مسئلۂ فلسطین کا حل نہ ہونا عالمی ضمیر، شعور اور فکر پر بھاری بوجھ ہے

Updated: May 22, 2020, 12:30 PM IST | Mohammed ZiahulHaque Naqshbandi

فلسطین ایک ایسا خطہ زمین ہے جس کے باسی آزادی کا سانس لینے کی خاطر برسوں سے یہودی سفاکیت کا نشانہ بن رہے ہیں

Palestine - Pic : INN
فلسطین ۔ تصویر : آئی این این

فلسطین ایک ایسا خطہ زمین ہے جس کے باسی آزادی کا سانس لینے کی خاطر برسوں سے یہودی سفاکیت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ عورت، مرد، بچے اور بوڑھے کی تمیز کئے بغیر فلسطین کا ہر فرد اسرائیلی جارحیت کیخلاف کھڑا ہے اور کسی بھی نتیجے کی پروا کئے بغیر حصول آزادی کیلئے جان کی بازی لگا دیتا ہے اور اس کیلئے ہمہ وقت  تیار رہتا ہے۔
جنگ عظیم اول سے پہلے فلسطین ۴۰۰؍ سال تک عثمانیوں کی سلطنت کا حصہ رہا۔ یہاں مسلمان زیادہ جبکہ عیسائی اور یہودی کم تعداد میں آباد تھے۔ ۱۸۸۰ء میں فلسطین میں رہنے والے یہودیوں کی تعداد جو کہ یی شوو کہلاتے تھے، کل آبادی کا صرف تین فیصد تھے۔ جنگ عظیم اول کے آخر میں جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو برطانیہ نے فلسطین کی سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کا منصوبہ شروع کردیا۔ اِس دوران یہودیوں نے ۲۷؍اگست ۱۸۹۷ء کو سوئزر لینڈ میں صہیونیت کو منظم تحریک کی صورت دینے کیلئے ایک کانفرنس منعقد کی، جس میں اعلان کیا گیا کہ صہیونیت فلسطین میں یہودیوں کیلئے ہوم لینڈ حاصل کرنے کیلئے اپنی جدوجہد کا آغاز کرتی ہے اور اس مقصد کیلئے کانفرنس نے کچھ قواعد و ضوابط کی منظوری بھی دی۔ 
بعد ازاں یہودیوں نے انجمن محبّین صہیون کے نام سے ایک تنظیم بنا کر اپنے منصوبے پر باقاعدہ کام شروع کیا اور بالآخر یہ تنظیم چلانے والا گروہ فلسطین پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر جب ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کی باقاعدہ منظوری دی گئی تو فلسطینیوں سے اُن کے الگ آزاد وطن کے قیام کا وعدہ کیا گیا لیکن اب انہیں کہا جا رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو بھول جاؤ اور اسرائیل کی ریاست کے شہری بن جاؤ اور وہ بھی تیسرے درجے کے شہری۔ اسرائیل نے خونِ مسلم کو ارزاں سمجھ رکھا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ۱۹۴۸ء سے آج تک آزادی مانگنے کے جرم میں لاکھوں فلسطینیوں کو  شہید کر چکا ہے اور لاکھوں بے گھر ہیں لیکن اُن کے جذبہ آزادی میں آج تک کوئی کمی نہیں آئی۔
فلسطینی نوجوان جانتے ہیں کہ ان کا مقابلہ دنیا کی جدید ترین مسلح فوجی طاقت سے ہے۔ جس کے پیچھے تمام بڑی طاقتیں کھڑی ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے پاس نہ تو ہتھیار ہیں اور نہ ہی مسلح فوجی طاقت بلکہ ان کے اندر آزادی کا جذبہ ہی وہ واحد طاقت ہے جو  انہیں لڑنے اور مزاحمت کرنے پر اکساتی ہے۔ ان کے پاس تو پتھر ہیں، پتنگیں ہیں اور ٹائر ہیں جنہیں جلا کر وہ ان کا دھواں اسرائیل کی طرف بھیجتے ہیں اور جواب میں انہیں سیدھی گولیاں ماری جاتی ہیں۔ وہ نہتے ہیں، ان کے پاس کوئی عسکری طاقت نہیں ہے۔ وہ تو بس اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دُنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں آزادی چاہئے۔ دنیا اپنے وعدے کو پورا کرے۔ فلسطینی نوجوان انسانی جذبہ، ہمت اور بہادری کی نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ وہ ناقابل برداشت اذیتوں، تکالیف اور حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اسرائیلی بندوقوں اور گولیوں کا مقابلہ اپنے عزم، انقلابی ولولے اور حوصلے سے کر رہے ہیں۔ وہ روز اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے ہیں، انہیں دفن کرتے ہیں اور دوبارہ اسرائیلی جارحیت، سفاکیت اور قبضے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ وہ ہر روز اس عزم اور ارادے سے احتجاج کے لئے نکلتے ہیں کہ شاید سویا ہوا عالمی ضمیر جاگ جائے اور اسے اسرائیلی مظالم اور ریاستی دہشت گردی نظر آ جائے۔
فلسطین کا تاحال حل طلب مسئلہ عالمی ضمیر، غیرت،  شعور اور فکر پر ایک بوجھ ہے۔ فلسطینیوں کو ۷۰؍برس سے مسلسل ناانصافی، جبر، سفاکیت اور ریاستی تشدد کا سامنا ہے۔ یہ جمہوریت، اعلیٰ انسانی اقدار، انسانی حقوق، آزادی اور برابری کے عالمی دعویداروں کے لئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ ان کی منافقت اور جھوٹے وعدوں کی ایک مثال ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے بانیوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک کو یوم القدس کے طور پر منانے کی دعوت دی تھی۔ جس کے بعد دنیائے اسلام نے یوم القدس کو بھرپور طریقے سے منعقد کرنا شروع کر دیا اور یوں فلسطینیوں کو نئی ہمت اور حوصلہ ملا۔یہی وجہ ہے کہ اب فلسطینی عوام، عرب یا خلیجی ریاستوں کی مدد اور امریکہ و اسرائیل کی مخالفت کی پروا نہیں کرتے۔ آج اس وقت جب ساری خلیجی ریاستیں امریکہ و اسرائیل کی گود میں جا کر بیٹھ گئی ہیں، اہل فلسطین اپنے جذبۂ خالص سے طاقت حاصل کرتے اور اسرائیل سے لوہا لیتے ہیں۔ ان کے بچے پتھر لے کر ٹینکوں سے لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی ٹینکوں پر پتھر برسانا دراصل طمانچہ ہے ان ممالک کے منہ پر جو فلسطینیوں کو تنہا چھوڑ کر امریکہ و اسرائیل کی دوستی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ بلاشبہ فلسطینی، غلامی کے باوجود آزاد اور بہادر ہیں جبکہ فلسطینیوں سے غداری کرنے والے آزادی کے باوجود غلام اور بزدل۔
 یوں لگتا ہے کہ جیسے مسلم ممالک کے پلیٹ فارم او آئی سی کا مقصد ہی ختم ہو گیا ہو کیونکہ او آئی سی کے قیام کی ایک بڑی وجہ فلسطین اور بیت المقدس کو اسرائیلی چنگل سے آزاد کرانا تھا۔  او آئی سی کا مقصد یہ تھا کہ تمام مسلم دنیا مل کر ایک جگہ جمع ہوگی تو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا آسان ہوگا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ہمارے جذبات سراسر مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کیلئے ہیں مگر ہم کسی قابل ہوتے تو بات دوسری ہوتی۔ یہ سب ہوتا ہی کیوں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ مسلم دُنیا متحد ہو اور عالمی اداروں بالخصوص امریکہ کو فلسطین کی آزادی کا وعدہ یاد کروایا جائے تاکہ فلسطین میں چھائی ظلم کی تاریک رات ختم ہو، آزادی کا سورج طلوع ہو  انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند ہو اور مقامات مقدسہ کی بازیابی ہو

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK