بعض نمازیوں کا مسجد کی کسی جگہ، کرسی یا کسی نسخۂ قرآن گویا قبضہ ہوتا ہے۔ کوئی ان کی جگہ پر نماز نہیں پڑھ سکتا، ان کی کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا۔
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 2:53 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
بعض نمازیوں کا مسجد کی کسی جگہ، کرسی یا کسی نسخۂ قرآن گویا قبضہ ہوتا ہے۔ کوئی ان کی جگہ پر نماز نہیں پڑھ سکتا، ان کی کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا۔
مسجد میں ایک صاحب اونچی آواز میں مسجد کے خادم صاحب سے مخاطب تھے۔ تیز آواز کی وجہ سے کئی افراد کی توجہ اس طرف چلی گئی۔ موصوف غصہ میں تھے اور خادم سے کہہ رہے تھے کہ ’’پتہ نہیں کون ہے جو قرآن شریف کا وہی نسخہ اٹھا کر الگ الگ جگہ رکھ دیتا ہے جسے میں پڑھتا ہوں۔ اس میں میری نشانی رکھی ہوئی ہے، دوسرے کسی قرآن میں پڑھنے میں مجھے پتہ نہیں چلے گا کہ میں کتنا حصہ پڑھ چکا ہوں۔ اس میں کتابت بھی اچھی ہے مجھے پڑھنے میں سہولت ہوتی ہے۔ اب میں نے اسے جزدان میں رکھ دیا ہے دھیان رکھنا یہیں رہے۔‘‘ یہ باتیں سن کر دیگر افراد کیا سوچ رہے ہوں گے اس کا مجھے علم نہیں لیکن میرے دل میں خیال آیا کہ اس میں خادم صاحب کیا کرسکتے ہیں، یہ سب ان کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے اور رمضان کے مہینے میں بڑی تعداد میں نئے چہرے بھی مساجد میں نظر آتے ہیں۔ ان میں جس کو قرآن شریف کا جو نسخہ ملتا ہے وہ اُسی کو لے کر بیٹھ جاتا ہے اور تلاوت شروع کر دیتا ہے، کوئی شخص کتنا دھیان رکھ سکتا ہے۔ تاہم جب ٹرسٹیان خدام مسجد کو ہدایت دیتے ہیں تب وہ (خدام) بحث نہیں کرتے بلکہ یقین دلاتے ہیں کہ حضور ایسا ہی ہوگا جیسا آپ نے فرمایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۲): کھانے پینے کی ایسی کون سی نعمت ہے جو یہاں دستیاب نہیں !
مجھے اپنے کام کے سلسلے میں مختلف مقامات پر الگ الگ مساجد میں نماز ادا کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے اور اندازہ یہی ہے کہ اکثر و بیشتر مساجد میں سال بھر نماز پڑھنے والے بعض نمازی ایسے ہوتے ہی ہیں جن کا مسجد کی کسی جگہ، کرسی یا قرآن کریم کے نسخہ پر قبضہ ہوتا ہے۔ کوئی ان کی جگہ پر نماز نہیں پڑھ سکتا، ان کی کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا اور نہ ہی قرآن شریف کے اس نسخہ میں تلاوت کرسکتا ہے جس میں وہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی انجان شخص یہ غلطی کر بیٹھے تو وہ بڑی تلخی سے اپنی اجارہ داری کی اطلاع دیتے ہیں۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دیگر نمازی ان حالات سے واقف ہوتے اس لئے کوئی ان سے بحث و مباحثہ نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۱): ایسا لگتا ہے کہ روزہ بھی’ آن لائن‘ رکھا جا رہا ہے!
چونکہ رمضان میں نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور بہت سے افراد سال بھر موجود نہیں رہتے اور کون سی چیز کس کی ہے اس بات سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے ان افراد کیلئے بڑی دشواری ہوجاتی ہے جنہیں بار بار نئے لوگوںکو بتانا پڑتا ہے کہ بھائی یہ میری جگہ ہے، میرا نسخۂ قرآن ہے یا میری کرسی ہے۔ حالانکہ کچھ سمجھدار ایسے بھی ہوتے ہیں جو مسجد میں رکھا قرآن کریم کا کوئی اور نسخہ خود دیگر شخص کو دے دیتے ہیں کہ بھائی یہ لے لو اور جس میں تم پڑھ رہے ہو مجھے دے دو کیونکہ اس میں میری نشانی رکھی ہے۔ ایسا ہوتا ہے تو کسی کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ تاہم رمضان میں کئی مرتبہ روزہ دار تلخ باتوں کو نظر انداز نہیں کرپاتے اس لئے کبھی کبھار مسجد میں معمولی معمولی بات پر لوگ مساجد کا احترام بھول کر اونچی آواز میں جھگڑنے لگتے ہیں اور اگر دیگر افراد مداخلت نہ کریں تو شاید ان میں ہاتھا پائی بھی ہوجائے۔
یہ بھی پڑھئے: اُس نے خود ہی وقت کا تعین کیا، اذان دی اور روزہ کھول لیا
بہر حال مسئلہ صرف ان افراد کا نہیں ہے، مسئلہ ان کا بھی ہے جو جس جگہ پر بیٹھ گئے یا کھڑے ہوگئے ان کے آگے جگہ خالی ہوجانے کے باوجود وہ اپنی جگہ سے ہلنا گوارہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے کئی مرتبہ صفوں کے درمیان خلاء رہ جاتا ہے۔ جمعہ اور تراویخ کی نماز میں اکثر تجربہ ہوا ہے کہ بھیڑ کے سبب پہلے تو لوگ ایسے حصہ میں جہاں اے سی ہو، یا پھر پنکھے کے نیچے یا گرائونڈ فلور پر نماز پڑھنے کیلئے تگ و دَو کرتے ہیں تاکہ اوپری منزل پر نہ جانا پڑے۔ لیکن اگر ایک بار انہیں جگہ مل گئی تو پھر آگے جگہ خالی ہونے پر بھی اسے پُر کرنے کیلئے اپنی جگہ سے نہیں ہلتے، ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہتے ہیں یا کسی تیسرے کو اشارہ کرتے ہیں کہ تم آگے چلے جائو۔ پھر یا تو کسی کے زور دینے پر آگے بڑھتے ہیں یا پھر پیچھے کا کوئی شخص تنگ آکر آگے چلا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۹): یہ بندۂ خدا کی عنایت ہے، مت پوچھو بندۂ خدا کون ہے
ایک مسئلہ مساجد کے باہر موٹر گاڑیاں اور دو پہیہ گاڑیاں کھڑی کرنے کا بھی ہے۔ انتظامیہ کے ارکان کتنی ہی بار اعلان کریں، مصلیان مسجد پہنچنے کیلئے گاڑی دوڑاتے ہیں اور پھر مسجد کے قریب جہاں جگہ ملتی ہے گاڑی کھڑی کرکے مسجد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اب اُن کی گاڑی سے ٹریفک جام ہو یا بعد میں آنے والوں کو دقت ہو، اِن کی بلا سے۔ یہ غیر ذمہ دارانہ طریقہ ہے۔ بعض جگہوں پر انتظامیہ نے رضاکار تعینات کئے مگر اس تجربہ سے بھی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوا۔ اس دوران کبھی ایسا بھی ہوا کہ ٹو وہیلر پر آنے والے نمازی رضاکاروں ہی سے بھڑ گئے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اور اللہ کے گھر آنے والوں کو سنجیدگی و احترام ملحوظ رکھنا چاہئے۔احترام صرف نماز کے وقت ہو، اس کے پہلے اور بعد میں نہ ہو تو یہ اچھی بات نہیں۔