Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں نسل کشی کے دوران ایک لاکھ اسرائیلیوں نے ملک چھوڑا : رپورٹ

Updated: March 24, 2026, 9:59 PM IST | Tel Aviv

ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں نسل کشی کے دوران ایک لاکھ اسرائیلیوں نےملک چھوڑا، جس میں اعلی ہنر مند ، پیشہ ور افراد، ڈاکٹر، کی تعداد تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایک رپورٹ کے مطابق، نئی تحقیق میں حالیہ برسوں میں اسرائیل سے ہجرت میں نمایاں اضافہ پایا گیا ہے، خاص طور پر اعلیٰ ہنر مند پیشہ ور افراد میں، جہاں ڈاکٹر سب سے زیادہ متاثرہ گروپوں میں شامل ہیں۔تل ابیب یونیورسٹی کی اس تحقیق میںگزشتہ۱۵؍ سالوں کے دوران ہجرت کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا، جس میں۲۰۲۳ء کے بعدکے حالات  پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی، جس میں اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی جنگ، عدالتی اصلاحات اور عوامی احتجاج کا اثر بھی شامل ہے۔نتائج کے مطابق،۲۰۲۳ء اور۲۰۲۴ء میں تقریباً۹۵۰؍ ڈاکٹر اسرائیل چھوڑ گئے، جبکہ واپس آنے والوں کو شمار کیا جائے تو یہ تعداد۵۱۰؍ تھی۔ اسرائیل چھوڑنے والوں میں سے دو تہائی اسرائیلی میڈیکل اسکولوں کے گریجویٹ تھے، جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ تناسب ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ :ویلرو کے پورٹ آرتھر ریفائنری میں زبردست دھماکہ

یہ تحقیق اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات، کونسل برائے اعلیٰ تعلیم، وزارت صحت اور ٹیکس اتھارٹی کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس میں ہجرت، تعلیم، لائسنسنگ اور آمدنی کے رجحانات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔تحقیق کا تخمینہ ہے کہ۲۰۲۳ء اور۲۰۲۴ء میں مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ اسرائیلیوں نے ملک چھوڑا، یعنی ہر سال تقریباً۵۰؍ہزار ، جو برسوں کے استحکام کے بعد ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔محققین نے کہا، ’’ ملک چھوڑنے والوں میں، ہم نے ڈاکٹروں، پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والوں، دیگر ماہرین تعلیم، انجینئرز اور زیادہ آمدنی والے افراد میں نمایاں اور تشویشناک اضافہ دیکھا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ وطن واپسی میں سست روی انسانی سرمایہ کے اخراج کو مزید بڑھا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خرج جزیرہ پر ہدف، اسرائیل پر اربوں کا بوجھ، امریکہ نے ہزاروں فوجی تعینات کئے

بعد ازاں نتائج بتاتے ہیں کہاسرائیل سے جانے والے بہت سے ڈاکٹر تجربہ کار پیشہ ور ہیں۔محقق اٹر نے کہا، ’’ہم نے پایا کہ۴۰؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، یہ وہ مستند ڈاکٹر ہیں جن کے پاس علم اور تجربہ ہے۔‘‘تاہم تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ اس رجحان میں مسلسل اضافہ سنگین معاشی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔محققین نے کہا، اضافی معاشی جھٹکے سیاسی، معاشی، یا حفاظت کے سے متعلق ترک وطن کی شرح میں تیزی اور اچانک اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ’’ یہ رجحان ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK