عید: کیا شان، کیا وقار ہے اس جشن طرب کا

Updated: May 14, 2021, 3:10 PM IST | Gulam Mustafa Rizvi | Malegaon

اسلامی فلسفہ ٔ مسرت بھی اتنا جامع اور دل پزیر ہے کہ اس پر جتنا غور کیا جائیگا، اُتنے ہی اس کے راز ہائے سربستہ کھلتے ہیں ، ہم تمدن اغیار سے فرصت پاکر اس کا جائزہ تو لیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

   اسلام کا ہر پہلو حکمت و دانش سے آراستہ ہے۔ یوم مسرت ہو یا غم، خوشی ہو یا الم، ہر موقع، ہر لمحہ تبھی بامقصد کہلائے گا جب خالق و مالک کو یاد کیا جائے۔ مسجودِ حقیقی کی نوازشات یاد کی جائیں، اپنے پروردگار کو یاد کیا جائے۔ ’’عید‘‘ منانے کا مقصد منعمِ حقیقی کا شکر بجا لانا ہے، اس کی نعمتوں کی یادتازہ کرنا ہے، اس کے کرم کا احسان ماننا ہے، اس کی نوازش کا دوگانہ ادا کرنا ہے، اس کی عطا کا چرچا کرنا ہے۔ اسی کا فرمان ذی شان ہے: ’’ اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے۔‘‘ ہم ان نعمتوں کے ملنے پر احسانِ رب العالمین کا تذکرہ تو کر سکتے ہیں!  خوشی منانا فطرت کا خاصہ ہے، فطری تقاضا  بھی ہے، عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے لیکن سوال ہے کہ یہ کس طرح منائی جائے؟ اس کا پس منظر دیکھنا ہو گا۔ رمضان کو لیجئے جس کا پس منظر یوں ہے کہ اس ماہ میں روزے رکھے جاتے ہیں، روزے سے نفس کو لگام لگتی ہے، روزے سے فکری آوارگی دور ہوتی ہے، روزے سے تقوے کا حصول ہوتا ہے اور ذہن کا غبار دھلتا ہے، کدورتیں دور ہوتی ہیں، اس کے سائنسی فوائد بھی ہیں اور روحانی و جسمانی بھی۔ تراویح، نمازوں کا اہتمام، تلاوتوں کی بہار یہ سب من کی دنیا کو مہکا جاتے ہیں، باطن کو سنوار دیتے ہیں، فکر کو نکھار دیتے ہیں، گناہوں کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کریم کا خوف خیالات کو پاکیزہ بنا دیتا ہے، پھر غرۂ عید طلوع ہوتا ہے، ہلالِ عید نمودار ہوتا ہے۔    عید کا پس منظر یہی ہے کہ خوشی منائی جائےلیکن اسلامی شان کے ساتھ، مختار کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام کے ساتھ، رب کی رضا کے ساتھ، شریعت کی پابندی کے ساتھ، اعمالِ صالحہ کی تابندگی کے ساتھ، غریبوں کی خوشنودی کے ساتھ، مساکین کی دل جوئی کے ساتھ، مفلسوں کی مدد کے ساتھ۔ تکبر نہیں  بلکہ خلوص کے ساتھ، للّٰہیت کے ساتھ، محبت کے ساتھ، مروت کے ساتھ، حیا کے ساتھ، شفقت کے ساتھ، تب بشارتوں کا آفتاب طلوع ہوگا، اور گنبد خضرا سے نسیم سحر چلے گی، دل کی کلیاں کھلیں گی، من کی دنیا مہکے گی، فضا روشن ہو اٹھے گی: 
عید مشکل کشائی کے چمکے ہلال
ناخنوں کی بشارت پہ لاکھوں سلام
      ہم مسلمان ہیں، اسلامی احکام پر عمل ہمارا کام ہے، ان سے رُو گردانی فکر ِخام ہے، ان سے دوری میں ذلت مدام ہے۔ آج مسلمانوں پر دانشِ فرنگ کی یلغار ہے، جس سے فضا خوں آشام ہے اور تمدنِ مغرب خوش مرام ہے۔ 
 اسی لئے یہ سمجھنے اور غور کرنے کا وقت ہے۔ جاگ جائیے، فطری بات ہے کہ ہر قوم کو اپنی تہذیب پیاری ہوتی ہے، اپنے معمولات عزیز ہوتے ہیں، جہاں اپنے اصولوں سے انحراف ہوتا ہے وہاں سے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی انگریز کو دیکھا کہ اس نے اسلامی تمدن کو اپنایا، کیا آپ نے کسی یہودی کو دیکھا کہ اس نے اسلامی شعار پر عمل کیا، کیا آپ نے کسی مشرک کو دیکھا کہ اس نے اپنے تمدن کو چھوڑ کر اسلامی تمدن کو مطمح نظر بنایا، ایسا نہیں ہوا، محکوم قومیں حاکم قوموں کے تمدن کو اپنا لیتی ہیں، ہم محکوم نہیں، پھر کیوں باطل تہذیبوں کو اپناتے ہیں؟
 سوچنے کا مقام ہے کہ آخر کیوں ہم دین فطرت کے حامل ہو کر بھی تمدنِ مغرب کے اسیر ہوتے جارہے ہیں، اور یہی کچھ معاملہ ’’عید‘‘ کا بھی ہے، اس مبارک موقع کو بھی اسلامی طرز کے مطابق منانے کے بجائے اغیار کے طریقے پر منا کر رحمتِ الٰہی سے خود کو محروم کرتے ہیں، عید سے قبل تو نفس کی پاکی کا اہتمام، اور عید ہی کے دن نفس کی اسیری! کیا منفی اندازِ فکر نہیں، کیا یہ زوال کے آثار نہیں، کیا یہ ہماری ابتری کا ایک نمایاں سبب نہیں، للہ اپنے حال پر رحم کیجیے! رب کے احکام پر عمل کا اہتمام کیجئے، تب خوشی و مسرت کی بادِ بہاراں چلے گی اور پورا وجود مہک اٹھے گا اور یہی عید کا حقیقی تصور ہے کہ خوشی اسلامی احکام کے مطابق منائی جائے، پوری اسلامی سوسائٹی کو اس میں شامل کیا جائے۔ اس طرح کسی کمزور کا حق مجروح نہیں ہوگا، کوئی مفلس محروم ِمسرت نہیں ہوگا، کوئی غریب عید پر نالہ کناں نہیں ہوگا، کوئی بے آسرا تنہائی محسوس نہیں کرے گا، اس لئے کہ آسرا اور مدد فراہم کرنے والے مسلمان اپنے دوسرے بھائیوں کو اسلامی رشتے کی بنیاد پر اپنا سمجھیں گےاور اس کی مدد کو اپنا فریضہ۔
  دیگر قوموں کے خوشی کے موقعوں کے برخلاف اسلامی تصورِ عید خدا کو یاد کرنے اور اس کے حضور سجدہ ٔ شکر بجا لانے کا پاکیزہ پیغام دیتا ہے۔ یہ تصور سماج کے کمزور طبقات کو اپنے ساتھ لے کر چلنے، اُن کے لبوں پر مسکراہٹیں سجانے اور اُنہیں یہ اعتماد دلانے کا بھی پیغام دیتا ہے کہ وہ مالی دشواریوں میں مبتلا  ہیں مگر تنہا نہیں ہیں، اُن کی فکر کرنے والا معاشرہ ہے جو خوشیاں منائے گا تو  اُنہیں بھی ساتھ لے کر۔
  اسی لئے کوشش یہ ہو کہ تنگ دستوں کی جھولی بھر کر عید منائی جائے، مصیبت زدوں کے دکھوں کا مداوا کر کے عید منائی جائے، مظلوموں کی داد رسی کر کے عید منائی جائے، غریبوں کو سہارا فراہم کر کے عید منائی جائے، ٹوٹے دلوں کو جوڑ کر عید منائی جائے، روٹھے عزیزوں کو منا کر کے عید منائی جائے، گستاخانِ بارگاہِ رسالت سے بیزاری کا اظہار کر کے عید منائی جائے اور وفادارانِ بارگاہِ رسالت کو خوش کر کے عید منائی جائے، تبھی عید کی حقیقی خوشی حاصل ہو گی، جس سے قلبی راحت و فکری طمانیت کا احساس ہوگا اور یہی مسلماں کی اصل مسرت یعنی رضائے رب اکبر ہوگی، خوش نودی ٔ پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم ہوگی اور  اسلامی تمدن کی تمکنت کا باعث ہوگی۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK