شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) فجر اور عصر کے بعد والے اوقاتِ مکروہہ میں طلوع اور غروب سے پہلے دوگانہ ٔ طواف کی بھی ممانعت ہے (۲) قران اور مقدس کتابوں کے اوراق (۳) کیا دوبارہ کلمہ پڑھنا اور تجدید نکاح ضروری ہے؟
طواف کرنے کی صورت میں عصر کے بعد طواف والی نفل مغرب کی فرض کے بعد اورفجر کے وقت ارتفاع شمس کے بعد یہ نفل پڑھیں گے۔ تصویر: آئی این این
مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ زید حنفی ہے اور عمرہ کرنے گیا ہے۔ عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد طواف شروع کیا۔ طواف کے بعد ۲؍نفل ادا کی، کیا زید کا عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد نفل نمازپڑھنا جائز ہے؟ جابر احمد
باسمہ تعالٰی - ھوالموفق: رات دن میں ۳؍ اوقات ایسے ہیں جن میں فرض و نفل ادا و قضا کوئی بھی نماز جائز نہیں یہ تین وقت ہیں : سورج نکلنے کاوقت، سورج کے غروب کاوقت ، نصف النہار یعنی زوال کا وقت۔ ان کے علاوہ عصر کے فرض سے غروب تک اور صبح صادق سے لے کر ارتفاع شمس تک سنت فجر کے علاوہ کوئی بھی نفل مکروہ ہے۔ ان اوقات میں نماز منع اور مکروہ ہے، طواف نہیں طواف کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے جیسا کہ حرم میں فرض کی جماعت کے علاوہ تمام اوقات میں طواف ہوتا رہتا ہے ۔طواف کے بعد ۲؍ نفل پڑھنے کا حکم ہے لیکن فجر اور عصر کے بعد والے اوقات مکروہہ میں طلوع اور غروب سے پہلے دوگانہ طواف کی ممانعت ہے لہٰذا ان اوقات میں طواف کرنے کی صورت میں عصر کے بعد طواف والی نفل مغرب کی فرض کے بعد اورفجر کے وقت ارتفاع شمس کے بعد یہ نفل پڑھیں گے ۔ حکم ہے کہ طواف کے معاً بعد یہ نفل پڑھ لی جائیں۔ اسکے بعد دوسرا طواف شروع کریں لیکن ان وقتوں میں ایک سے زیادہ طواف کرنے کی صورت میں بھی دوگانہ طواف وقت مکروہ کے بعد ہی ادا کرنے کا حکم ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
قران اور مقدس کتابوں کے اوراق
معلوم یہ کرنا تھا کہ قران کے جو اوراق ہوتے ہیں ان کو کیا کیا جائے چونکہ اگر دفن کرنے کی بات ہو تو مُردوں تک کو دفن کرنےکیلئے جگہ نصیب نہیں ہے،شہروں میں بڑی مشکل ہوتی ہے اور عام جگہ پر اگر دفن کیا جائے تو کھدائی کا کام اکثر چلتا رہتا ہے بعد میں ان کی بے حرمتی ہوتی ہے ذاتی کوئی ایسی زمین نہیں ہے جس میں اس کو دفن کریں۔ لہٰذا کوئی اور راستہ ہو تو فرمائیں اپ کی مہربانی ہوگی۔عبد اللہ، ممبئی
باسمہ تعالٰی - ھوالموفق: قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق کے کامل احترام کا بھی حکم دیاگیا ہے انھیں یا تو اس طرح دریا برد کردیا جائے کہ پانی کی موجیں کنارے تک لاکر بے احترامی کا سبب نہ بن سکیں اسکی بہترین صورت یہ ہے کہ بھاری پتھر وں کے ساتھ باندھ کر بیچ سمندر یاکہیں گہرے پانی میں لیجاکر غرق کردیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی ایسی جگہ دفن کردیں جہاں کھدائی وغیرہ کا امکان نہ ہوگا۔ جہاں ایسی جگہ دستیاب نہ ہو وہاں دفن کی بھی اجازت نہ ہوگی۔ علماء نے قرآن کریم کے اوراق (وہ سالم ہوں یا بوسیدہ)کو جلانا پسند نہیں کیا لیکن جہاں کسی اندیشے کے بغیر غرق یا دفن کی جگہ میسر نہ ہوتو آخری صورت یہ ہے کہ وہاں پر انھیں جلاکر راکھ کو بہتے پانی میں بہادیاجائے یا کسی محفوظ مقام پر دفن کر دیا جائے، نہ ردی والوں کو دینا جائز ہے نہ ہی ری سائیکلنگ کی شرعاًکوئی گنجائش ہے۔ و اللہ اعلم وعلمہ اتم
کیا دوبارہ کلمہ پڑھنا اور تجدید نکاح ضروری ہے؟
میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کسی شخص کی بیوی جھگڑے کی وجہ سے اپنے میکے چلی گئی وہ دو ڈھائی سال تک نہیںآئی تو اس نے تعویذ وغیرہ بھی لیے لیکن بیوی نہیں آئی تو اس کو کسی آدمی نےغیر کے پاس بھیج دیا وہ اس غیر مسلم کے پاس اپنی پریشانی لے کر پہنچا۔ اس نے اس سے۲؍ سگریٹ ۲؍ لڈو ایک شراب کی بوتل منگوائی اور کوئی تعویز دیا اور یہ کہا کہ اس کو کسی مندر میں کسی بت کے سامنے سر جھکا کر اس میں سندور لگا کر کھول دینا اور یہ کہنا کہ میری بیوی کوکسی بھی طرح سسرال بھجوا دے۔ بت کے سامنے اس نےیہ عمل کیا ۔ اب کسی نے اس سے کہا ہے وہ اسلام سے خارج ہو گیا اور نکاح ٹوٹ گیا ہے۔ وہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہے ، اس کو کیا کرنا چاہیے؟ دوبارہ کلمہ پڑھنا اور نئے سرے سے نکاح کرنا چاہیے؟تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔
ذیشان احمد ،راجستھان
باسمہ تعالٰی - ھوالموفق: پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے اللہ کے علاوہ کسی کو حاجت روا سمجھنے اور اسکی عبادت کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف کی صورت میں قرآن نے یہ ہدایت دی ہے کہ دونوں کی طرف سے کم ازکم ایک ایک اور ضرورت ہوتو ایک سے زیادہ ذمہ دار افراد کو حکم (یعنی فیصل) بناکر معاملہ ان کے سپرد کر دیا جائے وہ دونوں کے بیانات لے کر اختلاف کی بنیاد کو تلاش کرنے کے بعد افہام وتفہیم کی کوشش کریں۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ اگر یہ لوگ خیر خواہی کے ساتھ اصلاح اور نیک نیتی سے بیٹھیں گے تو اللہ تعالی نباہ اور اتفاق کی صورت پیدا فرما دیگا۔ اس ربانی ہدا یت کوچھوڑکر خود ساختہ سہارے اختیار کرنے میں خسارہ ہی خسارہ ہے۔ دنیوی نقصان اور ٹھگی کے جال میں پھنسنے کے علاوہ بسا اوقات انسان شرک میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس نے غیراللہ کی پوجا کرتے ہوئے عامل کی ہدایات پر عمل کیا ہوتو اس پرتجدید ایمان ضروری ہے اور اگر بیوی اسکے ساتھ رہنے پر رضا مند ہو جائے تو تجدید نکاح بھی ضروری ہوگا جس میں نکاح کی تمام شرائط و ارکان کی رعایت ضروری ہوگی ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم