Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: پانی کا غیرقانونی کنکشن،عدت میں بیمار بھائی کی عیادت، گونگے کا اقرار کب معتبر ہوگا

Updated: August 29, 2025, 4:41 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) پانی کا غیرقانونی کنکشن (۲) عدت میں بیمار بھائی کی عیادت (۳) کیچڑ یا بارش کے پانی کے چھینٹے پر وضو کا حکم (۴) گونگے کا اقرار کب معتبر ہوگا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

پانی کا غیرقانونی کنکشن
  غیرقانونی پانی کنکشن سے لیا جانے والا اور استعمال کیا جانے والا پانی کیا ہمارے لئے درست ہے؟ آفتاب شیخ، نالاسوپارہ
باسمہ تعالیٰ۔ الجواب ھو الموفق: پانی مباح الاصل ہے یعنی کنویں، تالاب اور چشمے وغیرہ سے پانی لینے کا اختیار ہر انسان کو ہے جس سے ضرورت مند کو روکا نہیں جاسکتا۔ البتہ جب کوئی شخص یا ادارہ اسے محفوظ کر لے تو وہ اس کی ملکیت بن جاتا ہے اس لئے اب دوسرا کوئی آدمی اجازت کے بغیر اسے استعمال نہیں کرسکتا۔ اور اگر وہ قیمت کے بغیر نہ دے تو قیمت کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ میونسپلٹی وغیرہ کے پانی کی نوعیت بھی یہی ہے کہ جو قیمت طے ہے اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر استعمال چوری کہلائے گا۔ غیرقانونی کنکشن کے پانی کو کسی بھی مصرف میں استعمال کیا جائے، بہرحال وہ چوری ہے جس کی اسلام میں کوئی اجازت نہیں۔ واللہ اعلم 

عدت میں بیمار بھائی کی عیادت
 کیا عورت عدت کے دوران اپنے سخت بیمار بھائی سے ملنے کے لئے گھر سے باہر جا سکتی ہے یا نہیں ؟ افتخار احمد، مرادآباد
 باسمہ تعالیٰ۔ الجواب ھو الموفق: عدت (چاہے عدتِ طلاق ہو یا عدتِ وفات) میں سوائے سخت ضرورت یا مجبوری کے معتدہ (عدت والی عورت) کےلئے گھر سے باہر نکلنے کی ممانعت ہے۔ اگر بھائی صرف عیادت کے لئے بلاتا ہے، اور گھر کے افراد یا کسی ذریعے سے حال پوچھا جا سکتا ہے تو عورت کا باہر جانا درست نہیں لیکن اگر معاملہ شدید بیماری، نزع یا موت کے قریب ہونے کی اطلاع کا ہو اور بھائی سے ملنے میں سخت مجبوری ہو، تو فقہاء نے اجازت دی ہے کہ عورت پردہ اور شرعی احتیاط کے ساتھ عدت کا گھر چھوڑ کر جا سکتی ہے۔ عدت والی عورت اپنی ضرورت کیلئے دن میں باہر جا سکتی ہے لیکن رات کو باہر قیام نہیں کرسکتی۔ (الفتاویٰ الہندیہ، ج۱، ص۵۳۰)اگر عورت کو واقعی ضرورت پیش آئے تو بقدر ضرورت اس کے لئے گھر سے نکلنا جائز ہے۔ (ردالمحتار، ج۳، ص۵۶۶) لہٰذا صورت مسئولہ میں معتدہ عام حالات میں اپنے بھائی کی عیادت کے لئے گھر سے نہیں جا سکتی لیکن اگر بھائی کی حالت نہایت سنگین ہو، اور آخری وقت یا جان کنی کا اندیشہ ہو، تو شرعی پردہ و احتیاط کے ساتھ بقدر ضرورت معتدہ کا وہاں جانا جائز ہے۔ واللہ اعلم
کیچڑ یا بارش کے پانی کے چھینٹے پر وضو کا حکم
  برسات کے ایام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم گھر سے وضو کرکے مسجد کی طرف آتے ہیں تو راستے میں کیچڑ یا بارش کا چھینٹا لگ جاتا ہے جو پاؤں یا کپڑوں پر پڑ جاتا ہے، تو کیا ایسی حالت میں دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا یا صرف کپڑا/ پاؤں دھونا کافی ہوگا؟ مومن عبداللہ، بھیونڈی
باسمہ تعالیٰ۔ الجواب ھو الموفق: وضو ٹوٹنے کا سبب حدث (رنح، پیشاب، پاخانہ وغیرہ) ہے، نہ کہ کپڑوں یا جسم پر ناپاکی لگنا اس لئے اگر وضو کے بعد کپڑوں یا جسم پر کیچڑ یا بارش کا چھینٹا لگ جائے اور یقین ہو کہ وہ چھینٹا ناپاک ہے (یعنی کسی ناپاک گڑھے یا نالی کا پانی ہے)، تو صرف وہ جگہ دھونا کافی ہے، وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ پانی پاک ہے (جیسا کہ عام بارش یا زمین کا کیچڑ)، تو دھونا بھی ضروری نہیں، نماز درست ہے۔ (رد المحتار، ج۱1، ص ۲۴۷)یعنی اگر نجاست کپڑے یا بدن کو لگ جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا، بلکہ صرف اُس جگہ کو دھونا واجب ہے۔ بارش کے چھینٹوں کے تعلق سے فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ اگر بارش کا پانی کیچڑ سمیت چھینٹے دے اور غالب گمان یہ ہو کہ وہ ناپاک نہیں، تو وہ پاک ہے اور نماز اس کے ساتھ درست ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر بارش یا کیچڑ کا چھینٹا لگ جائے تو وضو دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر یقین ہو کہ ناپاکی لگی ہے تو وہ جگہ دھو لی جائے، اور اگر غالب گمان ہو کہ پانی پاک ہے (جیسا کہ بارش کا چھینٹا)، تو دھونا بھی ضروری نہیں ہے۔ واللہ اعلم
گونگے کا اقرار کب معتبر ہوگا
  ایک گونگا شخص ہے ۔ نہ تو وہ کوئی بات سن سکتا ہے نہ اپنی زبان سے کچھ کہہ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کی شادی کس طرح ہوگی اور توحید و رسالت کا اقرار کرے تو اسے کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے؟محمد جاوید، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ الجواب ھو الموفق: گونگا نہ سنتا ہے نہ بولتا ہے مگر سمجھتا سب ہے اور اپنی بات اشاروں سے بتاتا بھی ہے جسے اس کے متعلقین بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔ آج کل گونگوں کے اسکول بھی ہیں۔ تعلیم یافتہ ہے تو لکھ کر بھی بتا سکتا ہے اور وہ جو لکھ کر بتائے گا شرعاً اس کا اعتبار بھی ہوگا۔ لہٰذا نکاح ہو یا قبول اسلام، گونگا اشارے سے نکاح بھی قبول کرسکتا ہے اور توحید و رسالت کا اقرار بھی کرسکتا ہے جو شرعاً معتبر ہوگا۔ واللہ اعلم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK