جنگ کے خاتمے کے لئے ایران ایک باوقار فریم ورک کے حصول کے لئے تیار ہے ،ایران کے صدرمسعود پزشکیان کا بیان۔
ٹرمپ کی میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
ایران جنگ سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نےکابینہ کا غیر معمولی اجلاس طلب کرلیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق عہدہ سے سبکدوش ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ سمیت تمام کابینہ اراکین شریک ہوں گے ۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر بات چیت کیلئے کابینی اجلاس وہائٹ ہاؤس میں ہوگا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اجلاس میں ایران سے مذاکرات پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ وسیع تر معاہدے کیلئے اگلے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ قبل ازیں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کار جنگ کے خاتمےکیلئے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں۔’ سی بی ایس نیوز‘ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ حتمی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور یہ بھی یقینی بنائے گا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو تسلی بخش انداز میں سنبھالا جائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں صرف ایسے معاہدہ پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ حاصل ہو جو ہم چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو افزودہ یورینیم یا تو امریکہ کو دینا ہوگی تاکہ وہ امریکہ میں لاکر تباہ کردی جائے یا پھر ترجیحی طور پر ایران کے ساتھ رابطےمیں رہ کر کسی اور قابلِ قبول جگہ پر اٹامک انرجی کمیشن یا کسی متوازی ادارے کے ساتھ مل کر تباہ کرنا ہوگی ۔ ٹرمپ کے ایران کے افزودہ یورینیم کو منتقل کرنے سے متعلق بیان پر گھانا میں ایرانی سفارتخانے نے کہا تھا کہ افزودہ یورینیم گھر میں ہے اور گھر میں ہی رہے گی۔ کینیا میں ایرانی سفارتخانے نے کہا کہ ٹرمپ اب تک نیوکلیئر ڈسٹ تصور کے وہم میں مبتلا ہیں۔
ایرانی صدر نے کیا کہا؟
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کیلئے ایران ایک باوقار فریم ورک کے حصول کے لیے تیار ہے۔ قطر کے امیر تميم بن حمد بن خليفہ آل ثانی سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران صدر مسعود پزشکیان نے امن کے لیے دوحہ کے تعمیری کردار اور حمایت پر قطری امیر کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کے اصولوں اور معاہدوں کی روح کی پاسداری کی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرا فریق بھی اپنے قول و فعل دونوں سے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے۔ قبل ازیں، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بین الاقوامی انٹرنیٹ رسائی دوبارہ کھولنے کا حکم جاری کر دیا ہے، ایرانی سرکاری میڈیا نے پیر کے روز ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا، یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے بعد تقریباً۹۰؍ روزہ انٹرنیٹ بندش کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ صدر پزشکیان نے یہ بھی کہا ہے کہ دشمن فوجی محاذ پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اور اب دشمن ایران کی معاشی طاقت کو نقصان پہنچانے پر توجہ دے رہا ہے۔