انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور جوابدہی کے شعور کے ساتھ زندگی گزارنا دراصل کامیابی کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ دنیا کی فلاح بھی اسی میں ہے اور آخرت کی نجات بھی اسی پر موقوف ہے۔ جو اس راستے کو اختیار کرے گا وہ کامیابی کے دوش پر چلتا ہوا ابدی کامیابی کے حصول کی سعی میں سرگرداں ہوگا۔
انسان کی عادت ہے کہ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ کبھی حکومت پر، کبھی سماج پر اور کبھی حالات پر۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا انقلاب اندر سے اٹھتا ہے۔ تصویر: آئی این این
انسان کی زندگی محض چند سانسوں کی آمد و رفت یا وقتی آزادیوں کا کھیل نہیں، بلکہ ایک عمیق ذمہ داری اور عظیم امانت ہے۔ کائنات میں وہی ایک ہستی ہے جسے شعور، اختیار اور ارادہ عطا کیا گیا ہے، اور یہی نعمتیں اس پر جوابدہی کی بھاری ذمہ داری ڈال دیتی ہیں۔ درخت، پہاڑ اور ستارے اپنے اپنے دائرے میں ایک قانونِ فطرت کے پابند ہیں، لیکن انسان کو انتخاب کی آزادی دے کر آزمایا گیا ہے۔ یہی آزادی اس کو معزز بھی بناتی ہے اور خطرناک بھی کیونکہ اختیار کا ہر لمحہ سوال کی بنیاد بنتا ہے۔ انسان کی زندگی محض ایک مختصر سفر نہیں بلکہ ایک دوہرا امتحان ہے: ایک دنیا کی فانی سرزمین پر اور دوسرا ابدیت کی سرحدوں پر۔ یہاں کا ہر قدم وہاں کی منزل کو متعین کرتا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنی ذمہ داری اور جوابدہی کے شعور کو ساتھ لے کر آگے بڑھتا ہے۔ اگر انسان خود کو بے مہار اور آزاد سمجھ لے تو یہ آزادی اس کیلئے زنجیر بن جاتی ہے، لیکن اگر وہ آزادی کو امانت جان کر استعمال کرے تو یہی اس کی نجات کا دروازہ کھولتی ہے۔
انسان کو شعور، ارادہ اور اختیار دیا گیا ہے۔ یہ تینوں نعمتیں محض لطف اندوزی کیلئے نہیں بلکہ امتحان کیلئے ہیں۔ اگر اختیار کے ساتھ جوابدہی نہ ہو تو یہ عقل کے منافی ہوگا۔ اگر ایک حکمراں رعایا کے حق میں انصاف سے کام نہیں لیتا، تو یہ محض سیاسی کمزوری نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم ہے۔ ذرا تصور کریں، اگر کسی کو حکومت دے دی جائے اور اس کے فیصلوں پر کوئی سوال نہ اٹھایا جائے تو ظلم اور استبداد کا دروازہ کھل جائیگا۔ اسی طرح اگر انسان کو زندگی کا اختیار دے دیا جائے اور اس کے اعمال کا کوئی حساب نہ ہو تو یہ کائنات عدل کے بجائے فوضویت (نراج، انارکی، لاقانونیت) کا منظر نامہ پیش کرے گی لہٰذا عقل خود گواہی دیتی ہے کہ ذمہ داری کے ساتھ جوابدہی کا تصور لازم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:حضور ؐکی معاشی پالیسی اور غربت کا خاتمہ
جوابدہی کا یہ شعور محض کسی آخری دن کے انتظار کا نام نہیں، بلکہ یہی اصول زندگی کے ہر شعبے میں جاری ہے۔ اگر ایک مزدور دیانت داری سے کام نہیں کرتا، تو یہ صرف مالک کے ساتھ بدعہدی نہیں بلکہ اپنی امانت میں خیانت ہے۔ انسان کو اگر اپنے معاملات میں ذرا سا بھی دھوکہ دہی یا ناپ تول میں کمی کی عادت پڑجائے تو وہ دراصل اپنے معاشرے کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ کاروبار میں ایمانداری ہی اعتماد کا ستون ہے۔ ناپ تول میں معمولی سی کمی بظاہر چھوٹی سی چالاکی لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ پورے معاشرے کے اعتماد کو کھا جانے والی دیمک ہے۔ ملازمت میں وقت ضائع کرنا اور پھر پوری تنخواہ وصول کرنا ایک طرح سے اپنے رزق کو مشتبہ کرنا ہے۔ جب معاشرہ اجتماعی طور پر اس بددیانتی میں مبتلا ہوتا ہے تو برکت ختم ہوجاتی ہے اور معیشت کا ڈھانچہ لرزنے لگتا ہے۔
ایک باپ اگر اپنے بچوں کی پرورش میں انصاف نہ کرے، ان کی تعلیم و تربیت میں غفلت کرے اور محبت کے ساتھ ساتھ رہنمائی نہ دے، تو وہ اپنے ہی گھر کو انتشار کا گہوارہ بنا دیتا ہے۔ ایک ماں اگر اپنی ذمہ داریوں کو محض رسمی طور پر نبھائے اور دل و دماغ کے ساتھ تربیت نہ کرے تو نسلوں کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔ یہ سب اعمال صرف ذاتی کوتاہیاں نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ساتھ خیانت ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:قیادت سازی کا نبویؐ ماڈل اپنا کر ہی ہم مستقبل سنوار سکتے ہیں
وقت کا ضیاع زندگی کے سرمایہ کا زیاں ہے۔ لمحے جو یوں ضائع ہوجاتے ہیں، وہ دراصل ابدیت میں سوال بن کر کھڑے ہوں گے۔ اسی طرح زبان کا بےجا استعمال، چاہے جھوٹ ہو یا غیبت، چاہے طعنہ ہو یا گالی، یہ سب کل کے حساب میں انسان کے خلاف گواہیاں دیں گے۔ زبان جسے انسان کی عظیم طاقت کہا جاسکتا ہے، وہی سب سے بڑا بوجھ بھی بن سکتی ہے۔
انسان کی عادت ہے کہ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ کبھی حکومت پر، کبھی سماج پر اور کبھی حالات پر۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا انقلاب اندر سے اٹھتا ہے۔ جب فرد اپنی ذات کو پرکھتا ہے، اپنے اعمال کو تولتا ہے اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری خود قبول کرتا ہے، تبھی گھر میں سکون، کاروبار میں برکت اور معاشرہ میں انصاف پیدا ہوتا ہے۔ امت کا وقار اور عزت بھی اسی خود احتسابی کے شعور سے بحال ہوسکتی ہے۔ یہی شعور انسان کو کامیاب زندگی کا راز دیتا ہے۔ جوابدہی کا تصور دراصل ایک فکری آئینہ ہے جس میں انسان اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ اس آئینے میں جو کچھ نظر آئے گا، وہی اس کا اصل سرمایہ ہوگا۔ اگر اس نے ذمہ داری کو سمجھا، امانت کی حفاظت کی اور اپنے اختیار کو خیر کی راہ میں استعمال کیا، تو یہی زندگی کی اصل کامیابی ہے۔
انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور جوابدہی کے شعور کے ساتھ زندگی گزارنا دراصل کامیابی کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ دنیا کی فلاح بھی اسی میں ہے اور آخرت کی نجات بھی اسی پر موقوف ہے۔ جو اس راستے کو اختیار کرے گا وہ کامیابی کے دوش پر چلتا ہوا ابدی کامیابی کے حصول کی سعی میں سرگرداں ہوگا۔