استغفار وہ آلہ ہے، جو اس کائی کو کھرچ دیتا ہے اور روح کو اس کے اصل جوہر کی طرف واپس لے آتا ہے، حقیقی استغفار لفظوں کی تکرار نہیںبلکہ دل کی گہرائی سے اٹھنے والی سچی ندامت، زبان کی عاجزی اور آئندہ کیلئے پختہ عزم کا حسین امتزاج ہے، جب دل میں پشیمانی کی چبھن پیدا ہو، زبان سے انکسار ٹپکے اور ارادہ مضبوط ہو جائے کہ دوبارہ اس لغزش کی طرف قدم نہ بڑھے گا، تب استغفار اپنی روحانی تاثیر دکھاتا ہے۔
رب العالمین کو دل کی گہرائیوں سے پکار کر تو دیکھئے۔ تصویر: آئی این این
انسانی شعور اکثر ظاہری اسباب کے گورکھ دھندوں میں الجھ جاتا ہے، وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ حوادثِ دہر کے پہاڑ سر کرنے کے لئے آہنی بازو اور مادی بلندی درکار ہے؛ حالانکہ حیات کے تپتے صحراؤں میں ابر ِ کرم کو دعوت دینے کا ہنر ایک شکستہ پکار میں پوشیدہ ہے، جب انسان اپنی ہی لغزشوں کے بوجھ تلے دبنے لگتا ہے، جب راستے دھندلا جاتے ہیں اور دل مایوسی کی دھند میں کھو جاتا ہے، تب ایک نرم؛ مگر پراثر صدا اسے پکارتی ہے: ’’پلٹ آؤ تو راستے روشن ہیں۔‘‘
استغفار محض نوکِ زباں سے ادا کیے گئے چند الفاظ کا نام نہیںبلکہ یہ روح کی وہ سسکی ہے، جو عرشِ الٰہی کے کنگوروں تک پہنچتی ہے، یہ صرف گناہوں کی دھول جھاڑنے کا عمل نہیںبلکہ رحمت ِ باری تعالیٰ کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا ایک مقدس وسیلہ ہے،قرآنِ حکیم کی سحر بیانی دیکھئے کہ استغفار کو کس طرح کائنات کی وسعتوں اور برکتوں سے جوڑا گیا ہے، ارشادِ ربانی ہے:
’’پھر میں (نوحؑ)نے کہا کہ تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر بڑی زوردار بارش بھیجے گا، اور اَموال اور اولاد کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لئے باغات اُگائے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دے گا۔‘‘ (سورہ نوح: ۱۰۔۱۲)
یہ بھی پڑھئے: خضرؑ اور موسیٰؑ کی جدائی، ذوالقرنین، یاجوج ماجوج اور وادیٔ طویٰ کے متعلق سنئے
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جب بندگی کی جبین پر ندامت کا پسینہ چمکتا ہے تو قدرت کے کارخانے میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں، اضطرابِ قلب سکینتِ جاں میں بدل جاتا ہے، تنگیِ رزق وسعت و برکت میں ڈھل جاتی ہے اور سلسلۂ مصائب حصارِ عافیت میں پناہ پا لیتا ہے۔ استغفار دراصل بھٹکے ہوئے بندے کا اپنے آقا کی چوکھٹ پر لوٹ آنے کا اعتراف ہے اور یہی اعتراف رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
ہم استغفار میں تساہل کیوں برتتے ہیں؟ اس لئے کہ معصیت کے خاردار راستوں کو ہم نے معمول بنا لیا ہے،چھوٹے گناہ، جنہیں ہم حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، دراصل دل کے آئینے پر جمنے والی وہ سیاہ کائی ہیں، جو بصیرت کو ماند کر دیتی ہیں۔ نبی ِکریم ﷺ کا فرمان مبارک ہے: ’’مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ثبت ہو جاتا ہے…‘‘(جامع ترمذی)
استغفار وہ آلہ ہے، جو اس کائی کو کھرچ دیتا ہے اور روح کو اس کے اصل جوہر کی طرف واپس لے آتا ہے، حقیقی استغفار لفظوں کی تکرار نہیںبلکہ دل کی گہرائی سے اٹھنے والی سچی ندامت، زبان کی عاجزی اور آئندہ کیلئے پختہ عزم کا حسین امتزاج ہے، جب دل میں پشیمانی کی چبھن پیدا ہو، زبان سے انکسار ٹپکے اور ارادہ مضبوط ہو جائے کہ دوبارہ اس لغزش کی طرف قدم نہ بڑھے گا، تب استغفار اپنی روحانی تاثیر دکھاتا ہے۔
حضرت سیدنا ابوذر ؓسے مروی ہے نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا: ”الله تعالیٰ نے فرمایا: اے انسان! جب تک تو مجھ کو پکارتا رہے گا اور مجھ سے (اچھی) امید رکھے گا تو میں تیرے اس سے پہلے کے گناہ معاف کر دوں گا۔ اے انسان! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آیا تو میں بھی تجھ سے زمین بھر بخشش کے ساتھ ملاقات کروں گا بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا، اے آدم کے بیٹے! اگر تو اتنے گناہ کرے کہ تیرے گناہ آسمان کی بلندی کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت و بخشش طلب کرے تب بھی میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کچھ پروا نہ ہوگی۔“
(سنن دارمی/من کتاب الرقاق)
یہ بھی پڑھئے: حجر والوں کاقصہ، شیطان کا انکار، شہد کی مکھی کا ذکر اور آپؐ کی دلدہی کی آیات
صدق دل سے کی گئی اطاعت اور نیکیوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب کوئی حاصل کرے تو الله تعالیٰ بھی رحمت و محبت، بخشش و مغفرت کے ساتھ اس سے قریب ہو جاتا ہے، یہ الله تعالیٰ کا بڑا فضل و کرم ہے، اور ڈھیر سارے گناہوں کے باوجود اگر انسان سچے دل سے توبہ و استغفار کرے تو الله تعالیٰ نہ صرف اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے بلکہ اس کیلئے یہ خوشخبری ہے: ’’گناہ سے (صدقِ دل سے) توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح (پاک و صاف ہو جاتا) ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان گناہ کرتا رہے اور ہر بار اُس کو معاف کروانا چاہے۔ رمضان المبارک توبہ و استغفار کا خاص موسم ہے، جب شیاطین کی سرکشیاں محدود کر دی جاتی ہیں اور رحمتِ الٰہی کی شبنم ہر سو بکھر جاتی ہے توسچے دل سے ایک مرتبہ’’استغفراللہ‘‘کی ادائیگی پورے وجود کو معطر کر دیتی ہے اسلئے چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اپنی سانسوں کے ریشم میں استغفراللہ کے ذکر کو پروتے رہئے۔ کسی گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر رسمی گنتی سے نکل کر، دل کی گہرائی سے اپنے رب کو پکارئیے، اپنی شکستگی کو وسیلہ بنائیے اور عرض کیجیے: ’’یا اللہ! میں تیرا عاجز بندہ ہوں، میرے پاس ندامت کے آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں، میں سراپا تقصیر ہوں؛مگر تو غفارِ ازل ہے، مجھے اپنی رحمت کی آغوش میں ڈھانپ لے۔‘‘ گناہ وہ دیوار ہے جو ہمیں اپنے رب سے دور کرتی ہے اور استغفار وہ دستک ہے، جو اس دیوار کو گرا دیتی ہے۔