وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ انڈونیشیا پر خطاب، کئی اہم معاہدوں پر دستخط کئے، جکارتہ میں مقیم ہندوستانی برادری سے ملاقات کی ۔
وزیراعظم مودی کا انڈونیشیا کی پارلیمان میں گرمجوشی سے استقبال کیا گیا-تصویر:پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی اور انڈونیشیا کے صدر پروبوو سوبیانتو نے منگل کو ہند-انڈونیشیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار دینے پر اتفاق کیا۔۳؍ روزہ دورے پر انڈونیشیا گئے وزیراعظم مودی نے جکارتہ میں سوبیانتو کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔ بعدازیں جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں لیڈران نے دفاع، سمندری سیکوریٹی، تجارت، اہم معدنیات، ڈیجیٹل معیشت، توانائی، خلا اور تعلیم سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ممالک نے باقاعدہ سربراہ ملاقاتیں منعقد کرنے، برہموس میزائل تعاون، دفاعی آلات کی مشترکہ پیداوار، سمندری سکیورٹی، انسداد دہشت گردی تعاون اور سائبر سکیورٹی شراکت داری کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقین نے مقامی کرنسی میں تجارت، سرحد پار کیو آر ادائیگی، اہم معدنیات، قابل تجدید توانائی اور سابانگ بندرگاہ کی ترقی سمیت بنیادی ڈھانچے میں تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔
وزیراعظم مودی نے منگل کو راجدھانی جکارتہ میں انڈونیشیا کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ وہ انڈونیشیائی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم ہیں۔ انہوں نے صدیوں پرانے تہذیبی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوطرفہ روابط کیلئے `گنگا-مہاکم وژن پر مبنی ہند-انڈونیشیا تعلقات میں ایک نئی شروعات کا اعلان کیا۔ اس نقطہ نظر کے طور پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے تہذیبی روابط کو مزید مضبوط کرنا چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ اپنے ترقیاتی راستے مشترک کرنے چاہئیں، سیکوریٹی اور اسٹریٹجک اعتماد کو مضبوط کرنا چاہیے، سمندری خوشحالی کے لیے کام کرنا چاہیے اورگلوبل ساؤتھ کی آواز کو مضبوط کرنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندستان اور انڈونیشیا کے درمیان سمندر دوری کی علامت نہیں بلکہ ہمارے درمیان ایک پل ہے جو ہمارے مشترکہ مستقبل کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہندستان اور انڈونیشیا ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو دنیا کا یہ یقین مضبوط ہوتا ہے کہ جمہوریت موقع دیتی ہے، جمہوریت اعتماد دیتی ہے اور جمہوریت مستقبل بناتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان جو خیر سگالی اور اعتماد ہے ہمیں اسے اپنے شہریوں کے لیے نئے مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔‘‘ کسی ملک کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ ہندستان دنیا کا وہ ملک ہے جو توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی پسندی کی پالیسی پر چلتا ہے۔
وزیراعظم نے انڈونیشیا میں ’فلسطین ‘کا ذکر کیا
مودی نے موجودہ عالمی صورتحال پر کہا کہ اب پُرامن مکالمے اور سفارتی کوششوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کا ماننا ہے کہ پائیدار امن صرف بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے فلسطین کے بارے میں نئی دہلی کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ بھارت دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں دیرپا امن کا خواہاں ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب وزیراعظم مودی کی نیتن یاہو سے قربت پر ہندوستان میںتنقیدیں ہورہی ہیں۔