Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان، عید اور مسلم نوجوان

Updated: March 29, 2026, 8:51 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

آج کے حالات کے ا عتبار سےنوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کا دین سے لگاؤ معمولی نہیں ہے۔ یہ انتہائی خوش آئندبھی ہےاورحوصلہ افزا بھی۔ ان نوجوانوں نےدین سے، مسجد سے، قرآن پاک سےاپنے تعلق کو استوار کیا۔ رمضان کا شایانِ شان استقبال کیا، اس کی رخصتی پر غمگین ہوئےاورآئندہ سال مزیدجوش وجذبے کےساتھ رمضان کے استقبال کا عزم کیا اورپھر انہیں ہی عید کی خوشیاں نصیب ہوئیں۔

A large number of today`s youth understand religion, meaning they know the basics of religion and act on that knowledge as much as they can. Photo: INN
آج کےنوجوانوں کی بڑی تعداد دین کو سمجھتی ہے، یعنی اسے دین کی بنیادی باتوں کا علم ہےاوراس علم پر وہ جتنا عمل کرسکتی ہے، کرتی بھی ہے۔ تصویر: آئی این این

ماہ رمضان المبارک گزر گیا۔ اس کا افسوس ہےاورخوشی واطمینان اس بات پر ہےکہ یہ افسوس کرنے والے موجود ہیں، صرف پرانی ہی میں نہیں بلکہ نئی نسل میں بھی۔ پرانی نسل کے لوگوں میں یہ بات راسخ ہےکہ انہیں رمضان کے رخصت ہونے کا قلق ہوتا ہےاورایک ایسا خلامحسوس ہوتا ہےجوجلد پُر نہیں ہوتا۔ آج بہت سے نوجوانوں کی بھی یہی کیفیت ہے۔ انہیں رمضان کے گزرنے کا دُکھ ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ رمضان آیا بھی اورچلابھی گیا۔ ان کادل اس پُر نورفضاسے باہر نہیں آسکا ہےجوابھی چند دنوں قبل شب وروز پر طاری وحاوی تھی۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے رمضان کے پورے مہینے با جماعت نمازیں ادا کی ہیں، پہلی صف میں تراویح پڑھی اوران میں سے بہت سوں نے اعتکاف میں بیٹھنے کی سعادت بھی حاصل کی۔ میں نے ذاتی طورپر ایسے نوجوانوں کو بھی دیکھا ہےکہ جو پورے رمضان پہلی صف میں ہی نظر آئے۔ ان نوجوانوں کو با جماعت اورپہلی صف میں نماز پڑھنے کی اہمیت اور اس کے اجرکا علم ہے اورعلم نہ بھی ہوتب بھی وہ اس بات سے تو ضرور واقف ہیں کہ پوری سنجیدگی کے ساتھ نماز کی ادائیگی کیلئےیہ ــضروری ہےکہ پہلی صف میں اورتکبیراولیٰ کے ساتھ جماعت میں شامل ہونے کی کوشش کی جائے۔ ان نوجوانوں نے یہ کوشش بلکہ کامیاب کوشش مہینے بھر کی۔ پھرایسا بھی نہیں کہ فرض پڑھ کرباہر آگئے۔ نوافل ادا کئے، دعا ومناجات کی، ذکرواذکار واستغفار کیلئے وقت نکالا، تلاوت کو معمول بنایا، یعنی مختصراً رمضان میں وہ اللہ کے اور ا للہ کے گھر کے ہی ہوکر رہےاورپھر عید کی حقیقی خوشیاں بھی انہیں نصیب ہوئیں بلکہ ان کے چہرے سے کسی نور کی طرح ظاہر ہوئیں۔ 
آج کے حالات کے ا عتبار سےنوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کا دین سے یہ لگاؤ معمولی نہیں ہے۔ یہ انتہائی خوش آئندبھی ہےاورحوصلہ افزا بھی۔ ان نوجوانوں نےدین سے، مسجد سے، قرآن پاک سےاپنے تعلق کو استوار کیا۔ رمضان کا شایانِ شان استقبال کیا، اس کی رخصتی پر غمگین ہوئےاورآئندہ سال مزیدجوش وجذبے کےساتھ رمضان کے استقبال کا عزم کیا۔ یہاں نوجوانوں کی جس نسل کی بات کی جارہی ہے اس کا تعلق ’جین زی‘ سے ہے جو ۱۹۹۷ء اور ۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہوئی اورآج اس نسل کے نوجوانوں کی عمر ۱۴؍سے ۲۹؍ سال کے درمیان ہے۔ اس میں اس سے پہلے کی نسل کوبھی شامل کیاجاسکتا ہےجس کی عمر ۳۲؍ سے ۳۸؍ سال کے درمیان ہے۔ یعنی اوسطاً تقریباً ۱۸؍ سے۳۶؍سال کےنوجوانوں کی بڑی تعداد دین کو سمجھتی ہے، یعنی اسے دین کی بنیادی باتوں کا علم ہےاوراس علم پر وہ جتنا عمل کرسکتی ہے، کرتی ہے۔ جس بات کا علم نہیں ہے، اس بارے میں بڑوں سے پوچھتی ہے۔ اس نسل کو معلوم ہےکہ بڑوں کا احترام کیسے کرنا ہے، اس نسل کے بچے اورنسبتاً پختہ عمرکے لڑکے سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں، اس نسل کے نوجوان اپنے ماں باپ کے کاموں میں ہاتھ بھی بٹاتے ہیں۔ اس نسل کو دین کا علم حاصل کرنے کا تجسس ہے۔ وہ دین کو جتنا جانتی اور سمجھتی ہے، اس سے زیادہ جاننا اور سمجھنا چاہتی ہے۔ اب یہ ذمہ داری اس سےپہلے کی نسل کے لوگوں کی ہےکہ وہ اپنےعلم سے جین زی اورآج کے نوجوانوں کو کتنا مستفید کرتی ہے۔ 
اسی کے ساتھ نوجوانوں کا وہ طبقہ بھی ہے جو دین سے دورہے۔ دور اس معنی میں نہیں کہ اسے دین سے لگاؤ نہیں ہے بلکہ اس معنی میں کہ ابھی اس میں دین اور عبادات کے تعلق سے سنجیدگی نہیں آئی ہے۔ ان نوجوانوں میں دین اور امور دین کا احترام ضرور ہےلیکن یہ خودکوعمل پرآمادہ نہیں کرسکتے اورغیر سنجیدگی کےسبب دینی معاملات وعبادات میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ مثال کے طورپر یہ رمضان اور رمضان کے تقدس وبرکت کوخوب سمجھتے ہیں اوراس تعلق سے انہیں بتایاجاتا ہے تو انتہائی ادب سے سنتے بھی ہیں لیکن یہ خود کو مساجد، نمازاورقرآن مجید سےجوڑ نہیں پاتے۔ وہ نوجوان جو رمضان میں خود کو مسجد کیلئے وقف کردیتے ہیں، ان کے مقابلے ان نوجوانوں کا زیادہ تر وقت اس مبارک مہینے میں سیر وتفریح اورلذت کام ودہن کے مراکز پر گزرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہےکہ ان نوجوانوں پر ان کے والدین کی جانب سے سختی نہیں کی جاتی۔ یہ سحری تک باہر ہی رہتے ہیں، ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ اِن نوجوانوں کے سامنے اُن نوجوانوں کو بطور مثال پیش کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مسائل سے انکار اور اپوزیشن کو موردِ الزام ٹھہرانے والا رویہ

واضح رہےکہ یہاں مثال ہی پیش کی جاسکتی ہےکیونکہ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ نوجوان نصیحتیں سنیں گے، (وہ نصیحتیں بس سن لیں گے)، لیکن ان کے سامنے جب تک عملی نمونہ نہیں رہے گا، کوئی بات اثر نہیں کرے گی۔ جو تھوڑے بہت اثرات کہیں نظر آتے ہیں وہ بھی عملی نمونے کے سامنے رہنے کے نتیجے میں ہی آتے ہیں۔ شریر قسم کے نوجوانوں میں جو تھوڑی بہت شرافت ومتانت کی جھلک نظر آجاتی ہے، اس کا سبب یہی ہوتا ہےکہ انہوں نے اپنی ہی نسل کے سنجیدہ نوجوانوں کو دیکھا ہوتا ہے۔ وہ کہیں نہ کہیں ان کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اورسنجیدہ نوجوانوں کے ذریعے انہیں غلط باتوں اور غلط کاموں پرٹوکا بھی جاتا ہے۔ 
ان غیر سنجیدہ نوجوانوں میں اثر پزیری کی صلاحیت ہےاورحقیقت یہی ہےکہ ’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ‘ ۔ اقبال نے ’جواب شکوہ ‘میں کچھ باتیں اپنے دور کے نوجوانو ں کے بارے میں کہی تھیں، مثلا ً’بے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئے‘، مثلاً ’ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزادکیا /لا کے کعبے سے صنم خانےمیں آباد کیا‘۔ ان اشعار کی تشریح اس طرح نہیں کی جا سکتی کہ اس دور کے نوجوان معاذ اللہ بے عمل تھے، یہاں تک کہ دین سے بدظن بھی تھے اوران کا کعبے کے بجائے صنم خانوں سے تعلق تھا۔ ہم تواس نسل کے بہت بعد کی نسل کے ہیں لیکن ہمارے اندر جو کچھ بھی دینی فہم ہے وہ اسی نسل کی بدولت ہے اورآئندہ نسلوں میں دین کا یہ فہم منتقل ہورہا ہے۔ شاعر مشرق کے درد کی بنیادوہ معیارہے جس پروہ خود کو اپنے دور کے لوگوں کو پرکھ کر دیکھ رہے تھے۔ و ہ نہ خود کو اس معیار پرپاتے تھے، نہ اپنے دور کے مسلمانوں کو۔ یہی وجہ ہےکہ ’جواب شکوہ‘ میں انہوں نے ہندی مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کی آخری کوشش کی۔ وہ اس وقت کے مسلمانوں کے حالات پر اس قدر دل گرفتہ ہوئے کہ مسلمانوں کی غفلت کو ’ بے عملی ‘ قراردیا اور دین سے دوری کوصنم خانےسے قربت کا نام دے دیا۔ حالانکہ مسلمان جو اس وقت تھے، وہی آج بھی ہیں بلکہ اس دورکے مسلمانوں کا ایمان یقیناًآج کے مسلمانوں سے مضبوط ہی تھا مگر بے عملی پر تنقید و تنبیہ بھی اتنی ہی سخت تھی۔ آج ا س قدر سخت تنقید نہیں کی جا سکتی۔ آج نرم الفاظ کا ہی سہارا لینا ہوگا۔ جو بے عمل ہیں، ان کے سامنے عمل کرنے والوں کونمونہ بنانا ہوگا اورسب سے بڑھ کرہم میں سے ہر ایک کو ہر ایک کیلئے کام کرنا ہوگا، خودکو محتاج سمجھ کر، خودکو پہلا مخاطب سمجھ کر۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK