خوشگوار ازدواجی زندگی کیلئے لڑکے لڑکیوں کی تربیت ضروری ہے

Updated: December 10, 2019, 12:50 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی مکمل طور پر تربیت یافتہ اور وفا شعار ہے لیکن زیادتی یا پریشانی اس کے شوہر کی طرف سے آرہی ہے تو اُس کی اصلاح بھی با لکل اسی طرح ضروری ہے جس طرح ایک لڑکی کی ۔

خوشگوار زندگی کیلئے ہم آہنگی ضروری ہے۔
خوشگوار زندگی کیلئے ہم آہنگی ضروری ہے۔

ماں باپ یا گارجین جب اپنے لڑکے یا لڑکی کی شادی کراتے ہیں تو اِس بات کا بھر پور خیال رکھتے ہیں کہ اُن کی شادی شدہ زندگی پُرسکون اور خوشگوار ہو۔ اِس بات کو یقینی بنانے کیلئے رشتہ جوڑنے سے پہلے وہ مکمل چھان بین اور چھان پھٹک کرتے ہیں اور اس کے بعد ہی رشتہ طے کرتے ہیں۔ اِس کے باوجود بسا اوقت ایسا ہوتا ہے کہ شادی کے بعد نہ صرف یہ کہ اُنہیں پریشانی اور مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ لڑکے اور لڑکی کی زندگی بھی جسے خوشگوار ہونا چاہئے تھا، اُلجھنوں اور مسائل کی زد پر آجاتی ہے۔ اِس کی جہاں بہت ساری دیگر وجوہات بھی ہیں وہیں ایک اہم وجہ لڑکا یا لڑکی اور کبھی دونوں کی نادانی و ناسمجھی بھی ہے۔ زیر نظر مضمون میں ہم اسی مؤخر الذکر پہلو سے بحث کریں گے۔ 
ہم سب کا یہ ماننا ہے کہ اولاد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے،لہٰذا شکرانِ نعمت کے طور پراُس کی قدردانی بھی ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اولاد اِس قدرعظیم ہے تو ہم اس کی عظمت کی پاسداری میں کیوں ناکام رہ جاتے ہیںکہ وہ شادی کے بعد خود پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ دو خاندانوں کی اذیت کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں؟ آخر کمی کہاں رہ جاتی ہے کہ اولاد جیسی نعمت ہماری زندگی کےلئے زحمت بن جاتی ہے؟ اِس تعلق سے سب سے اہم نکتہ جس کی جانب سماج کے مصلحین نے رہنمائی کی ہے وہ یہ کہ والدین یا سرپرست کسی نہ کسی درجہ میں اور کہیں نہ کہیں ان لڑکے لڑکیوں کی مناسب تربیت میں ناکام رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے زندگی کا وہ مرحلہ جس کو خوشی کا استعارہ ہونا چاہئے؛ ناخوشگواریوں کی علامت بن جاتا ہے ۔ 
چونکہ علما ء و دانشوران نے مرض کی تشخیص کردی ہے اِس وجہ سے اس کا علاج نسبتاً آسان ہے۔ اس کے لئے ہمیں دو محاذ وں پر کام کرنا ہوگا: (۱) لڑکے لڑکیاں جب حدِ شعور کو پہنچ جائیں تو جہاں ہم اُن کے لئے ہر ممکنہ بہترین دینی و دنیاوی تعلیم کا انتظام کریں وہیں حال اور مستقبل کی زندگی کے حوالے سے اعتدال پر مبنی اُن کی تربیت کا بھی انتظام کریں۔ بچوں کی زندگی کو مثالی بنانے کے لئے ہم اسلامی تعلیمات کے آئینے میں اُنہیں بتائیں کہ ایک پاکیزہ معاشرے میں اُن کا کیا کردار ہے اور اُسے کس طرح ادا کیا جانا چاہئے، وہ کیسے گھر میں رہیں، کیسے باہر نکلیں، کیسے کھائیں، کیسا لباس پہنیں، عزیزوں کا کس طرح خیال رکھیں، بڑوں کے تئیں کیسا جذبہ ضروری ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے کیاکچھ کیا جانا چاہئے، ازدواجی زندگی کیسے گزارنی چاہئے جو قدم قدم پر قربانی کا مطالبہ کرتی ہے، وغیرہ۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کی تربیت اِ س انداز سے کرنے کا اہتمام کر لیا تو، یقیناً جہاں ہم اُن کے حال کو محفوظ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے وہیں اُن کے مستقبل کو پُرسکون اور کامیاب بنانے کی بنیاد بھی ڈال دیں گے۔ 
اسی کے ساتھ ہم اِس بات کا بھی اہتمام کریں کہ ہم اپنی بچوں کو مناسب وقت پر شادی شدہ زندگی کے بارے میںضرور بتائیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اُنہیں دُنیوی تعلیم و تربیت تو دیتے ہیں لیکن شادی جو کہ ایک ناگزیر ضرورت ہے، اس حوالے سےبے خیالی ہی میں سہی، اپنے بچوں کی مناسب ذہن سازی نہیں کرتے۔ نکاح کے فوراً بعد لڑکیوں کا کن لوگوں سے واسطہ پڑے گا اور اُنہیں کن مراحل سے گزرنا ہوگا، اس کی بھی ڈھنگ سے تعلیم و تربیت نہیں دیتے۔ ہماری اِس غفلت سے بچوں کی شادی شدہ زندگی میں جو بد مزگی پیدا ہوتی ہے وہ بیان سے باہر ہے۔لہٰذا وقت رہتے اگر ہم اپنی بچیوں کو ازدواجی زندگی کے اصول اور نشیب و فراز سے واقف کرا دیں گے تو نہ صرف اپنی بچی کو بلکہ دو خاندانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانے سے بچالیں گے۔اسی طرح لڑکوں کو بھی آئندہ زندگی کے تقاضوں کو سمجھنے کا احساس دلانے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی جانب سے غفلت برتی جاتی ہے۔ 
ہم نے اوپر یہ ذکر کیا ہے کہ بچوں کی ناکافی تربیت کی وجہ سےشادی شدہ زندگی میں کانٹے اُگتے ہیں؛ اِس حوالے سے ہماری پہلی ذمہ داری شادی سے پہلے بچوں کی تربیت کی ہے اور ہماری دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ اگر ہم شادی سے پہلے اپنی بچوں کی تربیت میں غافل تھے تو کسی ناخوشگواری کی بھنک ملتے ہی حکمت کو بروئے کار لاتے ہوئے اُنہیں صحیح ڈگر پر لانے کی بھر پور کوشش کریں۔ اِس حوالے سے کئی طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔ بہو اور بیٹا یا بیٹی اور داماد کی غلطیوں کی بے جا حمایت اور تائید کے بجائے خاندان کے سلجھے ہوئے افراد کو متوجہ کریں تاکہ وہ حضرات و خواتین انہیں بہتر مشوروں سے نواز کر بالخصوص اسلامی تقاضا کیا ہے وہ سمجھانے کی کوشش کریں تاکہ شادی شدہ زندگی کی گاڑی مکمل طور پر پٹری ہی پر رہے، اُتر نہ جائے۔ اسی طریقے سے خوشگوار ازدواجی زندگی کے تعلق سے قرآن و حدیث کی ہدایات اورعلما ءوصلحاکی تقریریں اُنہیں سنانے اور پڑھانے کی مخلصانہ کوشش کریں ، یقیناً ان سے لڑکا لڑکی کے دل و دماغ میں حیرت انگیز تبدیلی آئے گی اور وہ اپنی غلطیوں کو سدھار کر ایک خوبصورت زندگی گزارنے کے راستے پر چل پڑیں گے۔ 
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی مکمل طور پر تربیت یافتہ اور وفا شعار ہے لیکن زیادتی یا پریشانی اس کے شوہر کی طرف سے آرہی ہے تو اُس کی اصلاح بھی با لکل اسی طرح ضروری ہے جس طرح ایک لڑکی کی ۔ لڑکے کے حوالے سے بھی والدین اور گارجین پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو لڑکی کے تعلق سے ہیں۔ غرضیکہ میاں بیوی دونوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اُن دونوں کا تعلق پیارو محبت کا ہے نفرت و عداوت کا نہیں جس کے لئے صبر،ایثار اور قربانی ضروری ہے۔ 
 خلاصہ یہ ہے کہ ایک مثالی شادی شدہ زندگی کے لئے میاں بیوی اور دونوں خاندانوں کی طرف سے یکساں پیار و محبت اور والہانہ تعلق از حد ضروری ہے۔ جہاںبیوی کے پیشِ نظر معلمِ انسانیت محمد ﷺ کی یہ حدیث رہے کہ : ”ساری دنیا سامان (خزانہ) ہے اور دنیا کا سب سےبہترین سامان (خزانہ) نیک عورت ہے۔ “(مسلم) وہیں شوہر کے سامنے نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیث ہونی چاہئے کہ : ”کامل ایمان والاوہ شخص ہے جو اخلاق میں اچھاہو اور تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہوں۔ “ 
(ترمذی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK