Inquilab Logo Happiest Places to Work

رسمی بقرعید منائیں یا اس سے کچھ سیکھیں؟

Updated: May 28, 2026, 12:18 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

چند باتیں بار بار کہی جانی چاہئیں، باربار پڑھی اور سنی جانی چاہئیں۔ مثلاً:

Bakra Eid.Photo:PTI
بکرا عید۔ تصویر:پی ٹی آئی
(۱) بقر عید پر بچوں بچیوں اور لڑکوں لڑکیوں میں قربانی کے جانور کا کافی ’’کریز‘‘ پایا جاتا ہے۔ کئی خاندانوں میں لوگ بچوں کی ضد کے آگے سپر ڈالتے ہوئے جانور خریدتے ہیں جبکہ وہ قربانی کا فریضہ ادا کرنے کیلئے بڑے جانور میں حصہ لے چکے ہوتے ہیں۔ ہمیں بچوں کی ضد پورا کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی مگر کیا وہی والدین جو اُن کی فرمائش کو پورا کرنے کیلئے استطاعت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں، انہیں قربانی کی اصل روح سے واقف کرانے میں دلچسپی لیتے ہیں؟ قربانی رسم نہیں ہے۔ یہ فلسفہ ہے۔ نئی نسل کو اس فلسفے سے واقف کرانا اور اُن میں جذبۂ قربانی و جذبۂ ایثار پیدا کرنا والدین کا فرض ہے۔ معاشرہ میں، بالخصوص وہ بچے اور نوعمر جو عصری اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اُن کی خاطرخواہ دینی تعلیم نہیں ہوپاتی۔ اکثر والدین تب تک ہی اُنہیں مکتب یا مدرسہ بھیجتے ہیں یا عربی تعلیم کیلئے معلم مامور کرتے ہیں جب تک وہ کلام پاک پڑھنے کے قابل نہیں ہوجاتے۔ کلام پاک مکمل ہوا تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اُن کی دینی تعلیم مکمل ہوگئی۔ اس دوران یہ جاننے کی فکر نہیں کی جاتی کہ اُنہیں صحیح نماز کا طریقہ بتایا گیا یا نہیں، سونے جاگنے، بیٹھنے اُٹھنے، کھانے پینے،ملنے جلنے اور دیگر معمولات کے اسلامی آداب سے واقف کرایا گیا یا نہیں اور اسلام و اسلاف کی اُتنی معلومات بہم پہنچائی گئیں یا نہیں جتنی اُن کیلئے از حد لازمی ہیں؟ عید الاضحی محض گوشت خوری کا دن نہیں، اپنا جائزہ لینے کا بھی دن ہے کہ ہم نے سنت ابراہیمی اپنے بچوں کے ذہن نشین کرا دی یا نہیں؟
(۲) قربانی سے جذبۂ ایثار پروان چڑھنا چاہئے۔ یہ جذبہ فروغ پا جائے تو یقین جانئے نفسانفسی نہیں ہوگی، باہمی کشیدگی نہیں ہوگی، آپسی تنازعات نہیں ہوں گے یا بہت کم ہوں گے اور رشتوں میں دراڑیں نہیں پڑیں گی ۔ اب غور کیجئے کہ ہم ہر سال پابندی کے ساتھ قربانی کرتے ہیں مگر عام دنوں میں ایک دوسرے کیلئے کتنی قربانی دیتے ہیں؟ کتنا ایثار کرتے ہیں؟ ایثار سے زندگی میں کتنی گہرائی و گیرائی پیدا ہوتی ہے اس کا اندازہ تبھی کیا جاسکے گا  جب اسے روزمرہ کی زندگی میں عملاً شامل کیا جائیگا۔ 
 
 
(۳) ملک کے بدلے ہوئے حالات میں بقرعید آتی ہے تو عجیب سی کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے جو کبھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور کبھی واقعہ نہیں بنتی مگر بآسانی محسوس کی جاسکتی ہے۔اس کے پس پشت سیاسی محرکات ہیں جس کو اُن لوگوں کی بھی تائید حاصل ہوجاتی ہے جن کے دلوں میں نہ تو تعصب ہے نہ ہی مسلمانوں کے تئیں کوئی مخاصمانہ جذبہ۔ ایسے لوگوں تک اپنی بات پہنچانا ضروری ہے کہ یہ عید ان معنوں میں ملک کی معیشت کیلئے فائدہ مند ہے کہ اس سے دیہی علاقوں کو، جہاں سے جانور خریدے جاتے ہیں، معاشی قوت ملتی ہے۔ ہمارے پاس اس سلسلے کے اعداددوشمار ہونے چاہئیں۔ یہی نہیں، یہ پیغام بھی عام ہونا چاہئے کہ اگر بقرعید پر جانوروں کی قربانی نہ ہو تو اتنے جانور ہوجائینگے کہ ان کی یومیہ خوراک کا انتظام کرنا مشکل ہوجائے اور عجب نہیں کہ سڑکوں پر چلنا پھرنا دوبھر اور شاہراہوں پر گاڑیاں دوڑانا وَبال جاں ہوجائے۔ 
 
 
(۴) اسلام دولت کے ارتکاز کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا اسی لئے، اس نے زکوٰۃ اور صدقات کی شکل میں ایک نظام دیا ہے۔ ماہِ رمضان میں اور عید الفطر پر تو لوگ غریبوں اور مستحقوں کی جانب دست تعاون دراز کرتے ہیں مگر بقرعید پر گوشت کی چار بوٹیاں دے کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ کیا یہ طریقۂ عمل دین کی روح کے مطابق ہے؟

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK