مساجد میں حوصلہ شکنی، بچوں کومساجد سے دور کرسکتی ہے

Updated: March 06, 2020, 4:59 PM IST | Dr. Saleemuddin

ایک مسجد میں عصر کی نماز سے فارغ ہوا تو مؤذن صاحب نے اعلان کیا:’’بچوں کو سنبھالیں ورنہ ان کو ہم سنبھالیں گے، بعد میں کوئی صاحب شکایت نہ کریں۔‘‘.....اس طرح کے واقعات اکثر مساجد میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بچوں سے ہم لوگوں کا سلوک غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ہو جاتا ہے

Children. Picture INN
بچوں ۔ تصویر : آئی این این

ایک مسجد میں عصر کی نماز سے فارغ ہوا تو مؤذن صاحب نے اعلان کیا:’’بچوں کو سنبھالیں ورنہ ان کو ہم سنبھالیں گے، بعد میں کوئی صاحب شکایت نہ کریں۔‘‘.....اس طرح کے واقعات اکثر مساجد میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بچوں سے  ہم لوگوں کا سلوک غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ہو جاتا ہے جس سے شاید ہی کوئی انکار کرے۔ اکثر مساجد کمیٹیوں یا ذمہ دارانِ مساجد کے سامنے بچوں کی تربیت کا نہ کوئی منصوبہ ہوتا ہے اور نہ کوئی خاکہ جس کی وجہ سے اگر کچھ بچے مسجد سے دور ہوجائیں تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ چھوٹا بچہ گھر میں جب امی اور ابو کو نمازپڑھتا دیکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی ویسا کرنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ وہ بغیر کہے مصلے کے ساتھ آکر کھڑا ہو جاتا ہے اور رکوع و سجود کی نقل اُتارتا ہے۔ نہایت سنجیدگی کے ساتھ وہ ویسا ہی کرتا ہے جیسا اپنے بڑوں کو کرتا ہوا  دیکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے ابو کو مسجد میں جاتا دیکھتا ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ میں بھی ان کے ساتھ جاؤں اور کبھی کبھی بغیر کہے وہ پیچھے پیچھے مسجد چلاجاتا ہے۔کبھی گھر سے کوئی نہ جارہا ہو تب بھی مسجد پہنچ جاتا ہے۔ وہ مسجد کو پسند کرتا ہےنمازیوں کو دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ مسجد آتا ہے لیکن اسے مسجد کے آداب کا علم نہیں ہوتا لہٰذا یہاں بھی گھر کی طرح دوڑتا بھاگتا ہے، شرارتیں کرتا ہے، کبھی اس صف میں جاتا ہے، کبھی دوسری صف میں ، کبھی وضو خانے پر آکر دوسروں کی طرح منہ ہاتھ دھوتا ہے، نل کھولتا ہے اور دوسروں کو جیسا کرتا ہوا دیکھتا ہے ویسا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 
لیکن…کوئی بابا جی اُسے وضو خانے پر جھڑکتے ہیں ’’اوئے ادھر کیا کر رہے ہو، اتنا پانی کیوں بہا رہے ہو، چلو اُٹھو دفع ہو جاؤ یہاں سے بعض اوقات تو ہاتھ پکڑ کر اُسے باہر نکال دیتے ہیں۔ بعض مساجد کے بزرگ تو بچوں کو دیکھتے ہی اُن کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور جب تک وہ مسجد سے نکل نہیں جاتے یا اُن کی مرضی کے مطابق ٹک کر نہیں بیٹھتے اُنہیں چین نہیں آتا۔ کچھ نمازی ایسے بھی مل جائینگے کہ بچوں کو دیکھ کر ہی جیسے طیش میں آجاتے ہیں۔ صف میں بیٹھے دیکھا تو پکڑ کر پیچھے کر دیا۔ باتیں کرتا دیکھا تو جا کر ایک چپت لگادی کہ’’بدتمیز یہ مسجد ہے، چپ کرو۔‘‘ بچہ نماز پڑھتے ہوئے ہل رہا ہے تو  ڈانٹ پلا دی۔ جہاں دو تین بچے اکٹھے بیٹھے باتیں کرتے یا ہنستے دکھائی دیئے کہ فوراً اُن پر ٹوٹ پڑے کیونکہ مسجد کا ماحول’’خراب‘‘ ہوتا ہے۔ وہ پارہ پکڑتا ہے تو چھین لیا جاتا ہے کہ چھوٹا بچہ ہے پارہ پھاڑ دے گا۔ 
دوران تراویح بچے لمبی نماز سے تھک کر بار بار بیٹھنے لگتے ہیں یا کچھ رکعتیں پڑھ لیں اور کچھ چھوڑ دیں تو اس پر کوئی صاحب انہیں گھوریں گے، منہ بنائیں گے، کوئی بازو سے پکڑ کر یا جھپٹ کر اُسے زبردستی نماز میں کھڑا کریں گے یا کہیں گے کہ نماز نہیں پڑھنی ہے تو آتے کیوں ہو، یا اے سی والے ہال سے نکال دیں گے۔ ان سب دُرشت رویوں ، گرم لہجوں، سخت غصے والے مزاجوں اور بچوں کی بے عزتی کرنے، ڈانٹنے ڈپٹنے اور مارنے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ انہیں گھورنے، مارنے کے لئے دوڑنے اور گھسیٹنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ 
مساجد کے صحنوں میں جاری مکاتب میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے والے صاحبان بھی بچوں کے ساتھ سخت نا انصافی کرتے ہیں۔ کسی بچے کے پڑھنے میں کچھ غلطی ہوئی نہیں کہ یہ آپے سے باہر ہوئے،  ڈنڈا، مکا یا چپت رسید کردی۔ خوف اور جبر کا ماحول! ہر غلطی پر سزا، ہر بار سبق یاد نہ ہونے پر بے عزتی۔ مجھے کتنے لوگ ایسے ملے کہ جنہوں نے کہا کہ بچپن میں میری خواہش تھی کہ میں عالم دین بنوں ، حافظ قرآن بنوں ، دین سیکھوں لیکن فلاں قاری صاحب کی وجہ سے میں ایسا متنفر ہوا کہ دوبارہ مسجد میں داخل نہیں ہوا وغیرہ۔ ان مدرس صاحبان اور بعض نمازیوں کے ان رویوں کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ اب بھی بہت سے بچے بددل ہوتے ہوں۔ان حالات میں یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ رسول ؐ اکرم کے دور میں کیا ہوتا تھا؟ مسجد نبویؐ میں کیا صورتحال تھی؟ بچے تو ہر دور میں شرارتی رہے۔ بھاگنے دوڑنے، باتیں کرنے، اچھلنے کودنے والے۔ آپؐ کے دور میں بھی بچے ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ کبھی اِس صف میںتو کبھی اُس صف میں، کبھی آپؐ  کے اوپر چڑھ گئے ۔ کبھی آپؐ سجدے میں ہیں تو پیٹھ پر چڑھ کر کھیلنے لگے۔ کبھی منبر پر چڑھ گئے، کبھی رونے لگے، کبھی کچھ کبھی کچھ۔ لیکن آپؐ  کا رویہ کیا تھا؟
آپؐ کا مبارک سر سجدہ میں ہے، تمام صحابہ بطور مقتدی بھی سر بسجود ہیں، سجدہ طویل ہو گیا، طویل سے طویل تر۔ صحابہ کے دل میں مختلف خیالات آرہے ہیں کہ آج اللہ خیر کرے، آپؐ سرِمبارک سجدے سے اُٹھا کیوں نہیں رہے ہیں۔ بہت دیر بعد سر اُٹھایا ، نماز مکمل کی، سلام پھیرا ، صحابہؓ کو متفکر پایا تو فرمایا بات دراصل یہ تھی کہ ایک بچہ میری پیٹھ پر چڑھ کر کھیلنے لگا، میں نے اُسے اُتارنا مناسب نہیں سمجھا، جب وہ خود ہی اُترا تب میں نے سر اُٹھایا۔ اللہ اکبر، کتنی عزت، کتنا احترام، مسجد میں نماز کے دوران بھی بچے کے کھیلنے یا اُس کی شرارت پر جبین مبارک پر ہلکی سی شکن تک نہیںآئی۔ 
بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپؐ نماز مختصر کر دیا کرتے تھے۔ لیکن یہ کبھی نہیں کہتے تھے کہ لوگو ،یا، عورتو ! اپنے بچوں کو مساجد میں نہ لایا کرو۔ اس سے ہماری نمازیں خراب ہوتی ہیں ۔ کیا ہماری نمازوں کا خشوع و خضوع نبیؐ  یا صحابہ کرامؓ کی نمازوں سے زیادہ ہے جو کسی بچے کی آواز پر فوراً ٹوٹ جاتا ہے؟ آپؐ  تو لوگوں سے فرماتے تھے کہ عورتوں کو مساجد میں آنے سے نہ روکو۔ عورتیں آئیں گی تو اُن کے ساتھ بچے بھی آئیں گے، مگر ہم ہیں کہ  جوں جوں پہلی دوسری صف کے پختہ نمازی بنتے جاتے ہیں توں توں ہمارا مزاج سخت ہوتا چلاجاتا ہے، ہم میں تکبر آجاتا ہے، مزاج گرم ہوجاتا ہے۔ یہ کیسی عبادت ہے؟ اس کا نتیجہ تو دل کی نرمی کی صورت میں نکلنا چاہئے۔ اچھے اخلاق ، نرم گفتگو اور بچوں سے محبت کی شکل میں ظاہر ہونا چاہئے۔ ہوناتو یہ چاہئے کہ ہم بچوں کو مساجد میں آنے کی ترغیب دیں۔ کوئی بچہ مسجد آئے تو اس کا استقبال کریں۔ اُسے گلے لگائیں۔  اُسے اتنی محبت، اتنا پیار، اتنی عزت و احترام دیں کہ اُسے لگے کہ دنیا میں اس سے بہتر کوئی جگہ نہیں، ایسے اعلیٰ لوگ کہیں نہیں! 
بچوں کی شرارتوں، غلطیوں ، باتوں اور اچھلنے کودنے وغیرہ کو برداشت کریں اور کبھی سمجھائیں تو علاحدگی میں نرمی اور شفقت سے، کچھ  اس طرح کہ اُس کی عزتِ نفس محفوظ رہے۔ غصہ کرنے کے بجائے مسکرائیں اور اُنہیں دیکھ کر اپنے بچپن کو یاد کریں کہ ہم سب بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ بچے شیطان نہیں ہوتے بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہیں۔ معصوم ہوتے ہیں، گناہوں سے پاک لیکن ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ کر کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مساجد سے جڑیں گے تو کل زندگی کے کسی بھی شعبے میں رہنے کے باوجود مساجد کو اعلیٰ مقام دیں گے، مساجد کے اماموں اور قاریوں کو عزت دیں گے، علماء کا احترام کریں گے بلکہ خود بھی عالم بنیں گے اور دنیا کے دیگر اداروں کے بجائے مساجد کو بنیادی مقام دیں گے۔
 ایک بات اور…جب سے ہماری مساجد میں قیمتی قالین بچھانے اور شیشے والی کھڑکیوں اور دروازوں کا رجحان پیدا ہوا ہے اس وقت سے مساجد کی انتظامیہ بچوں کے معاملے میں زیادہ حساس ہو گئی ہے۔ اسے  ہر وقت یہ خدشہ رہتا ہے کہ بچے قیمتی قالین خراب کر دیں گے یا ان کی وجہ سے شیشے والے دروازے ٹوٹ سکتے ہیں۔ کیا ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ بچے زیادہ قیمتی ہیں یا قالین؟ بچوں کی تربیت زیادہ ضروری ہے یا شیشوں والے دروازوں کی حفاظت؟ آئیے مساجد اور اپنے دلوں کے دروازے بچوں کیلئے کھول دیں کہ یہی هماری ذمے داری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK