ پاردھی چوری نہ کریں۔
 چھ مہینے بعد بھینسوںکا میلہ لگا۔ اس میں شوہر نے ۵۲۵؍ روپے جرمانہ بھرا،  اس کے بعد میرے ہاتھ کابنا کھانا کھانے لگا۔ لیکن جلسہ کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔  پولیس آتی رہی، پاردھیوں کو پکڑتی رہی ۔ اس کے تقریباً چھ  ماہ بعد رات گاؤں میں پولیس گاڑی آئی ، کوتوال بلانے آیا۔ اس نے شوہر سے کہا تمہیں پاٹل نے بلایا ہے، گاڑی آئی ہے۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ شوہر کے ساتھ ساس، بچے بھی پولیس تھانے پہنچے۔ مہسلہ خورد میں چوری ہوئی تھی، پولیس کو شوہر پر شک تھا ، چچیرا دیور سمیر ، نیم چند ، کملا کر سسرادھو کو گرفتار کرلیا گیا۔ دودن بعد دیور حال چال لینے گیا تواسے بھی پکڑ کر اندر کردیا گیا۔ ایک مہینے حراست میں رکھا۔ کبھی تلجا پور تو کبھی کلمب میں ۔ میں شوہر سے ملنے گئی تو ملنے نہیں دیا۔ میں نے ہنگامہ کردیا تو ملنے دیا، اس پر دوکیس قائم کئے گئے۔
 رات پولیس گھرآئی ، مجھے پولیس تھانے لے جانے کے لئے۔ میں نے خوب شور مچایا۔ خودکو زمین پر ٹیک دیا، بولی عورت پولیس لاؤ تو چلوں گی۔
انہوںنے دیکھا میں نہیں مان رہی تو گھر میں رکھی اکلوتی نئی چادر اٹھالے گئے ۔ میں نے بتایا خرید کر لائی ہوں۔ رسید دکھائی تو اسے انہوںنے  پھاڑ دیا۔ ڈنڈے سے پیٹ پیٹ کر سارا سامان بکھیر کرچلے گئے۔ میں نے شکایت کرنے کا ارادہ کیا۔دوسری صبح پہلی گاڑی سے نامل واڑی گئی۔ وہاں پولیس سب انسپکٹر سے میری جھڑپ  ہوگئی۔ پندرہ دن بعد ہم سب کلمب گئے ، پتہ چلا کہ شوہر کو وہاں کی پولیس لے گئی ہے۔وہاں کے ایک انسپکٹر نے مجھے شوہر سے ملوایا۔ پھر ایک طرف لے جاکر بولا، ان دونوں کو پندرہ دن کے لئے کہیں اور لے جائیں گے ، تم اگرتین ہزار دے دو تو اسے کسی اور جگہ نہیں بھیجوں گا۔
  میں گھرآئی ادھارلیا، کچھ بکریاں بیچیں۔  دوہزار لے جاکر انسپکٹر کو دیئے، دوسرے پولیس والوں کو پچاس پچاس  روپے دیئے ، وکیل نے بھی روپے لئے پھر بھی انہیں حراست میں ہی رکھا، چار دن بعد میری چچیری ساس چار ہزار لے کرگئی۔ وہ بھی لے لئے مگر نہیں چھوڑا۔ رات ہم نے بس اسٹینڈ پر گزاری ، غنڈے موالی آس پاس سیٹی بجاتے گزرجاتے۔ ہم سونہیں سکے ۔ صبح وکیل سے مقدمے کے کاغذات لے کر عثمان آباد گئے۔ وہاں دوسرا وکیل کرنا پڑا۔ اس نے اورنگ آباد سے آرڈر لینے کو کہا۔ ہر ایک کا چار چار ہزار روپے لئے لیکن کوئی کام نہیں کیا۔
  ساڑھے چار مہینے تک میں دوڑ بھاگ کرتی رہی۔ پولیس ، وکیل ، عدالت سب جگہ گئی ۔ سب کو روپے دیئے مگرکسی نے کچھ نہیں کیا۔ کل پچاس ہزار خرچ ہوئے، کسی نے قرض لیا، کسی  نے زیورات  بیچے  ، ہم نے کنویں کے لئے بینک سے قرض لیا تھا، جب اس میں خرچ ہوگئے۔
  شوہر کی رہائی سے پہلے تلجا پور میں ایک اور جلسہ ہوا، ساس کے کہنے پر میں نے تقریر کی ۔ سب نے تالیاں بجائیں۔ اس کے بعد ہر جلسہ میں نے لگی۔ میٹنگوں میں  شریک ہوتی۔ بم گراواڑی میں پاردھیوں کے بنے ہوسٹل میں جانے لگی۔ 
 ناگپور  کے جلسہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگ آنے والے تھے۔ میں بھی ساتھ گئی، تقریر کی ، اخبار میں نام چھپا وہاں سے واپس آئی  تو شوہر کے تیور بدلے ہوئے تھے، مجھ پر اسے شک تھا۔ لوگوںنے اس کے کان بھردیئے تھے دیویکا اب یہ سب نہیں چلے گا۔ ایک روز وہ مجھے جنگل لے گئے، رام مندر کی مورتی کے چرنوں میں اس نے پٹک پٹک کر اپنا ماتھا لہولہان کرلیا۔  پھر اسی خون سے میرے ماتھے پر ٹیکہ لگایا اورکہا تم چاہے جہاں جاؤ ، جو چاہے کرو اس کے بعد تم میری ہی رہوگی۔ شوہر مطمئن  ہوگیا، مگر سماج نہیں، ہماری جنگ ابھی جاری رہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK