۲۰۱۹ء میں وہ آج ہی کا دن تھا جب بھیونڈی کے اس مایہ ناز طبیب، خطاط، مصنف اور صحافی کا انتقال ہوا تھا۔ آج بھی اہل علم اُنہیں یاد کرتے ہیں اور اُن کی کمی کو محسوس کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ریحان انصاری مرحوم۔ تصویر: آئی این این
ڈاکٹر ریحان انصاری کو رخصت ہوئے۷؍ سال ہوچکے ہیں مگر ایسا لگتا ہے جیسے وہ اب بھی ہمارے آس پاس کہیں موجود ہیں۔ ان کا مسکراتا ہوا ہشاش بشاش چہرہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اتنے دن گزر جانے کے بعد بھی جب کبھی فون کی گھنٹی بجتی ہے تو میںچونک جاتا ہوں، ایک لمحے کیلئے طمانیت کا احساس ہوتا ہے،چہرے پر مسرت دوڑ جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ڈاکٹر صاحب کا فون آیا ہو۔ ایسا اسلئے محسوس ہوتا ہے ،گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں بہت مشکل سے ایک دو دن ہی ایسے گزرے ہوںگے جب ہماری آپس میں بات چیت نہ ہوئی ہو۔اکثر ڈاکٹر صاحب ہی فون کرتے تھے۔ ہماری گفتگو ہر موضوع پر ہوتی تھی۔ صحافت، سیاست، بھیونڈی کے حالات، مسلمانوں کی صورتحال اورذاتی معاملات کے علاوہ کبھی کبھار ہنسی مذاق کی باتیں بھی ہوتی تھیں۔ بھیونڈی میں تین چار ہی لوگ ایسے ہیں، جن سے ڈاکٹر صاحب کھل کر باتیں کیا کرتے تھے اوراپنے دل کی بھڑاس نکالتے تھے۔یہ میری خوش بختی ہے کہ ان تین چار میں سے ایک میں بھی ہوں۔
ڈاکٹر صاحب کو پڑھنے،پڑھانے اور اپنا علم دوسروں تک منتقل کرنے اور دوسروں کے علم سے استفادہ کرنے کا بڑا شوق تھابلکہ وہ اسے اپنی ذمہ داری قرار دیتے تھے۔ وہ دواخانے میں اپنے معاونین کو اکثرکچھ نہ کچھ پڑھاتے اور بتاتے رہتے تھے۔ اسی طرح وہاں آنے والے ایم آر اور پڑھے لکھے مریضوں سے بھی تبادلہ خیال کرتے تھے۔ اُن میں سکھانے سے زیادہ سیکھنے کا غیر معمولی جذبہ تھا۔ تب وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ انہیں سکھانے والے کی عمر اور اس کا مرتبہ کیا ہے؟
اُنہیں کتابت سے بے پناہ دلچسپی تھی۔ وہ کاتبوں کی بڑی عزت کرتے تھے اور کتابت سیکھنے والوں سے بڑی محبت سے پیش آتے تھے۔ جہاں کہیں بھی جاتے، اگر وہاں کسی کاتب سے ملاقات ہوجاتی تو بہت خوش ہوتے اور پھر ان سےمستقل رابطے میں رہنے کی کوشش کرتے۔ کتابت سکھانے کیلئے وہ بہت محنت کرتے تھے اور اپنی جیب خاص سے اس پر کافی خرچ کرتے۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میںڈاکٹر صاحب اس کے تئیں مزید پُرجوش ہوگئے تھے۔ اس کیلئے ہفتے میں ایک بار رئیس ہائی اسکول بھیونڈی اور ایک بار مہاراشٹر کالج (ممبئی) میں تربیت کیلئے جانے لگےتھے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے گوا کا بھی دورہ کیا تھا، جو اُن کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔ کتابت سیکھنے والے طلبہ کو کتابت سےمتعلق لوازمات بھی اکثر وہ خود فراہم کرتے تھے۔ طلبہ کو مشق کی خاطر وہ ’نرکل‘ کا پین دیتے تھے جس کی فراہمی میں میرا بھی کردار تھا۔ میرے وطن میں ’نرکل‘ کے پودے کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ برسوں قبل ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب سے اس کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے مجھ سے منگوانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد سے اکثر ایسا ہوتاکہ وطن سے کوئی آتا توگڑ اور کُرمُرے کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کیلئے ’نرکل‘ بھی ضرور لاتا۔
کبھی ڈاکٹر صاحب کے سامنے ایسی کوئی بات آتی کہ کوئی ذہین طالب علم صرف پیسوں کی وجہ سے تعلیم منقطع کرنے پر مجبور ہےتو تڑپ اُٹھتے تھے۔اس کیلئے ان سے جتنا بھی بن پڑتا تھا،خود کرتے تھے۔ دوسروں کے لئے دوسروں کے سامنے ہم نے انہیں ہاتھ پھیلاتے دیکھا ہے۔ کبھی کبھی وہ اس کے لئے چڑتے بھی تھے کہ یہ پیسے والے دولت پر سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھے ہیں۔وہ اکثر کہتے تھے کہ پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ کون سی مصلحت ہے کہ وہ ہم جیسوں کو خالی ہاتھ رکھتا ہےاورانہیں خوب نوازتا جو بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان میں دردمندی اور قناعت پسندی اتنی تھی کہ وہ اپنا نوالہ دوسروں کے منہ میں رکھ کر خوش ہوتے تھے۔ پیسوں کے حوالے سے ہم نے انہیں کبھی اس بات کیلئے پریشان نہیں دیکھا کہ کل کیا ہوگا؟ جتنا رہتا، اتنے میں خوش رہتے۔
ڈاکٹر صاحب کو اِن پیج کے فونٹ’ فیض نستعلیق‘ سے حد درجہ لگاؤ تھا۔ وہ اس کیلئے دوسروں سے لڑ بھی جاتے تھے۔ یہ لگاؤ کیوں نہ ہوتا، اس کے لئے انہوں نے اسلم کرتپور ی اور سید منظر کے ساتھ بہت محنت کی تھی، کافی خرچ کیا تھا، طویل عرصے تک عرق ریزی کی تھی اور کافی خون جلایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں فیض نستعلیق کی وہی اہمیت تھی اور اس سے وہی انسیت تھی جو اہمیت و انسیت کسی انسان کو اپنے بڑھاپے کی اولاد سے ہوتی ہے۔اُنہیں اردو نستعلیق کے اس خوبصورت فونٹ سے مالی فائدہ تو نہیں ہوا لیکن زندگی کے آخری برسوں میں اس حوالے سے ان کی جو پزیرائی ہوئی، اس سے وہ کافی مطمئن تھے۔ فیس بک اور وہاٹس ایپ پر اس تعلق سے بیرونِ ہند کے کاتب حضرات کے پیغامات میری نظروں سے گزرتے رہے ہیں جن میں وہ ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کیا کرتے تھے، ان سے پوچھتے تھے اور ان کی رائے کو خاصی اہمیت دیتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب ان حالات سے کافی خوش تھے اور اکثر کہتے تھے کہ بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں تو میں دواخانے سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپناپورا وقت کتابت اورخطاطی کی ترویج و اشاعت میں صرف کروںگا۔ ڈاکٹر صاحب وہاٹس ایپ پر بھی طلبہ کو خطاطی کی باریکیاں سمجھایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ہم دونوں ممبئی جارہے تھے۔ ہم ٹرین میں تھے،اسی دوران ایک طالب علم کا میسیج آیا۔ وہ ’ج‘ بنانے کی مشق کررہا تھا لیکن ٹھیک سے بن نہیں پارہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس اُس وقت کوئی کاغذ نہیں تھا۔انہوں نے قلم سے اپنی ہتھیلی پر ’ج‘ لکھا اور اس کی تصویر لے کر اس طالب علم کو بھیجا اور بتایا کہ وہ اسے کس طرح لکھے۔
یہ دنیا فانی ہے۔ یہاں جو بھی آتا ہے، اسے ایک دن جانا ہی پڑتا ہے۔اس طرح روزانہ ہزاروں افراد اس دنیا کو خیر باد کہتے ہیں... لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں یہ دنیا یاد رکھتی ہے، جن کے جانے سے یہاں ایک خلا محسوس ہوتا ہے،ایک خلقت اشکبار ہوتی ہے اور جن پر ایک زمانہ افسوس کرتا ہے۔ڈاکٹر ریحان انصاری کا شمار انہی کم یاب لوگوں میں ہوتا ہے۔