Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن کی تعلیمات بار بار متوجہ کرتی ہیں کہ انسان اپنی رائے کو آخری نہ سمجھے

Updated: July 17, 2026, 4:31 PM IST | Dr. Urooj Ahmed Mudassir | Mumbai

سوچ کی تشکیل میں ماضی کے تجربات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان جو کچھ دیکھتا، سنتا اور محسوس کرتا ہے، وہ اس کے ذہن میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ بعد میں یہی تجربات اس کی نئی سوچ کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر کسی کا ماضی تکلیف دہ ہو تو وہ حال کو بھی اسی زاویے سے دیکھتا ہے۔

Another important aspect of thinking is self-talk. People talk to themselves throughout the day. Photo: INN
سوچ کا ایک اور اہم پہلو خود کلامی (Self-Talk) ہے۔ انسان دن بھر اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔ تصویر: آئی این این

سوچ کی تشکیل میں ماضی کے تجربات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان جو کچھ دیکھتا، سنتا اور محسوس کرتا ہے، وہ اس کے ذہن میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ بعد میں یہی تجربات اس کی نئی سوچ کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر کسی کا ماضی تکلیف دہ ہو تو وہ حال کو بھی اسی زاویے سے دیکھتا ہے۔ اسے ہر چیز میں خطرہ نظر آتا ہے، ہر تعلق میں شک، اور ہر موقع میں ناکامی کا امکان۔یہ کیفیت Pattern Recognition کہلاتی ہے، جہاں ذہن ماضی کے patterns کو حال پر apply کرتا ہے۔ یہ عمل بعض اوقات مددگار ہوتا ہے، مگر اکثر یہ انسان کو قید کر دیتا ہے۔ وہ نئے امکانات کو نہیں دیکھ پاتا کیونکہ اس کا ذہن پرانے سانچوں میں بند ہوتا ہے۔

سوچ کا ایک اور اہم پہلو خود کلامی (Self-Talk) ہے۔ انسان دن بھر اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔ یہی اندرونی مکالمہ اس کی سوچ کو تشکیل دیتا ہے۔ اگر یہ مکالمہ منفی ہو ، جیسے ”میں نہیں کر سکتا یا ”میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے“ تو یہ انسان کی خود اعتمادی کو کمزور کر دیتا ہے۔ اور اگر یہ مثبت اور حقیقت پسند ہو تو یہ انسان کو مضبوط بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مستقل مزاجی، وقتی خواہش سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے

نفسیات میں اسے Internal Narrative کہا جاتا ہے، یعنی وہ کہانی جو انسان اپنے بارے میں خود کو سناتا ہے۔ یہی کہانی اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔

سوچ کی ایک اور دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یعنی انسان جو مان لیتا ہے، وہ اسی کے مطابق شواہد تلاش کرتا ہے۔ اگر وہ یہ مان لے کہ لوگ اس کے خلاف ہیں تو اسے ہر عمل میں یہی نظر آئے گا۔ اگر وہ یہ مان لے کہ وہ ناکام ہے تو وہ اپنی کامیابیوں کو بھی نظر انداز کر دے گا۔

اسے نفسیات میں Confirmation Bias کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خاموش مگر طاقتور عمل ہے جو انسان کو اپنی ہی سوچ کا قیدی بنا دیتا ہے۔

انسانی سوچ کا ایک اور پہلو توجہ کا انتخاب (Selective Attention) ہے۔ انسان ہر چیز پر توجہ نہیں دے سکتا، اس لئے وہ کچھ چیزوں کو منتخب کرتا ہے اور باقی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہی انتخاب اس کی حقیقت کو تشکیل دیتا ہے۔ اگر وہ صرف منفی چیزوں پر توجہ دے گا تو اس کی دنیا منفی ہو جائے گی، اور اگر وہ مثبت پہلوؤں کو دیکھے گا تو اس کی سوچ متوازن ہو جائے گی۔

سوچ کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ غلط ہوتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ نامکمل ہوتی ہے۔ انسان محدود معلومات، جذباتی اثرات اور ماضی کے تجربات کی بنیاد پر سوچتا ہے، اور پھر اسے مکمل حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شعور کی ضرورت ہوتی ہےیعنی انسان اپنی سوچ کو observe کرے، اسے question کرے اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کرے۔

نفسیاتی تربیت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ انسان اپنی سوچ کے ساتھ فاصلہ پیدا کرے۔ وہ اپنے خیالات کو خود سے الگ دیکھے، تاکہ وہ ان کا تجزیہ کر سکے۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے کہ ”میں اپنی سوچ نہیں ہوں بلکہ اپنی سوچ کا مشاہدہ کرنے والا ہوں“ تو اس کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی آتی ہے۔ یہی عمل Metacognition  کہلاتا ہے، یعنی سوچ کے بارے میں سوچنا۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو انسان کو عام سوچ سے نکال کر شعوری سوچ کی طرف لے جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈجیٹل عہد میں مثبت مکالمے کا زوال اور اسلامی روایات

اگر ہم اس پورے عمل کو ایک وسیع زاویے سے دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان کی سوچ خود بخود درست نہیں ہوتی، بلکہ اسے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی سوچ کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے تو وہ اسے کہیں بھی لے جا سکتی ہے، مگر جب وہ اسے شعور، توازن اور احتساب کے ساتھ جوڑ دیتا ہے تو یہی سوچ اس کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

ایک ذی عقل کو ہمیشہ بلند تر رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، ایسی رہنمائی جو انسان کو صرف سوچنے کا طریقہ ہی نہ سکھائے بلکہ اسے یہ بھی بتائے کہ حقیقت کو کیسے دیکھا جائے۔ چنانچہ وحی ( قرآن )کی تعلیمات انسان کو بار بار اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے گمان کو یقین نہ بنائے، اپنی رائے کو آخری نہ سمجھے، اور ہر معاملے میں توازن، تدبر اور تحقیق کو اختیار کرے۔ جب انسان اس اصول کو اپنی سوچ کا حصہ بنا لیتا ہے تو اس کا ذہن بھی صاف ہونے لگتا ہے اور اس کی زندگی بھی متوازن ہو جاتی ہے۔ یہی وہ شعوری ارتقاء ہے جو انسان کو محض سوچنے والے وجود سے ایک سمجھنے والے انسان میں بدل دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK