چونکہ استعفا نہیں ہوا ہے اس لئے احتجاج جاری ہے جسے سونم وانگ چک کی شمولیت سے غیر معمولی طاقت مل گئی ہے۔ گزشتہ دنوں سونم وانگ چک نے ایک ویڈیو جاری کرکے معترفین سے احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 5:31 PM IST | Mumbai
چونکہ استعفا نہیں ہوا ہے اس لئے احتجاج جاری ہے جسے سونم وانگ چک کی شمولیت سے غیر معمولی طاقت مل گئی ہے۔ گزشتہ دنوں سونم وانگ چک نے ایک ویڈیو جاری کرکے معترفین سے احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔
جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کو آج ۲۳؍ واں دن ہے۔ تین متنازع زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج ۳۷۹؍ دن تک جاری رہا تھا۔ اگر اس کو معیار مان لیا جائے تو سی جے پی کیلئے منزل کافی دور ہے۔
کسانوں اور اِن نوجوانوں میں عمر اور تجربے کا بہت فرق ہے۔ کسانوں کے مطالبات اور اِن نوجوانوں کے مطالبات میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ ایک یا زائد قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں۔ ان کا صرف اتنا مطالبہ ہے جس وزارت کی ماتحتی میں اس ملک کے طالب علموں کو سخت اذیت اور نفسیاتی ہیجان سے گزرنا پڑا، اس کے سربراہ کو ہٹایا جائے۔ اُن سے استعفا کیوں نہیں لیا گیا یا وزیر موصوف کو برخاست کیوں نہیں کیا گیا، یہ ایسی گتھی ہے جس کا سلجھنا مشکل ہےجبکہ وزیر صاحب کو اخلاقی بنیاد پر ازخود استعفا دینا چاہئے تھا۔
چونکہ استعفا نہیں ہوا ہے اس لئے احتجاج جاری ہے جسے سونم وانگ چک کی شمولیت سے غیر معمولی طاقت مل گئی ہے۔ گزشتہ دنوں سونم وانگ چک نے ایک ویڈیو جاری کرکے معترفین سے احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔ اُن کا یہ کہنا بہت اہم ہے کہ لوگ اُنہیں موجودہ دور کا گاندھی کہہ رہے ہیں، ایسا کہنا گویا یہ سمجھانا ہے کہ چونکہ آپ ’’گاندھی‘‘ ہیں اس لئے انشن پر بیٹھ سکتے ہیں، ہم تو عام انسان ہیں، انشن ہمارے بس کا نہیں۔ سونم وانگ چک نے اس بیان کے ذریعہ فکری طور پر متفق ہونے اور فکر کی بنیاد پر کسی تحریک کا عملاً ساتھ دینے کے فرق کو واضح کیا ہے۔ متفق ہونے اور ساتھ نہ دینے کے رویہ سے تحریکیں بے اثر ہوجاتی ہیں۔
سماج اور معاشرہ میں شروع ہونے والا ہر اچھا کام تبھی نتیجہ خیز ہوسکتا ہے جب اس کی تعریف میں رطب اللساں نیز اس کی افادیت کے قائل لوگ قدم سے قدم ملا کر چلنے کیلئے تیار ہوں۔ فلاحی کاموں کیلئے ہونے والی میٹنگوں میں بھی عدم تعاون یا جزوی تعاون کا طرز عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ یا تو لوگ شریک نہیں ہوتے یا مشورہ دینے کی حد تک پیش پیش رہتے ہیں، مشوروں کو عمل میں لانے اور ذمہ داری قبول کرنے کے معاملے میں سب ایک دوسرے کے پیچھے چھپنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
سونم وانگ چک کو لوگوں کا یہ کہنا کہ آپ اس دور کے گاندھی ہیں بالکل ایسا ہے جیسے ہمارے معاشرہ میں تعلیمی کاموں کا بیڑا اُٹھانے والوں سے کہا جانا کہ آپ اِس دور کے سرسید ہیں۔ خطاب دینے میں فیاضی کا مقصد یہی سمجھ میں آتا ہے کہ خود آگے بڑھ کر کچھ کرنا نہ پڑے۔ درست ہے کہ ہر آدمی نہ تو ہر کام کرسکتا ہے نہ ہی کرنا چاہتا ہے مگر یہ تو ہوسکتا ہے کہ الگ الگ لوگ اپنی اپنی پسند کے کاموں کی ذمہ داری لے لیں۔ یہ بھی نہیں ہوتا، البتہ یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ کچھ کو مشاورت میں شریک ہونا اچھا لگتا ہے تو کچھ کو مخالفت میں شریک ہونا۔ درِ پردہ مخاصمت میں شرکت بھی گوارا ہوجاتی ہے۔ سماجی کام قربانی چاہتے ہیں۔ جو لوگ قربانی نہیں دینا چاہتے عموماً اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے اُن سے پوچھا جانا چاہئے کہ آپ قربانی کیوں نہیں دینا چاہتے جبکہ آپ بھی اسی سماج کا حصہ ہیں جس کی فلاح کیلئے کچھ کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔ جب تک یہ دُہرا معیار ہے، ہر کام ادھورا رہے گا۔