Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیمی نظام: چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے

Updated: May 24, 2026, 9:57 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

آج اِس مُلک میں تعلیمی نظام کچھ ایسا ترتیب دیا گیا ہے کہ کو چنگ ایک لازمی حصہ بن گیا ہے۔ ہم بے خبر تھے اور حکومت نے خاموشی سے ایک ایسا نظام ڈیزائن کیا جہاں سارے تعلیمی اِدارے ناکام ہوجائیں اور سبھی کو جنگ کلاس کی بیساکھی پر ٹکے رہیں۔

89 major exam papers leaked in a decade. Photo: INN
ایک دہائی میں ۸۹؍ بڑے امتحانات کےپرچے لیٖک ہوگئے۔ تصویر: آئی این این

طلبہ کا حقیقی ٹیلنٹ نمایاں ہو جائے اسلئے لگ بھگ سارے امتحانات اب روایتی نہیں رہے بلکہ انہیں مقابلہ جاتی امتحانات کہا جانے لگا۔ موضوعی سوالات کے بجائے معروضی سوالات کا دَور آگیا۔ منٹوں کے بجائے سیکنڈوں میں جواب لکھنے، بین السطور سوالات، اختراعی سوالات، ذہن جھنجھوڑنے والے سوالات اور طلبہ کی قوّتِ فیصلہ کا امتحان لیتے سوالات... یہ مقصد تھا ان مقابلہ جاتی امتحانات کاالبتہ دیکھتے ہی دیکھتے ان امتحانات نے کچھ ایسا روپ دھارن کر لیا کہ یہ امتحان طلبہ کو سخت ذہنی اذیّت پہنچانے اور ٹار چر کرنے والا امتحان بن گئے۔ پہلا مافیاتیار ہوا اِن امتحانات کے پر چے مرتّب کرنے والے، دوسرا مافیا اِن پر چوں کی حفاظت کرنے والا اور تیسر اما فیا تیار ہوا اِن کے رزلٹ تیار کرنے والے۔ طلبہ کو ذہنی کوفت پہنچانے میں ان تینوں مافیا میں مقابلہ جاری ہے اور کس حد تک جاری ہے سُن لیجئے: گزشتہ ایک دہائی میں ۸۹؍ مقابلہ جاتی امتحانات کے پرچے لیٖک ہوگئے اور۴۸؍ امتحانات دوبارہ منعقد ہو گئے۔ اِن امتحانات کے پرچے لیٖک کرنے والوں کو سزا کیا ہوئی: کچھ بھی نہیں۔ اوّل تو پر چے لیٖک ہونے کے واقعات کا حکومت نے انکار ہی کر دیا جب تک سارے ثبوت میڈیا نے پیش نہیں کئے۔ کچھ امتحان دوبارہ منعقد ہوئے مگر اُن کے بھی پرچے لیکٖ ہونے کی خبر آئی تو اُسے نظر انداز کر دیا گیا۔ پرچے مرتّب کرنے والے، نصاب کے باہر سے یا غلط سوالات مرتّب کرنے والوں کو بھی کوئی سزا نہیں دی گئی۔ کہتے ہیں پرچہ لیٖک ہونے کا یہ معاملہ ہر بار ہزاروں کروڑروپئے کا گھپلا تھا مگر جب ارباب ِ حکومت کو مبینہ طور پر اُن کا ’حصہ‘ دیا گیا تو اُنھوں نے خاموشی برتی۔ 
اس سال بھی میڈیکل داخلہ امتحانات نیٖٹ کا پرچہ بڑی آسانی سے، کروڑوں روپے بناتے ہوئے پورے، ملک میں لیٖک ہوگیا۔ حکومت حرکت میں آگئی، سخت خفا ہوگئی اورتفتیشی ایجنسیاں بھی ملک بھر میں حرکت میں آگئیں۔ کیا واقعی ایسا ہے یا عوام بھولے بھالے ہیں۔ دراصل وزارت تعلیم اور حکومت کے ذمہ داران میں اس پرچے کے لیٖک ہونے کے تعلق سے کیا چل رہا ہو گا، ملاحظہ فرمائیں : (۱) نہ کوئی پر یس کا نفرنس کرو، نہ کسی کو جواب دو۔ (۲) بکائو میڈیا چینلوں کو ہدایت دے دو کہ اس کو کسی طرح پیپر لیٖک جہاد قرار دینے کی کوشش کی جائے (۳)اس پیپر لیٖک گھپلے میں پاکستانی یا کم از کم بیرونی ہاتھ ہے، یہ ثابت کرو (۴) الیکشن کمشنرسے جاکر دریافت کرلو کہ وہ حکومت کی کیا مدد کرسکتا ہے (۵)کیا الیکشن کمشنر اِن ۲۲؍لاکھ طلبہ کو ووٹ دینے سے محروم کرسکتا ہے (۶) اگر یہ۲۲؍لاکھ طلبہ ہمیں ووٹ نہ دیں تو ہم لوک سبھا کی زیادہ سے زیادہ تین سیٹ ہارجائیں گے اُس کے باوجود ہمارے پاس اکثریت ہے۔ 
جی ہاں، پورے تعلیمی نظام کی چُولیں ہلا دینے والے اِن پیپر لیٖک معاملات کو موجودہ حکومت صرف ۲۲؍لاکھ ووٹرس کھودینے والا معاملہ سمجھ رہی ہے۔ طلبہ کے ذہنی تناؤ، تعلیمی نظام کی ساکھ وغیرہ کے تعلق سے اُسے کچھ پڑی نہیں ہے۔ 
چرچا
موجودہ پر دھان سیوک نے جب سے عنان حکومت سنبھالی ہے، پنڈت جواہر لال نہرو سے ہٹ کر کچھ کر گزرنے کی خواہش ہر جگہ نمایاں دِکھائی دیتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سارے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، بی اے آرسی، ایمس اور اسپیس ریسرچ اِداروں وغیرہ کا قیام نہرو کے زمانے ہی میں ہو چکا تھا۔ یہی نہیں پنڈت نہرو اپنی ہی حکومت کے خلاف ایک مستقل کالم ہندوستان ٹائمز میں قلمی نام چانکیہ کے ساتھ لکھا کرتے تھے۔ جمہوریت کی اس سے بڑی مثال برِّ صغیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اب پردھان سیوک نے کچھ نیا سوچا کہ ایک ماہنامہ پروگرام ’من کی بات‘ میں عوام سے خطاب کیا جائے۔ ہونا تو یہ چا ہئے تھا کہ ہر ماہ کم از کم ایک پریس کانفرنس لی جاتی لیکن افسوس کی بات ہے کہ ٹیلی پرامٹر سے اپنی ’دھواں دار‘ تقریر پڑھنے والے پی ایم نے ۱۲؍برسوں میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں لی۔ کئی اشتہاری ایجنسیوں کی مدد سے تیار کرنے والی اپنی ’من کی بات‘ کی خوب تشہیر ہوئی۔ گاؤں میں چوراہوں پر، چوپال پر اس کی چائے پرچرچہ بھی ہونے لگی۔ اخبارات میں خوب خوب اس کی تصویریں چھپنے لگیں۔ اب یہ چائے پر ’چر چا‘ تک تو ٹھیک بات تھی مگر اپنی ڈِگری چھپانے والے پی ایم نے طلبہ سے’پریکشا پر چرچا‘ بھی شروع کی۔ جس شخص نے شاید ہی کوئی امتحان اپنی زندگی میں دیا ہو، وہ چھوٹے موٹے کلاسوں کو نہیں بلکہ آئی آئی ٹی جیسے امتحان دینے والے طلبہ کے ساتھ بھی پریکشا پر چرچا شروع کی اور امتحان کا ذہنی تنائودُور کرنے کے نسخے بانٹنے لگے۔ کاش! موجود ہ پی ایم، پیپر لیٖک ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والے ذہنی تنائو سے کیسے نمٹا جائے، اس موضوع پر کوئی ’من کی بات‘ میں ہی چرچا کرتے، پریس کانفرنس نہ سہی ! پرچہ لیکٖ ہونے کے بعد سے اب تک چار طلبہ خودکشی کرچکے ہیں اور ہزاروں طلبہ ذہنی تنائو اور ڈپریشن کا شکار ہوچکے ہیں اور اِس صورتِ حال میں پی ایم جھولا اُٹھاکر ملک سے باہر چلے گئے۔ 
کوچنگ مافیا کا راج
آج اِس مُلک میں تعلیمی نظام کچھ ایسا ترتیب دیا گیا ہے کہ کو چنگ ایک لازمی حصہ بن گیا ہے۔ ہم بے خبر تھے اور حکومت نے خاموشی سے ایک ایسا نظام ڈیزائن کیا جہاں سارے تعلیمی اِدارے ناکام ہوجائیں اور سبھی کو جنگ کلاس کی بیساکھی پر ٹکے رہیں۔ ورنہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سائنس کے جونیئر کالج کے دو برسوں میں نیٹ، جے ای ای یا ناٹاکے امتحانات کا ایک لفظ بھی نہ پڑھایا جائے اور پھر بارہویں کے امتحان صرف ایک ماہ کے بعد ان بڑے امتحانات کا انعقاد کیا جائے۔ کیا مقصد ہے اس قسم کے نظام کا سوائے اس کے کہ طلبہ جو نیئر کالجوں کو بھول جائیں اور کوچنگ کلاسز بھرے رہیں، آباد رہیں۔ کو چنگ کلاس کی فیس پر کوئی قابو نہیں اسلئے لاکھوں روپے کی فیس والے ان کلاسیز میں صرف امیر گھروں کے طلبہ ہی جا سکتے ہیں۔ آج کو چنگ کلا سیس، کوچنگ مافیا بن چکے ہیں۔ کچھ تو کو چنگ کرتے کرتے کالج اور یونیورسیٹیاں بن گئے یعنی دونو ہاتھوں سے لوٹ مار۔ یہ ساری لوٹ مار بد بختی سے حکومت کی مرضی سے ہورہی ہے نیز ان اہم امتحانات کے پرچے آئوٹ کرنے میں بھی یہ کوچنگ مافیا واضح طور پر سامنے آرہی ہے۔ 
ٹیکنا لوجی: لعنت یا زحمت؟
لگ بھگ ایک دہائی سے ہمارے طلبہ اپنے امتحان میں مضامین لکھ رہے تھے۔ ٹیکنا لوجی کے فائدے و نقصانات، مصنوعی ذہانت نعمت یا زحمت وغیرہ وغیرہ۔ اب ہم اور ہمارا معاشرہ حقیقی اگنی پر یکشا سے گزرنے والا ہے کیونکہ حکومتِ وقت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال سے یہ مقابلہ جاتی انتخابات آن لائن ہوں گے۔ اب تو صرف مصنوعی ذہانت کا کھیل ہوگا۔ وہی پرچہ مرتّب کرے گی۔ ممکن ہے کئی کئی پرچے مرتّب کرے اور کئی کئی امتحان بھی لے۔ آن لائن ہمارے بینک کے کھاتے محفوظ نہیں، ۲۴؍ گھنٹے ہیکرس نِت نئے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں اور کئی سارے کوڈ کھول رہے ہیں۔ امتحانی پرچوں کے کوڈ کھولنے میں کتنا وقت لگے گا ؟ اے آئی کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرنے والے اب خود اُس کی زد میں آجائیں گے۔ ہمارا مطالبہ اس ضمن میں یہی ہے کہ ہیکرس کی زد میں آنے سے ہمارے امتحانی نظام کو بچانا ہے۔ ٹیکنالوجی نعمت ہے البتہ اُس پر مکمل انحصار زحمت ہی ہے۔ قدرتی ذہانت کے پاس ضمیر بھی ہوتا ہے، مشینی ذہانت کے پاس نہیں۔ 
کا کروچ
عدالتِ عظمیٰ کے سب سے بڑے سربراہ نے جین زی کو کاکروچ قراردیا۔ جی ہاں ! حق کی آواز بلند کرنے اور انصاف کیلئے لڑنے والے جھینگر ہیں، یہ کہا گیا۔ اُس سر براہ کو اس کا انعام فوراً مل جائے گا۔ سبکدوش ہوتے ہی راجیہ سبھا یا گورنری، مگر جین زی کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ’کاکروچ‘ ہرگز نہیں ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK