Inquilab Logo Happiest Places to Work

فطرت اور طبیعت کا فرق، طبیعت پر فطرت کی حاکمیت کیوں لازم ہے اور روزہ کیا ہے؟

Updated: March 07, 2025, 2:59 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

جس طرح اشیائے خوردنی، پانی اور حرکت نہ ہو تو انسانی جسم زندگی سے محروم ہو جاتا ہے، اسی طرح دین اور احکام ِ دین کو ترک کرنے سے انسان کی باطنی اور روحانی زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

یہ سوال انسانی شعور کے دریچوں پر بارہا دستک دیتا ہے کہ اگر دین، جیسا کہ خود اس کے منابع دعویٰ کرتے ہیں، عین فطرت انسانی کے مطابق ہے، تو پھر احکامِ شریعت کی بجا آوری بعض اوقات دشوار کیوں محسوس ہوتی ہے؟ کیوں دینداری بعض نفوس کے لئے بوجھل سی بن جاتی ہے؟ اور خاص طور پر روزے جیسے فرائض، جو تزکیۂ روح اور تطہیرِ باطن کا ذریعہ ہیں، کیوں بعض لوگوں کے لئے مشقت اور ناگواری کا باعث بن جاتے ہیں ؟
یہ سوال محض ایک وجدانی خلش نہیں بلکہ ایک فکری اضطراب ہے جو مذہب، فلسفہ، اور نفسیات کے سنگم پر کھڑا ہے۔ اگر فطرت وہ میزان ہے جس پر دین قائم ہے، تو پھر تکلیف اور فطری ہم آہنگی کے مابین یہ تضاد کیوں ؟ مزید حیران کن امر یہ ہے کہ خود شریعت نے بھی اپنے احکام کو ’’تکلیف‘‘ کے لفظ سے موسوم کیا ہے، حالانکہ فطرت سے ہم آہنگ چیزیں سہل ہوتی ہیں، نرم و لطیف ہوتی ہیں، قلب و ذہن کو کشش دیتی ہیں اور کسی قسم کی سختی یا بار کے احساس سے خالی ہوتی ہیں۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ دین، جو اصل میں روحِ انسانی کا ہمزاد ہے، بعض مواقع پر ایک آزمائش محسوس ہونے لگتا ہے؟
یہ سوال محض جذباتی یا سطحی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک ایسی گتھی ہے جو عقل و منطق اور روحانی بصیرت کے امتزاج سے ہی سلجھائی جا سکتی ہے۔ چند ہفتوں پہلے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ جلد نمبر ۲ ؍ کے آن لائن مذاکرہ میں مولانا غلام حسین (وطن گجرات، حال مقیم جنوبی افریقہ) نے بڑے نکتے کی بات بتائی کہ فطرت اور طبیعت، جنہیں عام طور پر مترادف سمجھ لیا جاتا ہے، درحقیقت دو مختلف حقیقتیں ہیں اور ان کے تقاضے بھی مختلف ہیں۔ لیکن اکثر لوگ ان میں فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے فطرت کو طبیعت اور طبیعت کو فطرت کے مترادف سمجھ لیتے ہیں۔ 
آگے بڑھنے سے قبل یہ جان لیں کہ فطرت کیا ہے اور طبیعت کیا؟ فطرت وہ اصل اور بنیادی سانچہ ہے جس پر انسان کی روح تخلیق کی گئی، وہ حقیقت جو خیر، سچائی اور اللہ کی بندگی کی طرف مائل ہے جب کہ طبیعت اس مادی دنیا میں انسان کے جسمانی و نفسیاتی میلانات، خواہشات اور عادات کا نام ہے، جو ماحول، تجربات اور تربیت سے متاثر ہوتی ہے۔ 
اگر فطرت و طبیعت کو آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو فطرت انسان کی روحانی اور اخلاقی ضروریات و تقاضوں کا نام ہے، جب کہ طبیعت اس کی جسمانی ضروریات اور مزاجی رجحانات کو کہا جاتا ہے۔ 
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ دین، چونکہ فطرت کے مطابق ہے، اس لئے وہ انسان کی حقیقی بھلائی چاہتا ہے لیکن طبیعت، جو دنیاوی لذتوں، راحتوں اور آسانیوں کی خوگر ہو چکی ہے، بعض اوقات فطرت کے مطالبات کے آگے مزاحمت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب شریعت کسی عمل کا تقاضا کرتی ہے، تو طبیعت جو سہولت کی عادی ہے، اسے بوجھل محسوس کرتی ہے، حالانکہ وہ عمل خود انسانی روح کی بالیدگی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ 
اب اس کی مثال دیکھئے، روزہ اس حقیقت کی بہترین مثال ہے۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ انسان ضبط نفس سیکھے، خواہشات پر قابو پائے اور اپنی روحانی قوتوں کو بیدار کرے، جبکہ طبیعت سہولت، کھانے پینے اور آرام کی عادی ہو چکی ہوتی ہے۔ جب روزہ ان فطری مقاصد کو پورا کرنے کے لئے طبیعت پر قابو پانے کا مطالبہ کرتا ہے، تو طبیعت بغاوت پر اتر آتی ہے، اور یہی کشمکش وہ کیفیت پیدا کرتی ہے جسے شریعت نے ’’تکلیف‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ 
یہی معاملہ عبادات، فرائض اور دیگر دینی احکام کا بھی ہے۔ یہ سب فطرت کی متقاضی ہیں لیکن طبیعت کی سرکشی بعض اوقات انہیں بوجھل بنا دیتی ہے۔ جو شخص اپنی طبیعت کو فطرت کے تابع کر لیتا ہے، اس کے لئے دین سہل ہو جاتا ہے، بلکہ اس کی روح عبادات میں لطف محسوس کرنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دین ایک آزمائش سے بڑھ کر سکون و طمانیت کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآن نے اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (بے شک، اللہ کے ذکر میں دلوں کا سکون ہے) کہا ہے۔ 
فطرت اور طبیعت کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد یہ سوال بھی رفع ہوجاتاہے کہ روزہ رکھنے کا کیا فائدہ یا مقصد کیا ہے؟ یہ واضح رہے کہ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ ایک روحانی اور معنوی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ جو شخص روزہ نہیں رکھتا، وہ درحقیقت ان تمام اسرار اور حکمتوں سے محروم ہو جاتا ہے جو اس عبادت میں پنہاں ہیں۔ روزہ نہ صرف نفس کی تربیت کرتا ہے بلکہ انسان کے روحانی وجود کو جِلا بخشتا ہے، اسے اعلیٰ مقاصد کی طرف لے جاتا ہے، اور اسے اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ اصل زندگی وہ نہیں جو جسمانی خواہشات کی تسکین میں بسر ہو، بلکہ (اصل زندگی) وہ ہے جو فطرت کی روشنی میں اپنے رب کے قرب کی جستجو میں گزرے۔ 
جس طرح غذا، پانی اور حرکت کے بغیر انسانی جسم زندگی سے محروم ہو جاتا ہے، اسی طرح دین اور اس کے احکام کو ترک کرنے سے انسان کی روحانی اور باطنی زندگی مفلوج ہو جاتی ہے، اگرچہ بظاہر وہ زندہ اور متحرک نظر آتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں آیا:’’یہ بہرے، گونگے (اور) اندھے ہیں پس وہ (راہِ راست کی طرف) نہیں لوٹیں گے۔ ‘‘ (البقرہ:۱۸)
رمضان المبارک کا مہینہ اسی روحانی احیاء کا مہینہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان اپنی طبیعت کی سرکشی پر قابو پاتا ہے اور اپنی فطرت کی اصل حقیقت سے جڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کی مشقت نہیں، بلکہ ایک تربیت ہے، ایک سفر ہے جو انسان کو اس کی زندگی کے اصل مقصد سے آشنا کرتا ہے۔ جو شخص اس ماہ کی برکتوں سے محروم رہتا ہے، وہ محض ایک عبادت ہی نہیں، بلکہ اس معنوی زندگی سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو اسے حقیقت میں زندہ رکھتی ہے۔ یہی وہ فلسفہ ہے جو رمضان کو صرف ایک ماہ نہیں، بلکہ زندگی کی تجدید اور روح کی بیداری کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK