Updated: March 24, 2026, 9:04 PM IST
| Tehran
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں شدت برقرار ہے۔ ایران نے اپنے ڈرون اور میزائلوں کو علامتی نام دیتے ہوئے نئی کارروائیاں کی ہیں جبکہ تہران میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے ہیں جبکہ امریکی اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تہران میں کم از کم ۶۳۶؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
(۱) ایران نے ڈرونز پر ’’ہند رجب‘‘ اور ’’ریچل کوری‘‘ کے نام نصب کئے
ایران کی مسلح افواج نے اپنے چند شاہد ڈرونز کو ’’ہند رجب‘‘ اور ’’ریچل کوری‘‘ کے نام سے منسوب کیا ہے۔ ہند رجب ایک فلسطینی بچی تھی جو۲۰۲۴ء میں غزہ میں اپنے خاندان کے ساتھ حملے میں ہلاک ہوئی، جبکہ ریچل کوری ایک امریکی کارکن تھیں جو فلسطینی گھر کو مسمار ہونے سے بچانے کی کوشش میں اسرائیلی بلڈوزر کے نیچے آ کر ہلاک ہوئیں۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ نام مظلوموں کی یاد اور مزاحمت کی علامت ہیں۔‘‘ حکام کے مطابق یہ اقدام جنگی پیغام کے طور پر کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اپنے حملوں کو علامتی رنگ بھی دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ پیچھے ہٹے، اپنی ہی وارننگ ۵؍ دن کیلئے مؤخر کردی
(۲) ایران نے ڈرون اور میزائل فائر کئے، امریکہ نے صرف توانائی اہداف پر حملے روکے
رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے بعض توانائی اہداف پر حملے عارضی طور پر روک دیئے ہیں، تاہم دیگر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے مسلسل ہو رہے ہیں۔‘‘ اسرائیلی حکام نے کہا کہ ’’ہم دفاعی نظام کے ذریعے ان حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘‘ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ کے مختلف محاذ بیک وقت فعال ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ طویل ہونے کا خدشہ، عالمی قیادت متحرک
(۳) تہران میں ۶۳۶؍ افراد ہلاک، جنگ کے اثرات شدید
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک تہران میں کم از کم ۶۳۶؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام نے کہا کہ ’’یہ ہلاکتیں جاری فضائی حملوں کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ افراد میں شہری بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کام کر رہی ہیں اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ کے انسانی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔