Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈجیٹل عہد میں مثبت مکالمے کا زوال اور اسلامی روایات

Updated: July 17, 2026, 4:27 PM IST | Mohammed Kafeel Qasmi | Mumbai

تہذیبوں کی بقا محض ان کے علمی سرمائے، سیاسی استحکام یا معاشی وسائل کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ اس اخلاقی ظرف پر بھی موقوف ہوتی ہے جس میں اختلاف کو برداشت کرنے، مختلف آرا کو سننے اور تنقید کو قبول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

In today`s world, dialogues are taking place a lot, meetings and seminars are also held a lot, but despite this, the spirit of tolerance towards each other is decreasing. Photo: INN
آج کی دُنیا میں مکالمے تو خوب ہورہے ہیں، میٹنگیں اور سمینار بھی بہت ہوتے ہیں اس کے باوجود ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ کم ہوتا جارہا ہے۔ تصویر: آئی این این

تہذیبوں کی بقا محض ان کے علمی سرمائے، سیاسی استحکام یا معاشی وسائل کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ اس اخلاقی ظرف پر بھی موقوف ہوتی ہے جس میں اختلاف کو برداشت کرنے، مختلف آرا کو سننے اور تنقید کو قبول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ جن معاشروں نے اختلاف کو فکری ارتقا کا ذریعہ سمجھا، وہاں علم نے نئی جہتیں پائیں، تہذیب کو دامن ِ وسعت ملا اور اجتماعی شعور نے بلوغت حاصل کی۔ اس کے برعکس جہاں اختلاف کو جرم، سوال کو بغاوت اور تنقید کو عداوت تصور کیا گیا، وہاں فکری جمود نے جنم لیا، مکالمہ خاموش ہوا اور بالآخر معاشرہ اپنی ہی فکری تنگنائی کا اسیر بن گیا۔

عصرِ حاضر میں انسان تاریخ کے اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ابلاغ کی رفتار بے مثال ہے، مگر مکالمے کا معیار مسلسل تنزل کا شکارہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ہر فرد کو اظہارِ رائے کے وافر پلیٹ فارمز دیئے، لیکن اظہار کی وسعت نے سماعت کے ظرف کو کشادہ کرنے کے بجائے اسے مزید تنگ کردیاہے۔ یہ تبدیلی محض سماجی رویے کا مسئلہ نہیں بلکہ جدید ابلاغی نظام کی ساخت سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ معاصر ابلاغیات میں ’’ایکو چیمبر‘‘ اور ’’فلٹر ببل‘‘ جیسی اصطلاحات اسی حقیقت کی وضاحت کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم انسان کو رفتہ رفتہ انہی خیالات، انہی تجزیوں اور انہی بیانیوں کے حصار میں قید کر دیتے ہیں جو اس کی سابقہ ترجیحات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ نتیجتاً انسان کو گمان ہوتا ہے کہ پوری دنیا اسی طرح سوچ رہی ہے جس طرح وہ خود سوچتا ہے۔ جب اس کے برعکس کوئی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ اسے علمی اختلاف کے بجائے اپنے افکارپر حملہ تصور کرنے لگتا ہے اور یوںمعاشرہ مختلف گروہوں میں اس طرح تقسیم ہو جاتا ہے کہ ہر گروہ اپنے موقف کو سو فیصد درست  اور مخالف نقطہ ٔ نظر کو ناقابلِ سماعت سمجھنے لگتا ہے۔ اس مرحلے پر دلیل اپنی افادیت کھو دیتی ہے اور شناخت استدلال پر غالب آ جاتی ہے۔ گویا کسی خیال کی قبولیت یا تردید اب اس کی قوتِ استدلال کی بنا پرنہیں ، بلکہ محض اس نسبت پر طے کی جاتی ہے کہ وہ ہمارے ”حلقۂ فکر‘‘سے وابستہ ہے یا ”مخالف صف‘‘ میں کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: غیبت پر معافی مانگنا، زمین کا سودا منسوخ کرنا، رخصتی اور مہر کا مسئلہ

اگر اس صورتِ حال کو اسلامی تہذیب کی علمی روایت کے تناظر میں دیکھا جائے تو اسلام نے اختلاف کو انسانی فہم کی ایک فطری حقیقت کے طور پر قبول کیاہے۔ قرآنِ مجید کا اسلوب اس بات پر شاہد ہے کہ اس نے مختلف افکار، عقائد اور استدلالات کو نقل کیا، ان کا جواب دیا، ان پر تنقید بھی کی، مگر مکالمے کا دروازہ بند نہیں کیا۔ قرآن نے اہلِ ایمان کو یہ تعلیم دی کہ اختلاف کے باوجود انصاف، دیانت اور حسنِ خطاب کو ترک نہ کیا جائے۔اسی تناظر میں قرآن مجید ایک نہایت بنیادی اصول بیان کرتا  ہے: ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو، اور اگر بحث کرو تو ایسے طریقے سے جو سب سے بہتر ہو۔“ (سورہ النحل: ۱۲۵) قابلِ غور امر یہ ہے کہ قرآن نے جدال کی نفی نہیں کی، بلکہ احسن جدال کی تعلیم دی کہ اختلاف کو اخلاقی حدود کا پابندبنایا جائے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہی وہ نکتہ ہے جو اسلامی تہذیب کو ان معاشروں سے ممتاز کرتا ہے جہاں اختلاف کا جواب سماجی اخراج کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ 

ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں بھی اب وہی رجحان تیزی سے سرایت کرتا جا رہا ہے۔ فکری اختلاف کو علمی بحث کے بجائے شخصی معرکہ بنا دیا جاتا ہے، دلائل کے بجائے تحقیری نسبتیں استعمال ہوتی ہیں، اور ایک ایسا شور مکالمے کی جگہ لے لیتا ہے جس میں حقائق سے زیادہ تمسخر، تحقیر  اور طعن و تشنیع اہم اور ضروری سمجھی جاتی ہے۔ 

یہ سوال اسی لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اگر اختلاف کی تہذیب باقی نہ رہے تو علم کا سفر بھی ٹھہرجاتا ہے، کیونکہ ہر نیا خیال پہلے اختلاف ہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اختلاف اگر دشمنی بن جائے تو تحقیق تعصب میں، اور مکالمہ محاذ آرائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اگر اختلاف انسانی فکر کی فطری ناگزیرت ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ اختلاف، جو کبھی علم کی توسیع کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا، آج سماجی تقسیم اور فکری عداوت کی علامت بنتا جا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب اس تہذیبی تبدیلی میں پوشیدہ ہے جس نے رائے کو شناخت کا حصہ بنا  دیا ہے۔ چنانچہ اختلافِ رائے، اختلافِ فکر نہیں رہتا بلکہ اختلافِ وجود میں ڈھل جاتا ہے۔

 سوشل میڈیا نے اس کیفیت کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس کے الگورتھم انسان کو مسلسل انہی خیالات، انہی تبصروں اور انہی بیانیوں کے درمیان رکھتے ہیں جو اس کے ذہنی رجحانات کی توثیق کرتے ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ذہن آہستہ آہستہ تنوعِ فکر سے محروم ہو جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا فکری حصار تشکیل پاتا ہے جس میں مختلف رائے کو سننا ہی دشوار محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے جدید ابلاغیات ’کینسل کلچر‘ اور’ماس شیمنگ‘ سے تعبیر کرتی ہے، جہاں اختلاف کا جواب دلیل سے نہیں، بلکہ مخالف آواز کو غیر معتبر اور ناقابلِ سماعت بنا کر دیا جاتا ہے یا پھر دلائل کے مقابل کردار کشی کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتاہے۔

اسلامی تہذیب کی علمی روایت اس رجحان کے بالکل برعکس استوار ہوئی تھی۔ جہاں اختلاف کو ایک اخلاقی نظم عطا کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ، حدیث، تفسیر اور علمِ کلام کی پوری تاریخ اختلافات سے عبارت ہے، لیکن یہ اختلافات عموماً علمی وقار، باہمی احترام اور دیانت ِ علمی کے ساتھ وابستہ رہے۔

یہ بھی پڑھئے: خاموش نیکیوں کا لطف!

 ائمہ اربعہ کے درمیان بے شمار اجتہادی اختلافات موجود تھے، لیکن ان اختلافات نے نہ ایک دوسرے کی علمی عظمت  کا تقدس پامال کیا اور نہ امت کی وحدت کو شکستہ کیا۔ ان کے نزدیک حق کی تلاش، اپنی رائے کے غلبے سے زیادہ اہم تھی۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ اسلامی علمی روایت میں رد (Refutation) کی ایک پوری صنف موجود ہے۔ مجتہدین نے ایک دوسرے کی آراء پر علمی نقد (تنقید) لکھا، مگر اس نقد کا مقصد مخالف کو رسوا کرنا نہیں بلکہ علمی مسئلے کی وضاحت کرنا تھا۔ ان کی تحریروں میں سخت علمی استدلال ملتا ہے، مگر ذاتی تحقیر، طنز اور تمسخر نہیں ملتا۔

شومئی قسمت آج ہماری اجتماعی فضا اس روایت سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی حلقے، تعلیمی ادارے ہوں یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم، ہر جگہ یہ رجحان نمایاں ہوتا جا رہا ہے کہ مخالف نقطہ نظر کو سمجھنے سے پہلے اس کی نیت پر حکم لگا دیا جاتا ہے۔ یوں دلیل سے پہلے شناخت اور مکالمے سے پہلے صف بندی وجود میں آ جاتی ہے جو نہ تو افراد کے باہمی تعلق کیلئے سود مند ہے نہ ہی معاشرتی یکجہتی اور اتحاد کیلئے۔ 

ہمارے عہد کا اصل بحران اختلاف کے آداب کا فقدان ہے۔ معاشرے اختلاف سے کبھی تباہ نہیں ہوتے؛ وہ اس وقت زوال پذیر ہوتے ہیں جب اختلاف، مکالمے سے نکل کر مخاصمت میں اور تنقید، کردار کشی میں تبدیل ہو جائے۔ آج جب ڈیجیٹل دنیا نے اظہار کو غیر معمولی وسعت دے دی ہے، تو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اظہار کی آزادی کو اظہار کی ذمہ داری سے وابستہ کریں۔ سوشل میڈیا کو تہذیب کا دشمن یا دوست قرار دینے سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم خود کس تہذیب کے نمائندہ ہیں۔ اگر ہمارے الفاظ انصاف سے خالی، ہمارے دل تعصب سے لبریز اور ہمارے مکالمے احترام سے محروم ہوں، تو کوئی ٹیکنالوجی معاشرے کو مہذب نہیں بنا سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: مستقل مزاجی، وقتی خواہش سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے

اختلاف پر ارشاد باری تعالیٰ پڑھئے

قرآنِ مجید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اختلافات کا فیصلہ محض جذبات یا گروہی وابستگی سے نہیں، بلکہ عدل اور دیانت کے ساتھ ہونا چاہئے:’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف کو چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“(المائدہ:۸) یہ آیت صرف عدالتی نظام کے لئے نہیں، بلکہ ہر اس موقع کے لئے رہنما ہے جہاں انسان کسی دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر کسی شخص یا جماعت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے یہی اصول سب سے پہلے فراموش ہوتا ہے۔ اختلاف کی بنیاد پر انصاف معطل کر دیا جاتا ہے اور مخالف کی ہر بات کو غلط، بلکہ اس کی ہر نیت کو مشکوک سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر سے نہ صرف افراد متاثر ہوتے ہیں بلکہ پورا اجتماعی شعور عدمِ اعتماد کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ آیت بھی پڑھئے ’’ اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔‘‘ (سورہ البقرہ:۸۳)

اس آیت میں اسلامی معاشرت کا پورا اخلاقی فلسفہ پوشیدہ ہے۔ اس میں مخاطب صرف اہلِ ایمان نہیں بلکہ ’الناس‘ ہیں؛ یعنی انسان، خواہ ان کا مذہب، فکر یا موقف کچھ بھی ہو۔ گویا اسلام اختلاف کو زبان کی شائستگی سے جدا نہیں کرتا۔ اگر گفتگو سے حسنِ خطاب رخصت ہو جائے تو حق بات بھی اپنا اخلاقی وزن کھونے لگتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:’’نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوب صورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے نکال لی جائے اسے بدصورت کر دیتی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:۲۵۹۴)  

یہ صرف اخلاقی فضیلت کا بیان نہیں بلکہ مکالمے کا اصول بھی ہے۔ دلیل کی اصل قوت اس کے الفاظ کے شور میں نہیں، بلکہ اس کے اخلاق میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK