حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون آزادانہ تبدیلیٔ مذہب پر پابندی نہیں لگاتا، لیکن اس کے عملی تقاضے، مبہم تعریفیں اور سخت سزائیں کسی اور حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں، تبدیلی ٔ مذہب سے ۶۰؍ دن پہلے نوٹس اور پھر اس کا مشتہر کیا جانا ایک ذاتی فیصلے کو اشتہار بنا دینےجیسا ہے۔
یہ قانون ۶۰؍دن پہلے سرکاری اجازت نما نوٹس کو لازمی قرار دیتا ہے جو مذہبی آزادی کو ’حکومت کی منظوری‘ سے مشروط کر دیتا ہے۔ تصویر: آئی این این
’’مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ ۲۰۲۶ء‘‘ کے خوشنما اور آئینی نام کے ساتھ ’’آزادی ٔ مذہب‘‘ کےشال میں لپیٹ کر ۱۷؍ مارچ کو مہاراشٹر اسمبلی میں پیش کیاگیا تبدیلی ٔ مذہب مخالف قانون اندیشوں کے عین مطابق محض ۲؍ دن بعد ۱۹؍ مارچ کو واضح اکثریت کے ساتھ صوتی ووٹوں سے منظور کرلیاگیا۔ یعنی ایوان میں بل کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اتنی بھی نہیں تھیں کہ اس پر ووٹنگ کی ضرورت پیش آتی۔ تبدیلی ٔ مذہب ہی نہیں مذہب کی تبلیغ کو بھی جرم کے زمرے میں لاکھڑا کرنےوالے اس قانون کے معاملے میں اپوزیشن ’مہاوکاس اگھاڑی‘انتشار کا شکار تھا۔ شیوسینا (اُدھو) نے اس کی حمایت کی، کانگریس نےمزید غوروخوض اور اعتراضات کا جائزہ لینے کیلئے بل کو سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی مانگ کی جبکہ شردپوار کی این سی پی نے حکومت کی منشاء پر سوال کھڑے کرتے ہوئےکانگریس کا ساتھ دیامگر حکومت کے پاس بل کی حمایت میں واضح سے زیادہ اکثریت تھی اس لئے اسے پلک جھپکتے منظور کرالیاگیا۔
چند دنوں میں گورنر کے دستخط ہوجائیں گے اور یہ بل قانون کی شکل اختیار کرکے ریاست میں نافذبھی ہو جائے گا۔ اس طرح ’آزادی ٔ مذہب‘ کے نام پر تبدیلی ٔ مذہب مخالف قانون بنانے والی مہاراشٹر ملک کی ۱۳؍ ویں ریاست بن جائے گی۔ اس طرح کے قانون کی ابتداء ۱۹۶۷ء میں ادیشہ سے ہوئی تھی جس کی پیروی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اروناچل پردیش، گجرات، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، اتر پردیش، کرناٹک اور ہریانہ نےکی۔
البتہ مہاراشٹر میں منظور ہونےوالا قانون بقیہ تمام ریاستوں کے قوانین کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے کیوں کہ اس کے تحت تعلیم کے ذریعہ ذہن سازی کو بھی ’’غیر قانونی تبدیلی ٔ مذہب‘‘کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ تبدیلی مذہب کیلئے جن امور کو لالچ کے زمرے میں شامل کیاگیا ان میں مذہبی اداروں کے ذریعہ اسکولوں اور کالجوں میں مفت تعلیم کو بھی شامل رکھا گیاہے۔ یہ شق نہ صرف یہ کہ مبہم ہے بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس میں موجود ابہام کی وجہ سے تعلیمی ادارے، اساتذہ، اور سماجی کارکنان بھی اس قانون کی زد میں آ سکتے ہیں اور زد میں آنے کی صورت میں مذکورہ اداروں کو اپنے رجسٹریشن سے ہاتھ بھی دھونا پڑ سکتاہے۔ کسی مذہب کے بارے میں مثبت اظہار یا تقابلی بحث کوبھی مجوزہ قانون میں جرم قرار دیاگیا ہے جو آزادیٔ اظہار اور علمی مباحثوں کو محدود کر دینے کی کوشش اور مذہب کی تبلیغ کے دروازے بند کردینے کے مصداق ہے۔
بظاہر اس قانون کا مقصد جبری، دھوکہ دہی یا لالچ کے ذریعے ہونے والی تبدیلیٔ مذہب کو روکنا ہے، لیکن یہ قانون عملی طور پر مذہب تبدیل کرنے کے عمل کو ہی تقریباً ناممکن بناتا نظر آتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو اس قانون میں پولیس کو دیا گیا’ازخود کارروائی‘ کا اختیار ہے۔ اب تک یوپی اور راجستھان میں بنائے گئے اس طرح کے قانون پر یہ اعتراض تھاکہ اس میں شکایت کرنے کا اختیار ہر کس و ناکس کو دے دیاگیاہے۔ یعنی کوئی بھی شخص کسی کی بھی تبدیلی ٔمذہب پر شبہ کا اظہارکرتے ہوئےپولیس سے رجوع کر سکتا ہے مگر مہاراشٹر اس سےکافی آگے نکل گیا ہے۔ یہاں پولیس کسی شکایت کی مجبوری سے ہی آزاد کردی گئی ہے۔ اسے یہ اختیار ہے کہ اگر اسے کوئی تبدیلی ٔمذہب دباؤ یا لالچ کا نتیجہ لگے تو وہ ازخود کارروائی کرسکتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جانچ کا اختیار ’سب انسپکٹر‘ کی سطح کے افسر کو دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف اختیارات کا بے جا استعمال کا اندیشہ ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والا ادارہ اور افسر جسے اصولاً غیر جانبدار ہونا چاہئے تھا، خود فعال فریق بن جائے گا۔ یہ انصاف کے بنیادی اصول کے ہی خلاف ہے۔
ایک اور خطرناک التزام اس قانون میں یہ ہے کہ تبدیلیٔ مذہب سے متعلق دستاویزات پر دستخط کرنے، ان کی توثیق کرنے یا گواہی دینے والے افراد بھی’تبدیلی مذہب پر اُکسانے‘ کے الزام کے تحت ’ملزمین‘ کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ اس سے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے والوں کیلئے بھی قانونی ضوابط کی تکمیل تقریباً ناممکن ہو جائے گی کیوں کہ پھنسنے کے ڈر سے دستاویزات کی تیاری میں کون ساتھ دے گا۔ ہر کسی کو یہ خوف لگا رہے گاکہ اگر تبدیلی ٔمذہب اس قانون کے تحت ’غیر قانونی‘ ثابت ہوگیا تو انہیں بھی قیدو بند کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دُنیا عاقبت نااندیش سیاست دانوں کے انتخاب کی قیمت چکارہی ہے
مزید برآں، مجوزہ قانون کے تحت تبدیلیٔ مذہب کے خواہشمند افراد کیلئے لازمی ہوگا کہ وہ ۶۰؍ دن پہلے نوٹس کے ذریعہ حکام کو اطلاع دیں کہ وہ اپنا مذہب تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نیا مذہب اختیار کرنے کے بعد ۲۱؍ دن کے اندر اندر انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوکر حلفیہ بیان بھی درج کرانا ہوگا۔ تبدیلی مذہب کا نوٹس ملنے کے بعد مجسٹریٹ کا دفتر ۳۰؍ دن کے اندر اندر مجوزہ تبدیلی مذہب سے متعلق تفصیلات اپنے دفتر کے نوٹس بورڈ پر، گاؤں کی پنچایت کے دفتر پر اور اس علاقے میں چسپاں کریگا جہاں وہ شخص یا افراد رہتے ہیں جو مذہب تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں عوام الناس سے اعتراضات اور آراء طلب کی جائیں گی۔ اعتراض کی شکل میں جانچ کا حکم دیا جائےگا اور یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری کہ تبدیلی ٔ مذہب کسی لالچ یا دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے، اس شخص اوراس کے ساتھیوں کی ہوگی جو مذہب تبدیل کررہاہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شق کی خلاف ورزی ناقابل ضمانت جرم ہے جس میں ۱۰؍ سال تک کی جیل اور ۷؍ لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔
کل ملا کر اگر کوئی شہری تبدیلی ٔ مذہب کا فیصلہ کرتاہے تو اس قانون کے تحت یہ اس کا ذاتی معاملہ نہیں رہ جاتابلکہ وہ سماجی اشتہار بن جائے گا اور اس کے فیصلے پرکوئی بھی اعتراض داخل کرسکتاہے۔ اگر کوئی اعتراض نہ کرے تو پولیس بلا کسی اعتراض کے بھی جانچ شروع کرسکتی ہے۔ اس طرح یہ قانون نجی زندگی میں ریاستی مداخلت کی واضح مثال ہے۔ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، اور اس طرح کے تقاضے فرد کی رازداری اور آزادیٔ انتخاب کو شدید متاثر کرتے ہیں جس کی ضمانت ملک کا آئین دیتاہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون رضاکارانہ تبدیلیٔ مذہب پر پابندی نہیں لگاتا، لیکن اس کے عملی تقاضے، مبہم تعریفیں اور سخت سزائیں کسی اور ہی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں جہاں آئین مذہبی آزادی، رازداری اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے، ایسے قوانین نہ صرف آئین کے ذریعہ فراہم کردہ بنیادی حقوق کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ سب سے اہم اوربنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس قانون کے سخت التزامات آئین ِ ہند میں دی گئی مذہبی آزادی، خصوصاً مذہب اختیار کرنے اور اس کی تبلیغ کے حق سے متصادم نہیں ہیں ؟ یہ قانون ۶۰؍دن پہلے سرکاری اجازت نما نوٹس کو لازمی قرار دیتا ہے جو مذہبی آزادی کو ’حکومت کی منظوری‘ سے مشروط کر دیتا ہے۔ یعنی ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی شہری مذہب کے تعلق سے اپنا ذاتی فیصلہ نہیں کرسکتا اور اگر وہ نوٹس دیکر فیصلہ کرنے کی جرأت بھی کرلے تو اس پر یہ قانون عوامی اعتراضات کی گنجائش پیدا کردیتا ہے جس کے بعد یہ عمل آزادی کے بجائے نگرانی اور کنٹرول کا عکاس بن جاتا ہے۔ اس پس منظر میں اگر یہ کہا جائے کہ’آزادی ٔ مذہب‘ کے نام پر یہ قانون اپنی مرضی کا مذہب اختیار کرنے کی آزادی چھینتا ہےیا اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتاہے تو شاید بے جا نہ ہوگا۔ اسے عدالت میں چیلنج کرنے کی گنجائش موجود ہے تاکہ یہ طے ہوسکے کہ یہ قانون عوامی مفاد میں ہے یا اُن بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جن کی ضمانت آئین ہند نے دی ہے۔