ہمارے ابّو بتاتےہیں اُن کے دور میں عید گاہ کیسی ہوتی تھی، اس زمانے میں بچّے اور بوڑھے بھی جوش و خروش سے عید گاہ جاتے تھے لیکن اب تو عید گاہ کا ہجوم بھی ختم ہورہا ہے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 8:33 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai
ہمارے ابّو بتاتےہیں اُن کے دور میں عید گاہ کیسی ہوتی تھی، اس زمانے میں بچّے اور بوڑھے بھی جوش و خروش سے عید گاہ جاتے تھے لیکن اب تو عید گاہ کا ہجوم بھی ختم ہورہا ہے۔
(پردہ اُٹھتا ہے) عید گاہ کا منظر ہے۔ ابھی نماز و خطبہ پورا ہوا اور سبھی ایک دوسرے سے گلے مل کر گھر واپس ہوئے ہیں )
جاوید: ساجد تم کو میں نے گھر پر آواز دی۔ پھر میں آگے بڑھ گیا۔
ساجد: ارے ہاں صبح ہی صبح ابّو کا لیکچر شروع ہوگیا تھا۔
جاوید: کیوں، کیا ہوا ؟
ساجد : وہی یار.... کہہ رہے تھے کہ تمہارے دوست ایسے ہیں .... ویسے ہیں۔ دادی کتنا سمجھا رہی تھیں کہ عید کے روز یہ جھگڑا چھوڑومگرا بّو کہاں ماننے والے.....بس اس میں دیر ہوگئی عید گاہ پہنچتے پہنچتے۔
راشد : میرے ساتھ بھی آج یہی ہوا۔
جاوید: کیا ہوا ؟
راشد: گھر کے سب لوگ پریشان ہیں کہ ڈگری تو ہاتھ میں ملے دو سال ہو گئے مگر ابھی تک نوکری نہیں ملی۔ اور تو اور اب میری چھوٹی بہن بھی ہر روز پوچھتی ہے کہ ’’ بھیّا، کب نوکری ملے گی آپ کو‘‘ بیچاری کو معلوم نہیں ہے کہ ہم کیا کیا پا پڑبیل رہے ہیں نوکری کے لئے۔
ساجد: ارے دور روز قبل تم کسی کمپنی میں انٹرویو دینے گئے تھے اُس کا کیا ہوا؟
راشد: میری فائل تو چیئر مین کی کیبن میں گئی مگر انٹرویو لئے بغیر وہ واپس آگئی۔
جاوید راشد خان.... یہ نام دیکھ کر ہی واپس کئے ہوں گے فائل۔ مسلمانوں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔
جمیل: صرف لوگ اخبارات میں لکھ رہے ہیں اور بڑی بڑی تقریریں کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ تعصب نہیں ہوتا.... سب بکواس ہے، تعصب ہوتا ہے۔
امجد: ایسی بات نہیں ہے یار، مجھے تو نوکری مل گئی۔ میرے وقت انٹرویو کیلئے ۱۵؍ لوگ آئے تھے۔ ہوتا یہ ہے کہ ہم لوگ ڈگری کے علاوہ مزید نالج کیلئے کچھ نہیں کرتے۔ میں نے تین زائد جو سر ٹیفکیٹ کورسیز کئے تھے، ان کے بناء پر میں ان تمام ۱۵؍ میں منتخب ہوا۔
سلیم: تم سب میں خوش قسمت تو میں ہوں، میں پڑھا ہی نہیں، اس کالج کے جھمیلے میں پڑاہی نہیں۔ آج میری موبائیل کی دکان ہے۔
نذیر: میں بھی یہ ڈگری وگری کے چکّر میں نہیں پڑا۔ ابّا کی پان سپاری کی دکان ہے، وہیں بیٹھتا ہوں۔
الطاف: یہ صحیح ہے دوستو! میں نے بھی میرے بڑے بھائی صاحب کا انجام دیکھا، اسلئے بہت پڑھنے کے چکّر میں پڑا ہی نہیں۔ میرے بڑے بھائی صاحب نے پوسٹ گریجویشن کیا، بولے میرے کو لیکچر ربننے کا ہے۔ معلوم ہے کیا ہوا ؟ انہیں چار ہزار روپے کی شکشن سیوک کی نوکری ملی۔
سلیم : شکشن سیوک بولے تو ؟
الطاف : ارے بھئی ابھی ٹیچر لوگ کو شکشن سیوک بولنے لگے ہیں ....اور اُس کے لئے امّی ابّا نے سارے زیورات بیچ کرنوکری پانے کے لیے پانچ لاکھ روپے اسکول والوں کو رشوت بھی دی۔
سلیم: پانچ لاکھ میں تو ہم اِدھر کا مال اُدھر اور اُدھر کا مال اِدھر کرنے والا کوئی بزنس بھی کر سکتے تھے۔
راشد: یہ ایسے قسم کے بزنس سے کچھ بھلا نہیں ہونے والا۔ وقتی طور پر نوکری نہ بھی ملے تو پروا نہیں مگر ہم لوگ پڑھیں گے نہیں تو قوم آگے کیسے بڑھے گی ؟
نذیر: ارے قوم کا ٹھیکہ لینے والے، دیکھانا، اختر اور مجید کا کیا حال ہوا ؟ ہر سال عید گاہ پر سب سے پہلے نماز کے لئے پہنچتے تھے دونوں۔ ادھر دونوں کی انجینئر نگ کی ڈگری پوری ہوئی، اُدھر دونوں کو بم بلاسٹ کے جھوٹے کیس میں پولیس نے پھنسا دیا اور اب جیل میں بند ہیں۔
ساجد: اُن کو چھڑانے کیلئے ہمارے کچھ لیڈر کوشش تو کر رہے ہیں۔
سلیم: تم بے وقوف ہو.... اپنے آپ کو انجینئر بولتے ہو۔ یہ ہمارے لیڈر کیسے بے وقوف بنا رہے ہیں قوم کو۔ اُنہیں معلوم ہوا کہ اب ساری قوم، لیڈروں کی افطار پارٹیوں کا بائیکاٹ کرنے والے ہیں اس لئے ڈھکوسلہ کر رہے ہیں ۔
نذیر: کیا کہہ رہے ہیں ہماری قوم کے لیڈران...’’ ہم نے ریاستی وزیر داخلہ سے درخواست کی ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے درخواست کریں کہ وہ مرکزی وزیر داخلہ سے درخواست کریں اور وہ وزیر اعظم سے درخواست کریں کہ تمام بے گناہ مسلم نو جوانوں کو چھوڑدیا جائے ( سبھی قہقہہ لگاتے ہیں )
سلیم: دوستو! یہ تو’ درخواستوں ‘ کی لائن لگ گئی۔
جمیل : لگے گی کیوں نہیں ، یہ سارے لیڈران پوری مسلم قوم کو بے وقوف ہی سمجھ رہے ہیں۔
نذیر : یہ منسٹرس ابھی عید گاہ آئے تھے اور ہمارے لوگ بڑی بے شرمی سے ان کے ساتھ فوٹو کھینچوا رہے تھے۔
جاوید: یہ عید گاہ سے یاد آیا۔ میرے ابّو کہتے رہتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنے بچپن میں منشی پریم چند کی ایک یادگار کہانی ’عید گاہ‘ پڑھی ہے اور وہ ابھی تک اُن کے ذہن پر نقش ہے۔ وہ بار بار اس کہانی کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
راشد : اچھا!
جاوید: میرے ابّوبہت غریب تھے اس لئے گاؤں کی اُردو اسکول میں پڑھتے تھے۔ اُن کے نصاب میں وہ کہانی شامل تھی۔ ابھی ہم سب لوگ تو انگریزی اسکولوں سے پڑھے ہیں نا ؟ ہمیں ’عید گاہ‘ کہاں پڑھنے ملے گی؟
راشد: کہیں نہیں ، اب تو کوئی اُردو اسکول میں پڑھتا ہی نہیں ، سب انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: قوم کو بااختیار، بااثر و باخبر بنانے کیلئے۸؍دہائیوں کی پیش رفت کا اجمالی جائزہ
جاوید: ہاں یار! ابّو بھی بتارہے تھے کہ گاؤں کے جس اُردو اسکول سے اُنہوں نے تعلیم حاصل کی، وہ بھی بند ہو گیا۔ اس بات پر میرے ابّو تو رو بھی رہے تھے۔
را شد: سچ جاوید۔ زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔ وہ تم سُنا رہے ہونا پریم چند کی ’عید گاہ‘ وہ بھی بدل گئی ہے اور ہماری یہ عید گاہ بھی۔ تمہیں معلوم ہے صبح چار بجے سے ہم سب لوگ عیدگاہ کے پاس کے سارے اسکوٹرا ور سائیکلیں چیک کر رہے تھے کہ کہیں کوئی بم تو نہیں رکھا ہے۔
ساجد: صحیح۔ ہمارے ابّو بتاتےہیں اُن کے دور میں عید گاہ کیسی ہوا کرتی تھی، بچّے اور بوڑھے بھی جوش و خروش سے عید گاہ جاتے تھے، اب تو عید گاہ کا ہجوم بھی ختم ہو گیا۔
جمیل: ارے رفیق، ناصر نماز کیلئے عید گاہ نہیں آئے ؟
سلیم: اُن کے ابّو اُنہیں ہر سال عید گاہ آنے سے منع کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عید گاہ میں نماز پڑھانے والے امام ان کے مسلک کے نہیں ہیں۔
ساجد: اب ہر جگہ مسلک ہی کی بات ہو رہی ہے۔ سرکارکو بُرا بھلا کہنے سے پہلے ہمارا اپنا معاملہ تو ہم ٹھیک کریں۔
راشد: اب یہی دیکھو، یہاں عید گاہ کے باہر عید مبارک کے بڑے بڑے ہور ڈرنگ ان سائبر کیفے اور حقّہ پارلر والوں نے لگائے ہیں۔
جاوید: انہیں معلوم ہے کہ مسلم نو جوانوں کو یاد دلایا جائے کہ بھئی اب رمضان ختم ہو چکا ہے۔ اب آپ سائبر کیفے اور حقّہ پارلر میں آنے کے لئے بالکل آزاد ہیں۔
ساجد: جنگ کی وجہ سے یہ عید ویسے بھی بڑی بھاری جارہی ہے۔
جمیل: کون جیت رہا ہے جنگ؟
ساجد : ارے یہ کوئی آئی پی ایل میچ نہیں ہے۔ کوئی نہیں جیت رہا۔ قوم تو ہار رہی ہے، ہاں ہتھیاروں کے بیوپاری جیت رہے ہیں۔
(سبھی دوست عید گاہ سے باہر سڑک پر آتے ہیں وہاں بھیک مانگنے والوں کی قطار لگی ہے، سبھی آواز یں لگا رہے ہیں )
اللہ کے نام پر دے دو بھائی.... ہم بھوکے ہیں بھئی... یہ بیمار ہیں بھائی....گھر ٹوٹا ہے بھائی.... اناج نہیں ہے بھائی..... کپڑے نہیں ہیں بھائی۔
(اُن بھکاریوں کی بھیڑ میں ایک شخص چادر پھیلائے اُس پر اپنے بچّے کی مارکس شیٹ رکھے، سوال کر رہا تھا)
شخص: میرے بچّے کو انجینئر نگ میں داخلہ دلانا ہے بھائی۔ ۴۰؍ ہزار کی فیس ہے بھائی، اس کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے بھائی، میرے بچّے نے خوب محنت سے اچھے نمبر لئے ہیں بھائی۔ اس کا داخلہ کرادو بھائی۔
سلیم: لو، ایک اور انجینئر بننے جارہاہے، جیل میں جانے کیلئے۔
امجد: نہیں دوستو! ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں، آج ہمارے ہزاروں نوجوان کامیاب انجینئر ہیں۔ سبھوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہورہی ہے۔
(سارے دوست وہیں رُک جاتے ہیں۔ جاوید، راشد، ساجد، امجد، اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں جو کچھ بھی جیب میں تھا نکال کر اُس کی چادر میں ڈال دیتے ہیں۔ کچھ دیر بعد الطاف، نذیر سلیم اور جمیل بھی اپنی جیب سے ساری رقم اس چادر میں ڈال کر آہستہ آہستہ اپنے اپنے گھر کیلئے رواں ہو جاتے ہیں ) ( پردہ گرتا ہے )