Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستانی صدر زرداری کا دعویٰ: ہندوستان ’ایک اور جنگ‘ کی تیاری کر رہا ہے؛ کشمیر پر مذاکرات کی اپیل

Updated: March 03, 2026, 5:10 PM IST | Islamabad

پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، زرداری نے ہندوستان کو خبردار کیا کہ پاکستان کسی بھی نئی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ ان کے بیان کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔

Pakistani President Asif Ali Zardari. Photo: INN
پاکستانی صدر آصف علی زرداری۔ تصویر: آئی این این

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے الزام لگایا ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان گزشتہ سال مئی میں ہوئی فوجی کشیدگی کے چند ماہ بعد ہندوستان ”ایک اور جنگ کی تیاری“ کر رہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کشمیر کے معاملے پر مذاکرات کی طرف واپسی پر بھی زور دیا۔

پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، زرداری نے ہندوستان کو خبردار کیا کہ پاکستان کسی بھی نئی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے اپوزیشن اراکین کی نعرے بازی اور شور شرابے کے درمیان کہا کہ ”کوئی غلط فہمی نہ پالیں، ہم آپ کے لئے تیار ہیں۔ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔“ ان کے اس بیان کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

اس انتباہ کے باوجود، زرداری نے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ بامعنی گفتگو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ان (ہندوستان) کے لئے میرا پیغام یہ ہے کہ جنگ کے تھیٹر سے نکل کر بامعنی مذاکرات کی میز پر آئیں، کیونکہ یہی علاقائی سلامتی کا واحد راستہ ہے۔“ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کے لئے پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال کی سرحدی جھڑپوں اور سفارتی تناؤ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہنوز کشیدہ ہیں۔ زرداری کی تقریر پر نئی دہلی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ میں عمران خان کی سابق اہلیہ پر ایک ہزار پاؤنڈ جرمانہ

زرداری نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات پر زور دیا

زرداری نے افغانستان کے ساتھ فوجی تناؤ کا بھی ذکر کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کابل سے مذاکرات کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افغانستان کو ہندوستان کے عزائم کے لئے ”پروکسی میدانِ جنگ“ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے یہ تبصرے پاکستان اور طالبان کی زیرِ قیادت افغان حکومت کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ ہندوستان نے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مسلسل تردید کی ہے۔ گزشتہ بات چیت کے دوران، ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے اسلام آباد کے اسی طرح کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کی میزبانی کرتا ہے اور اپنے اندرونی چیلنجز کا ذمہ دار پڑوسیوں کو ٹھہرانے کی اس کی تاریخ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاک افغان تصادم: ٹرمپ کا امن کیلئے ثالثی کا اشارہ

گزشتہ ماہ، جب افغان سرزمین پر پاکستانی فضائی حملوں میں رمضان کے دوران مبینہ طور پر شہری ہلاکتیں ہوئیں، تو ہندوستان نے اس کارروائی کی مذمت کی تھی۔ نئی دہلی نے اسے پاکستان کی جانب سے اپنی ”اندرونی ناکامیوں کو بیرونی رنگ دینے“ کی ایک کوشش قرار دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK