اس ماہ کا اصل استقبال وہ ہے کہ دل کی دنیا بدل جائے، اخلاق کے قرینے سدھر جائیں، عبادات میں خضوع پیدا ہو، زبان میں سچائی وصداقت، تجارت میں امانت ودیانت، باہمی تعلقات میں وفا اور خلوص اور دل میں اللہ و رسول ؐکی یاد کا بسیرا ہو۔
EPAPER
Updated: August 29, 2025, 4:53 PM IST | Dr. Muhammad Zaheer Siddiqui | Mumbai
اس ماہ کا اصل استقبال وہ ہے کہ دل کی دنیا بدل جائے، اخلاق کے قرینے سدھر جائیں، عبادات میں خضوع پیدا ہو، زبان میں سچائی وصداقت، تجارت میں امانت ودیانت، باہمی تعلقات میں وفا اور خلوص اور دل میں اللہ و رسول ؐکی یاد کا بسیرا ہو۔
جب کائنات کے افق پر اندھیروں نے بسیرا کر رکھا تھا اور انسانیت جہالت، ظلمت وضلالت اور تنگ نظری کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی، تب اللہ رب العزت نے انسانیت پر رحم فرماتے ہوئے اسے ایک ایسا لمحہ بھی عطا فرمایا جس نے انسانیت کو سنوار دیا اور انسان کو اس کی اصل پہچان عطا کی۔ یہ ساعتِ مسعود ہے جو ماہِ ربیع الاول میں طلوع ہوئی، جب سید المرسلین، رحمت للعالمین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی اور آپؐ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے۔ ولادتِ محمدی، انسانیت پر اللہ رب العزت کا ایک بڑا احسان تھا، اسی لئے قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ایک جگہ فرمایا:
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ اُن میں اُنہی میں سے عظمت والا رسول ( ﷺ ) بھیجا۔ ‘‘ (آل عمران:۱۶۴)
لہٰذا دقت وگہرائی سے کیا گیا مطالعہ ہمیں اس نتیجہ پر لے جائیگا کہ ربیع الاول اسلامی تقویم کا صرف ایک مہینہ ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے بہت بڑھ کرشعور، نسبت، محبت، اطاعت اور روحانی بیداری کا موسم ہے۔ یہ مہینہ امت ِ مسلمہ کیلئے رسولؐ اکرم کے ساتھ اپنے تعلق کو ازسرِنو استوار کرنے اور رسول مکرم ؐکی حیات ِ مبارکہ کی ہر جہت کو اپنی عملی زندگی میں داخل کرنے کا ایک نایاب موقع فراہم کرتا ہے۔
ربیع الاوّل: وحدت واتحاد کا موسم
قارئین کرام! جیسے ہی ماہ ربیع الاول آتا ہے، لوگ اپنی توجہات نسبت ِ محمدیؐ کی جملہ صورتوں کو مضبوط ومستحکم بنانے پر مرکوز کرنے کے بجائے میلاد پر فرحت و انبساط کے اظہار کی مروجہ صورتوں کے جواز وعدم جواز کی بحث میں الجھ جاتے ہیں اور پھر یہ معاملہ یہاں پر رکتا نہیں بلکہ لوگ بالعموم دو گروہوں میں بٹ کر اس معاملہ میں افراط و تفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔ نتیجتاً معاشرے میں بسنے والے افراد اِس معاملے میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کوئی محبتِ رسولؐ کا نعرہ بلند کر کے تو کوئی اطاعت ِ رسولؐ کا علم تھامے ایک دوسرے کی نیتوں اور خلوص پر شک کرتا ہے۔ تاہم یہاں ہمارا مقصود نہ تو میلادِ نبویؐ کے جواز پر دلائل کا انبار لگانا ہے اور نہ ہی عدمِ جواز کی آرا ء کو نقل کرنا ہے۔ ہمارا اصل مدعا اس اعتقادی اور فقہی نزاع کے گرد کوئی نیا دائرہ کھینچنا نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری جہت کی طرف متوجہ کرنا ہے جو امت ِ مسلمہ کو متفق علیہ، مسلّمہ اصولوں کے محور پر مجتمع کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امت کے ہر طبقے میں موجود اہلِ علم، جو فہم و فراست، تدبر و توازن اور دینی درد سے آراستہ ہیں، خواہ وہ محبت ِ رسولؐ کے جذبے سے سرشار ہوں یا اطاعت ِ رسولؐ کے داعی، انہیں چاہئے کہ وہ امت کو ان غیر ضروری موشگافیوں میں الجھانے کی بجائے، اپنے اپنے دائرۂ اثر میں اس مبارک مہینے اور رسولِؐ رحمت کی ذاتِ اقدس سے متعلق وہ مسلّمہ اعتقادی حقائق اجاگر کرنا شروع کر دیں جو امت کو جوڑنے والے اور ایمان کو تقویت دینے والے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس ماہِ مبارک کو، جس کی عمر صدیوں پر محیط ہے، بحث و مباحثہ کا میدان نہ بنائیں بلکہ اہلِ علم، صاحبانِ عقل وخردمل بیٹھیں اور اس ماہ مبارک کو فکر، کردار اور تزکیہ کا موسم بنانے میں اپنی توانائیاں صرف کریں۔ ایسی روش اپنائی جائے جو عشق و اطاعت کو باہم پیوست کر کے امت کو وحدت کی لڑی میں پرو دے۔
قارئین محترم! پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ محبت اور اتباعِ رسول ہر شخص کے ہاں اصل ایمانی تقاضا ہے، تو پھر علمی دیانت اور دین سے وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم فرحت کی مروجہ صورت کے جواز و عدم جواز کی بحث میں الجھنے کی بجائے، اعتدال پر قائم رہتے ہوئے، ماہِ ربیع الاول میں حضور نبیؐ اکرم کے حوالے سے مسلّمہ معتقدات کی ترویج میں محنت کریں۔ ہر خاص وعام پر واضح کریں کہ یہ وہ مبارک ماہ ہے جس میں خاتم النبیین حضرت محمدؐ کی ولادتِ باسعادت کا عظیم الشان واقعہ رونما ہوا۔ یہ وہ مہینہ ہے جو امت کو اس مقام کی یاد دلاتا ہے جہاں سے اس کی روحانی، فکری اور تہذیبی شناخت کا آغاز ہوتا ہے۔ ہمیں امیدِ قوی ہے کہ اگر یہ طرزِ فکر اپنایا جائے، تو اس کی برکت سے نہ صرف امت کا افتراق ختم ہو گا، بلکہ معاشرے میں توازن، ہم آہنگی، اور خیر کی فضا عام ہو گی۔
محبت ِ رسولؐ : ایمان کی بنیاد اور روح
حضور سرور دوعالم ﷺ سے محبت فقط ایک فطری یا وقتی جذبہ ہی نہیں، بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ عینِ ایمان ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں امت کے اپنے نبی سے اس تعلق کو ان الفاظ کے ساتھ اظہار فرمایا:
’’ یہ نبی مکرم ﷺ مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب اور حقدار ہیں۔ ‘‘ (احزاب:۶)
لہٰذا وہی ایمان ثمربار ہے، جہاں نبی کو روایتی پیامبر کی حیثیت میں نہ رکھا جائے، بلکہ الوہی احکامات کا نمائندہ ہونے اور خلق وخالق کے درمیان واسطۂ عظمیٰ ہونے کی حیثیت سے دیکھا جائے۔ مزید یہ کہ کامل مومن کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ نبی کا مقام ومرتبہ اور نبی سے نسبت وتعلق میں اس درجہ مضبوط ہو کہ اپنی جان پر نبی کی ذات کو فوقیت دے۔ اسی طرح کے مفہوم کی صراحت احادیث مبارکہ میں جا بجا کی گئی ہے۔ حضور سرور دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ ‘‘(صحیح بخاری، کتاب: ایمان، باب: حب الرسول من الایمان)
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگرچہ یہ محبت جزوِ ایمان ہے، مگر یہ صرف زبان کی لذت یا آنکھ کے آنسو نہیں، بلکہ ایک شعوری نسبت ہے جو انسانی حیات کے ہر پہلو پر گہرے اثرات مرتب کرنا چاہتی ہے۔ وہ محبت جو اطاعت میں ڈھل جائے، وہ عشق جو متابعت کا رنگ لے لے اور وہ عقیدت جو کردار میں ظاہر ہو، در حقیقت وہی سچا عشق اور سچی نسبت ِ رسول ہے۔
استقبالِ ربیع الاوّل: روایتی جوش یا شعوری اطاعت؟
ہر سال جب ربیع الاوّل کے مبارک مہینے کی آمد ہوتی ہے تو امت کا مزاج ایک مخصوص انداز میں بیدار ہو جاتا ہے۔ شہر کی گلیاں جگمگا اُٹھتی ہیں، نعتیہ مشاعرے، محافلِ میلاد، جلوس اور چراغاں کا اہتمام ہوتا ہے۔ یہ سب من جہت اپنے دائرے میں محبت کی علامت ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں صرف جشن منانا ہے یا اس مہینے کو اپنے دل و دماغ کی تطہیر کا وسیلہ بھی بنانا ہے؟ نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کی بیداری تھی مگر ہم نے اس بیداری کو مخصوص تقریبات، رسمی تقریروں اور جز وقتی نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ جب ہم پیارے نبی ﷺ سے عقیدت کے اظہار کے لئے اتنا اہتمام کرتے ہیں تو کیا ان کی اتباع اور متابعت کو بھی اسی درجے میں اپنی زندگی کا حصہ بنا سکے ہیں ؟
حضرت عبد اللہؓ بن مغفل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسولؐ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے:
’’اے اللہ کے رسول، خدا کی قسم مجھے آپ سے محبت ہے۔ آپؐ نے فرمایا، دیکھو، کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ قارئین کرام! ان صحابی کی اللہ کے رسولؐ سے محبت اور اس میں وارفتگی کا اندازہ لگائیں، انہوں نے تین بار اللہ کے رسولؐ کے سامنے ان ہی الفاظ وانداز میں اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔ اب کی بار اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم مجھ سے حقیقتاً محبت کا تعلق رکھتے ہو تو اپنے آپ کو فقر وفاقہ کیلئے تیار کر لو، کیوں کہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر اس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے جتنی تیزی سے سیلاب اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ ‘‘(سنن الترمذي) گویا آقائے نامدار ﷺ نے سمجھا دیا کہ میری محبت اگرچہ اصلاً دل کے خلوص پر مبنی جذبات واحساسات سے شروع ہو گی، مگر اس کی برکات انسان کو ایسے گھیر لیں گی کہ اس کی فکر ونظر میں اب دنیا وما فیہا کی کسی درجہ کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی بلکہ اللہ کے رسول کی محبت میں گرفتار شخص سے ہر فانی شے دور ہوتی جائے گی۔ محبت رسولؐ کی لذت اس سے دنیا اور اس کا مال ومتاع کا حرص مٹا کر رکھ دے گی۔
محترم قارئین! دیکھئے تو ذرا! اسلام جس محبت کی بات کرتا ہے، وہ محض افسانوی، رومانوی اور حسین تصورات پر مبنی نہیں بلکہ وہ محبت ایک ایسا شعوری احساس پیدا کر دیتی ہے جہاں انسان محض وقتی جذباتی تعلق میں نہیں رہتا، بلکہ اپنے اخلاق وکردار تک کو بدل دیتا ہے۔ یہ محبت انسان کو انفرادیت سے نکال کر اجتماعیت کے دھارے میں باندھ دیتی ہے۔ ہمیں کچھ لمحے رک کر ضرور اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ہم جب محبت ِ رسولؐ کا دم بھرتے ہیں، تو کیا واقعی اس محبت کے لازمی تقاضے کے طور پر ہم سب اپنی زندگیوں میں ایسی فکری، اخلاقی، روحانی اور انقلابی تبدیلیوں کو جگہ دے سکے ہیں ؟
ہم سمجھتے ہیں ربیع الاول کا اصل استقبال وہ ہے جہاں دل کی دنیا بدل جائے، اخلاق کے قرینے سدھر جائیں، عبادات میں خضوع پیدا ہو، زبان میں سچائی و صداقت، تجارت میں امانت و دیانت، باہمی تعلقات میں وفا اور خلوص اور دل میں اللہ و رسولؐ کی یاد کا بسیرا ہو۔
نسبت ِ محمدیؐ کا اصل معیار: متابعت مصطفیٰ ﷺ
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’آپ فرما دیں : اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تمہیں محبوب رکھے گا۔ ‘‘ (آل عمران:۳۱)
یہ آیت عشق کو اطاعت کے ترازو میں تولتی ہے۔ جو محبت، متابعت (تابع داری) سے خالی ہو، وہ محبت بظاہر ایک دعویٰ ہے، جس کی برکات کما حقہ ظاہر نہیں ہو سکیں گی۔ سرکار دو عالم، نبی معظمؐ کی متابعت کا مطلب ہے کہ انسان اپنی انفرادی، عائلی، معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی، الغرض زندگی کے ہر پہلو میں حضور اکرمؐ کی ذات ِ مبارکہ سے رہبری و رہنمائی حاصل کرے۔ چاہے وہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہو، یا بچوں کی تربیت، چاہے معیشت کی دیانت ہو یا عدلِ اجتماعی، چاہے غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ ہو یا دشمنوں کے ساتھ صلح، مضبوط و مستحکم نسبت ِ محمدی انسان کو ایک ہمہ جہتی نظامِ حیات سے مربوط کر دیتی ہے، جس میں انسان کے خیالات وتصورات سے لے کر مزاج و طبیعت کے جملہ پہلو وحی الٰہی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں :
فی الحقیقت تمہارے لئے رسولؐ اﷲ ( کی ذات ِ مبارکہ) میں نہایت ہی حسین نمونۂ (حیات) ہے ہر اُس شخص کیلئے جو اﷲ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اﷲ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے۔ ‘‘
(الاحزاب:۲۱)
مستزاد یہ کہ رسول بھیجے ہی اس لئے جاتے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے۔ ایک مقام پر اطاعت ِ نبی کو ایمان کی لازمی شرط کے طور پر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔ ‘‘ (الانفال:۱)
گویا متابعت ِ رسول کو ایمان کا لازمی جزو قرار دے دیا۔ لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا عملی تقاضا ہے کہ ہم جملہ عبادات میں خشوع پیدا کریں، معاملات میں دیانت اپنائیں، زبان کو غیبت، بہتان، اور طعن سے پاک کریں، بھلائی کی دعوت دینے اور بُرائی سے روکنے کی فکر کریں اور سب سے بڑھ کر دل کو انسانوں کے لئے نرم، معاف کرنے والا اور مخلص بنائیں۔
ماہِ نور : ایک نئی بہار، ایک تازہ عہد
ربیع الاول صرف ایک یادگاری موقع نہیں، بلکہ یہ ایک دعوتِ تجدیدِ عہد ہے، ایک بار پھر دل کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے بھر لینے، زبان کو درود سے معطر کرنے اور زندگی کو اسوۂ محمدی ﷺ کے رنگ میں رنگ لینے کی دعوت۔ آج ہمیں ضرورت ہے اس شعوری انقلاب کی جو مدینہ میں برپا ہوا تھا۔ ربیع الاول کو محض دعوؤں کی محبت پر نہ گزاریں، اسے امت کی اصلاح، نوجوانوں کی بیداری اور سیرت کی عملی ترویج کا نقطہ ٔ آغاز بنائیں۔ ایسا ہوا تو یقیناً اس میں ہماری دُنیا کی بھی کامیابی ہے اور آخرت کی بھی۔