قرآنی تصویر بے جان رنگوں اور جامد خطوط سے نہیں بنائی جاتی بلکہ یہ زندہ تصویر ہوتی ہے اور زندہ لوگوں کی دنیا سے ماخوذ ہوتی ہے جس میں بعد (دوری) اور مسافت کا اندازہ شعور و وجد ان سے کیا جاتا ہے ، معانی تصویر کی شکل میں سامنے آتے ہیں اور انسان کو متاثر کرتے ہیں۔
تصویر کشی سے نہ کلام کا حسن مقصود ہے اور نہ ہی یہ بلا موقع و محل برسبیل اتفاق قرآن میں استعمال کی جاتی ہے۔ تصویر: آئی این این
تصویر کشی، قرآن مجید کے اسلوب کی سب سے عمدہ اور نمایاں خصوصیت ہے اور قرآنی مطالب کو ذہن نشین کرانے کا سب سے مؤثر ذریعہ۔ وہ مطالب و معانی ہوں جو فکری و ذہنی ہوتے ہیں یا انسان کے نفسیاتی حالات وکیفیات، واقعات و حوادث ہوں یا انسانی کردار اور طبیعتیں ، قرآن ان سب کو ایسی تصویروں کی صورت میں پیش کرتا ہے جو ہم چشم تصور سے دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں۔ پھر وہ جو تصویر کھینچتا ہے، اس میں رنگ بھرتا ہے، اس میں جان ڈالتا ہے، اس میں زندگی و حرکت پیدا کرتا ہے۔ اس طرح ایک ذہنی معنی متشکل اور متحرک ہو کر سامنے آجاتے ہیں ، نفسیاتی حالت ایک منظر کی صورت اختیار کر لیتی ہے، ایک انسانی کردار زندہ شخص بن کر آنکھوں کے سامنے نمو دار ہو جاتا ہے اور انسانی طبیعت کو مجسم دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح قرآنی تصویر کے ذریعے ہونے والے واقعات و مشاہدات اور قصص و مناظر ابھر کر آنکھوں کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں، ان میں زندگی اور حرکت ہوتی ہے۔ جب قرآن ان تصاویر میں مکالمہ بھی شامل کر دیتا ہے، تو تخیل کے تصور کے لئے سارے عناصر جمع ہو جاتے ہیں ۔ جب وہ ان کو اسٹیج پر پیش کرنا شروع کرتا ہے تو سامعین، ناظرین بن جاتے ہیں ، یہاں تک کہ قرآن ان کو اصل واقعہ کے اسکرین پر پہنچا دیتا ہے۔ جب ایک کے بعد ایک منظر آتا ہے اور ہر حرکت کے بعد ایک نئی حرکت سامنے آتی ہے، تو کلام کا سامع ان مناظر میں محو ہو کر بھول جاتا ہے کہ یہ کوئی کلام ہے جو پڑھا جا رہا ہے، یا مثال ہے جو بیان کی جا رہی ہے، بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک منظر ہے جو پیش کیا جا رہا ہے، ایک واقعہ ہے جو وقوع پزیر ہو رہا ہے۔ یہ مناظر اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں ۔
جو تصویر، ذہنی و فکری مطالب، نفسیاتی کیفیات، انسانی کردار یا واقعات کی منظر کشی کرتی ہے وہ صرف الفاظ پر مشتمل ہوتی ہے، اس میں نہ تو رنگ ہوتا ہے جس کے ذریعے تصویر کھینچی جاتی ہے اور نہ ہی اشخاص و رجال ہوتے ہیں جن میں قوت ناطقہ پائی جاتی ہو۔ تو اس بات سے ہم پر یہ راز کھل جاتا ہے کہ قرآن کے انداز بیان کا یہ رنگ اپنے اندر کس قدر اعجاز رکھتا ہے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ یہ تصویر کشی، قرآن مجید کے اسلوب کی سب سے عمدہ اور نمایاں خوبی و خصوصیت ہے تو ہماری مراد یہی ہے۔ تصویر کشی سے نہ کلام کا حسن مقصود ہے اور نہ ہی یہ بلا موقع و محل برسبیل اتفاق قرآن میں استعمال کی جاتی ہے۔ تصویر کشی کا ایک مخصوص و معین قاعدہ اور طریقہ ہے۔ اگر چہ حسب موقع و مقام اس کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے مگر انجام کار اس کا اختتام اسی ایک بڑے قاعدہ پر پہنچ کر ہوتا ہے۔ اسے ہم قاعدۂ تصویر کہیں گے۔
واضح رہے کہ ہم تصویر کے مفہوم کو وسیع معنوں میں لیں گے تاکہ ہم کو معلوم ہو سکے کہ قرآن میں فنی تصویر کے اطراف و حدود کیا ہیں ۔ یہ تصویر رنگ کی مدد سے بھی کھینچی جاتی ہے اور حرکت و تخیل کے ذریعے بھی۔ تصویر کشی میں بعض اوقات رنگ کے بجائے نغمہ اور آہنگ سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ تصویر سازی میں شکل و صورت، مکالمہ، الفاظ کی آواز، عبارت کی موزونی اور سیاق و سباق کی یک رنگی و ہم آہنگی سے تصویر کو ظاہر و نمایاں اور مؤثر کیا جاتا ہے۔ جب یہ تصویر سامنے آتی ہے تو آنکھ، کان، احساس، خیال اور فکر و وجدان سب ہی اس سے لذت یاب ہوتے ہیں ۔
قرآنی تصویر بے جان رنگوں اور جامد خطوط سے نہیں بنائی جاتی بلکہ یہ زندہ تصویر ہوتی ہے اور زندہ لوگوں کی دنیا سے ماخوذ ہوتی ہے۔ یہ ایسی تصویر ہوتی ہے جس میں بعد یعنی دوری اور مسافت کا اندازہ شعور و وجد ان سے کیا جاتا ہے، معانی تصویر کی شکل میں سامنے آتے ہیں اور زندہ انسانوں کے نفوس کو متاثر کرتے ہیں یا ان طبعی مناظر پر اثر انداز ہوتے ہیں جن کو زندگی کا لباس پہنایا گیا ہوتا ہے۔ اب ہم اس قرآنی تصویر کشی کی چند مثالیں کرتے ہیں :
(۱) اللہ تعالیٰ کو اس حقیقت کا واضح کرنا مقصود ہے کہ قیامت کے دن کفار کو بارگاہ الٰہی میں قبولیت حاصل نہیں ہوگی اور وہ جنت میں ہرگز داخل نہیں ہو سکیں گے۔ یوں کہنا کہ ’’ قبولیت اور جنت میں داخلہ ان کے لئے ایک امر محال ہو گا ‘‘ اس حقیقت کو ادا کرنے کے لئے ایک ذہنی طریقہ تھا، مگر اسلوب تصویر کشی اس حقیقت کی تصویر یوں پیش کرتا ہے:
’’یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے اُن کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا۔ ‘‘ (الاعراف:۴۰)
اس آیت کو پڑھ کر نگا ہِ تصور کے سامنے دو تصویریں ابھرتی اور گھومنے لگتی ہیں ۔ ایک آسمان کے دروازے کے کھلنے کی تصویر اور دوسری ایک بہت موٹے رسہ کے سوئی کے ناکہ میں جانے کی تصویر۔ موٹے رسّے کے لئے یہاں خاص طور پر ’’ الجمل‘‘(اونٹ) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تاکہ رسے کی موٹائی کی تصویر اور گہری ہو جائے۔ یعنی اللہ کے نزدیک غیر قبولیت اور جنت میں داخل ہونے کے نا ممکن ہونے کا مفہوم نفس انسانی کی گہرائی میں اتر جائے، صرف ذہنی راستہ ہی سے نہیں بلکہ مشاہدے اور احساس کے راستے سے بھی۔ اب یہ قاری کی قوت احساس کا کام ہے کہ وہ ان دونوں صورتوں کے تصور سے وہ تاثر حاصل کرے جو قرآن کے پیش نظر ہے۔
(۲) اللہ تعالیٰ کو یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ قیامت کے دن کفار کے اعمال کو اس طرح ضائع کر دیا جائے گا گویا ان کا وجود ہی نہ تھا نہ وہ دوبارہ ان کے ہاتھ آئیں گے۔ اس مفہوم کی تصویر ان الفاظ میں کھینچی گئی ہے :
’’اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے۔ ‘‘ (الفرقان:۲۳)
اس آیت کو پڑھ کر جب اڑتی ہوئی خاک کا منظر ذہن میں آتا ہے تو اعمال کے ضائع ہو جانے کا مفہوم ایک نہایت واضح اور نمایاں تصویر بن کر سامنے آجاتا ہے۔
(۳) درج ذیل آیت میں اسی مفہوم کی کسی قدر طویل تصویر پیش کی گئی ہے :
’’جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے، ان کی مثال یہ ہے کہ ان کے اعمال (اس) راکھ کی مانند ہیں جس پر تیز آندھی کے دن سخت ہوا کا جھونکا آگیا، وہ ان (اَعمال) میں سے جو انہوں نے کمائے تھے کسی چیز پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ ‘‘ (ابراہیم:۱۴)۔ غور فرمائیے، تیز آندھی چل رہی ہے۔ ہوا کی حرکت کی وجہ سے اس تصویر میں مزید حرکت اور زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔ آندھی کے باعث راکھ اڑ جاتی ہے اور ذرہ ذرہ ہو جاتی ہے، جو پہلے ہی مٹی کے مقابلے میں زیادہ ہلکی اور پریشان ہے۔ وہ پھر یکجا نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح کفار کے اعمال بھی اس راکھ کی طرح نیست و نابود ہو جائیں گے وہ کسی طرح ان کے کام نہیں آسکتے۔
(۴) اللہ تعالی کو بیان کرنا مقصود ہے کہ جو انفاق نمود و نمائش کے لئے دیا جائے پھر اس کے بعد جسے دیا جائے اس پر احسان بھی جتلایا جائے اور اسے ستایا جائے تو نہ اس کا پھل ملے گا نہ وہ باقی رہے گا۔ اس ذہنی اور معنوی بات کو اس محسوس اور متخیل صورت میں بیان کیا گیا :
’’اے ایمان والو! اپنے صدقات (بعد ازاں ) احسان جتا کر اور دُکھ دے کر اس شخص کی طرح برباد نہ کر لیا کرو جو مال لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور نہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ روزِ قیامت پر، اس کی مثال ایک ایسے چکنے پتھر کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو پھر اس پر زوردار بارش ہو تو وہ اسے (پھر وہی) سخت اور صاف (پتھر) کر کے ہی چھوڑ دے، سو اپنی کمائی میں سے ان (ریاکاروں ) کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا۔ ‘‘ (البقرہ:۲۶۴)
اب دوسری آیت آتی ہے جو ربا کے اور احسان و ایذا سے صدقے کے ضائع جانے کے بالمقابل تصویر سامنے لاتی ہے :
’’اور جو لوگ اپنے مال اﷲ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے آپ کو (ایمان و اطاعت پر) مضبوط کرنے کیلئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی سطح پر ہو اس پر زوردار بارش ہو تو وہ دوگنا پھل لائے، اور اگر اسے زوردار بارش نہ ملے تو (اسے) شبنم (یا ہلکی سی پھوار) بھی کافی ہو۔ ‘‘ (البقرہ:۲۶۵)
یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے۔ جو مال رضائے الٰہی کے حصول کیلئے خرچ کیا جائے وہ ایک باغ کی مانند ہے، جب کہ نام و نمود کی خاطر خرچ کیا ہو امال مٹی کی ہلکی تہہ کے مماثل تھا۔ وہ مٹی چکنے پتھر کے اوپر جمی ہوئی تھی جب کہ یہ باغ ایک ٹیلے کے اوپر ہے۔ بارش دونوں صورتوں میں ہوتی ہے مگر پہلی حالت میں اس نے مٹی کو دھو کر صاف کر دیا اور پتھر میں نشو و نما کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس تصویر میں بارش نے باغ کی سرسبزی و شادابی میں اضافہ کر دیا ہے۔
(۵) اللہ تعالیٰ یہ بیان کرنا چاہتا ہے کہ صرف وہی کسی پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے اور اس کی آرزو بر لاتا ہے۔ اس کے سوا جن معبودوں کو پکار ا جاتا ہے وہ کسی چیز کے مالک نہیں، اور ان کی کسی آرزو کو پورا نہیں کر سکتے خواہ جس چیز کی انھیں آرزو ہے وہ قریب ہی کیوں نہ ہو۔ اس مفہوم کی کسی قدر عجیب و غریب تصویر کھینچی گئی ہے:
’’اسی کو پکارنا برحق ہے، رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں اُنہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے یہ لایعنی درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں ۔ ‘‘ (الرعد:۱۴)
ایک زندہ شخص پانی لینے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے پانی قریب ہے ` وہ منہ سے لگانا چاہتا ہے مگر نہیں لگا سکتا۔ کتنا ہی ہاتھ پھیلا لے اور کوشش کرلے نہیں لگا سکے گا۔ یہ بڑی جاذب التفات تصویر ہے جو حس و وجدان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ کتنی ہی کوشش کی جائے، اس سے نگاہ کو ہٹانا ممکن نہیں ہے۔ اس سے بہتر تصویر الفاظ کے ذریعے کھینچی نہیں جا سکتی۔ یہ ہے کلام مجید کا اعجاز کہ اس نے جو تصویر بنائی، وہ جاذب نظر ہے اور اُس میں معنویت کا سمندر ہے۔