شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) غیبت پر معافی مانگنا۔ (۲) زمین کا سودا منسوخ کرنا۔ (۳) رخصتی اور مہر کا مسئلہ۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 4:10 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) غیبت پر معافی مانگنا۔ (۲) زمین کا سودا منسوخ کرنا۔ (۳) رخصتی اور مہر کا مسئلہ۔
غیبت پر معافی مانگنا
ایک شخص نے کسی کی غیبت کی، غلطی کا احساس ہونے پر اس سے معافی مانگی ،لیکن جس کی غیبت کی تھی اس نے کہا کہ میں یہاں معاف نہیں کروں گا، حشر کے میدان میں پکڑوں گا، کیا یہ درست ہے؟ عبد الغنی راجستھان
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: غیبت بہت بڑا گناہ ہے۔ قرآن کریم میں اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اتنی سخت وعید کے باوجود یہ مرض اتنا عام ہے کہ اکثرمجالس اس سے خالی نہیں ۔ پھر غیبت کرنے والوں کو عام طور سے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کتنا بڑا گناہ کررہے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے بہتان کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ جو خرابی اس شخص میں موجود ہے وہ اسی کو بیان کررہے ہیں جبکہ غیبت نام ہی اس برائی کا ہے جوموجود ہو اور پیٹھ پیچھے اسے بیان کیا جائے ورنہ جو برائی نہ ہو اسے تو بہتان کہتے ہیں۔ حق اللہ کے ساتھ یہ حق العبد بھی ہے اس لئے جہاں اس گناہ کے لئے توبہ و استغفار ضروری ہے ممکنہ حد تک جس کی غیبت کی ہے اس سے معافی مانگنا بھی ایک ضرورت ہے ۔تفصیلی بیان ضروری نہیں اجمالی طور سے یہ کہہ دیا جائے کہ جو حق میرے ذمے ہے یا جو حق تلفی ہوئی ہو اسے معاف کردیں البتہ اگر فتنے کا اندیشہ ہو تو اس شخص کے لئے مغفرت اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر متعلقہ شخص کو غیبت کا علم نہیں تو اس سے معافی مانگنا بھی ضروری نہیں لیکن جہاں جن کے سامنے غیبت کی ہے وہاں جاکر اپنی غلطی کا اعلان کرنا ہوگا ۔ اسلامی تعلیم کا تقاضہ تو یہی ہے کہ معافی طلب کرنے والے کو معاف کردیا جائے اس کا بڑا اجر بتایا گیا ہے لیکن غیبت کی وجہ سے اس کا کوئی یقینی مالی نقصان ہوا ہو تو اس کے مطالبے کی گنجائش ہونی چاہئے ورنہ اجمالی عذر کافی ہوگا (جو حالات ہوں گے ان کی رعایت بھی کی جائےگی )۔ معافی طلب کرنے پر آخرت میں بدلہ لینے والی بات بے معنی ہے۔ اس نے سچے دل سے اپنے فعل پر ندامت کے ساتھ معافی طلب کرلی توآگے معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: امام سے پہلے سلام پھیرنا مکروہ تحریمی, تاخیر بھی ناپسندیدہ امر ہے
زمین کا سودا منسوخ کرنا
کسی آدمی نے چند سال پہلے ایک زمین بیچی تھی اب وہ اس زمین کو زبردستی واپس لینا چاہتا ہے تو زمین بیچنے والا کون سی رقم لوٹائے گا؟ آج کے اعتبار سے یا پھر چند سال پہلے بیع کے وقت کے اعتبار سے ؟ محمد نواز حسن ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:بیع مکمل ہوجانے کے بعد بایع یا مشتری کسی وجہ سے بیع کی منسوخی کا تقاضہ کریں اس کو فقہی اصطلاح میں اقالہ کہتے ہیں۔ اقالہ کے متعلق حدیث پاک میں وارد ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس نے معذرت کو قبول کرتے ہوئے بیع کو فسخ کردیا اللہ اس کے گناہ معاف فرمائیگا ۔ اقالہ کی صورت میں وہی رقم واپس ہوگی جس پر سودا ہواتھا مگر اس کے لئے کچھ شرطیں ہیں۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ دونوں فسخ پر رضامند ہوں، رضامند نہ ہونے کی صورت میں یہ واپس از سرنو بیع ہوگی اس لئے جس قیمت پر دونوں رضامند ہو جائیں اسی پر سودا ہوگا۔ صورت مسئولہ میں خرید وفروخت کئی سال پہلے ہوئی تھی، بیچنے والا اب کسی وجہ سے واپس لینا چاہتا ہے وہ بھی زبردستی جس کا شرعاً اسے کوئی حق حاصل نہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہے کہ دونوں کی رضامندی نہیں پائی جاتی اس لئے نہ یہ اقالہ ہے نہ ہی اقالہ کے احکام یہاں جاری ہوںگے۔ قیمتوں میں آج کل جو تفاوت ہوتا رہتا ہے اس کے مطابق موجودہ اور سابقہ قیمتوں میں کمی بیشی کا زیادہ امکان ہے اس لئے کسی فریق کو سابقہ قیمت پرمجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ منصفانہ قول یہی ہے کہ جسے لینا ہے وہ موجودہ قیمت ادا کرے ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
یہ بھی پڑھئے: ادارے کیلئے محنت کرنے والے کی اُجرت
رخصتی اور مہر کا مسئلہ
میرے بھائی کی شادی تقریباً ۱۰؍ سال پہلے ہوئی تھی اور ۷۔۸؍ سال کے بعد اس کی بیوی آئی ہے۔ اس کی وجہ سے نکاح میں تو کوئی خلل نہیں آیا ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ بڑے بھائی کی بیوی کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس کا جو مہر ہے وہ لڑکی والوں کے پاس رہے گا یا پھر لڑکے کو دے دیا جائے گا؟ اور جہیز وغیرہ کا حقدار کون ہوگا؟ عبداللہ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: شادی تقریبا ًدس سال پہلے ہوئی تھی بیوی اب سات آٹھ سال بعد آئی ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ نکاح کے بعد اب تک ایک مرتبہ بھی نہیں آئی اور دوسری صورت یہ ہے کہ نکاح کے بعد سسرال آئی ہو پھر کسی وجہ سے میکے میں رہی اور اب سات آٹھ سال بعد آئی۔ دونوں صورتوں میں طویل جدائی سے نکاح پر کوئی اثر نہ ہوگا لہٰذا دونوں بدستور میاں بیوی ہیں ۔ دوسرے مسئلے میں بھائی کی بیوی کی وفات کے بعد مہر شوہر کے ذمے قرض ہے، اس کے حقدار مرحومہ کے ورثاء ہیں جس میں شوہر بھی شامل ہے۔ اگر مرنے والی صاحب ِاولاد ہے تو شوہر کو ایک چوتھائی ملےگا، اولاد نہ ہو تو وہ آدھے کا حقدار ہوگا۔ اگر مرحومہ کے والدین زندہ ہیں تو شوہر کا حصہ دینے کے بعد جو بچے گا والدین کا حق ہوگا ،والدین نہ ہوں تو اس کے بھائی بہن حصے دار ہوں گے، وہ بھی نہ ہوں تو بھتیجے یہ حصہ پائیں گے ۔جہیز میں بھی یہی تفصیل ہے۔ شوہر کا حصہ دینے کے بعد اولاد، والدین، بہن بھائی اور بھتیجے وغیرہ علی الترتیب حقدار ہونگے، واللہ اعلم وعلمہ اتم