شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) احرام میں کریم کا استعمال۔ (۲) ارکانِ عمرہ کی ادائیگی اور بال مونڈانا۔(۳) نبی کریمؐ کے نام سے قربانی۔ (۴) بینک سے قرض اور قربانی۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 4:41 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) احرام میں کریم کا استعمال۔ (۲) ارکانِ عمرہ کی ادائیگی اور بال مونڈانا۔(۳) نبی کریمؐ کے نام سے قربانی۔ (۴) بینک سے قرض اور قربانی۔
احرام میں کریم کا استعمال
عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد اگر کوئی شخص جلن یا سوزش وغیرہ سے بچنے کے لئے کریم لگانا چاہے تو کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ یہ کریم بھی دیگر کریموں جیسی ہی ہوتی ہے اس میں خوشبو بھی پائی جاتی ہے، تاہم یہ خوشبو عطر یا پرفیوم جیسی نہیں ہوتی ۔ عنایت خان، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: حالت احرام میں خوشبو کا استعمال ممنوع اور جنایات میں سے ہے۔ استعمال کی تفصیل کے مطابق دم یا صدقہ لازم آتا ہے۔ دیکھنے والا امر یہ ہے کہ سوزش اور جلن کے لئے لگائی جانے والی کریم میں خوشبو کی نوعیت کیا ہے۔ عطر جیسی خوشبو ہو تو جنایت واضح ہے لیکن عطر جیسی خوشبو نہ ہو بلکہ ایک قسم کی خوشگوار بو ہو تو استعمال کی گنجائش ہوگی تاہم بہتری اس میں ہے کہ ایسے مواقع کے لئے وہ کریم لی جائے جس میں کسی طرح کی خوشبو نہ ہو۔ کریم ایک دوا بھی ہے جس کو خاص طریقے سے تیار کیاجاتا ہے۔ علماء نے آگ اور حدت وغیرہ کے ذریعہ تیار کی جانے والی اشیاء کو خوشبو سے خارج مانا ہے اس لئے ان کا استعمال دم کا موجب نہ ہوگا تاہم احتیاط کی جائے یہی بہتر ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
ارکانِ عمرہ کی ادائیگی اور بال مونڈانا
ایک صاحب عمرہ کرنے گئے تھے۔ عمرہ کے سارے ارکان مکمل کرنے کے بعد بال کٹا نے کے بجائے طواف کرلیا یہ سوچ کر کہ کمرے پر جاکر بال مونڈا لیںگے۔ کیا اب ان پر دم واجب ہوگا؟ عرفان احمد، دہلی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق:مناسب تو یہ ہے کہ عمرہ کے طواف اور سعی کے بعد قصر یا حلق کے ذریعہ احرام سے باہر آنے کے بعد مزید کوئی طواف کرے تاہم حلق یا قصر کے لئے کوئی وقت متعین نہیں اس لئے اگر اس سے پہلے نفل طواف کیا تو یہ کوئی جنایت نہیں اس لئے دم لازم نہ ہوگا ۔ لیکن اس میں قدرے تفصیل ہے جس کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ طواف و سعی کے بعد قصر یا حلق سے پہلے دوسرے عمرہ کا حرام باندھ لیاجاے تو یہ جنایات میں داخل ہے لہٰذا اس صورت میں دم واجب ہوگا، اس کے برخلاف نئے احرام کے بغیر نفلی طواف میں صرف تاخیر واقع ہے جو جنایت نہیں ہے اس لئے اس تاخیر پر دم وغیرہ لازم نہ ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
نبی کریمؐ کے نام سے قربانی
اگر کوئی مسلمان پہلی بار نبی کریم ﷺ کی نام سے قربانی کرے تو کیا حکم ہے؟ولی اللہ، بھیونڈی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق:حضور ﷺ کے نام سے قربانی کرنا جائز اور علمائے کرام کے مطابق موجب سعادت ہے ۔ حضور ﷺ نے خود امت کو اپنی قربانی میں شریک کیا تھا۔ آپؐ کے اس فعل سے دوسروں کی طرف قربانی کا جواز ثابت ہوتاہے۔ پھر جس طرح کوئی امتی اپنے اجداد، اقرباء اور متعلقین کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے تو حضورؐ کی طرف سے بھی کرسکتا ہے اور پہلی دوسری مرتبہ پر منحصر نہیں، اللہ توفیق دے تو تاحیات اور ہر سال کرے ،لیکن سائل کے انداز سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ شاید پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی طرف سے قربانی نہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ حضورؐ کی طرف قربانی کرنا چاہتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اگر خود اس پر قربانی واجب نہیں تو گنجائش ہے لیکن خود اس پر قربانی واجب ہو تو اولاً اپنی قربانی کرنی ہوگی، پھر اللہ توفیق دے تو نبی کریم ؐ یا جس کے نا م سے چاہے مزید قربانی کرے ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
بینک سے قرض اور قربانی
ایک آدمی نے بینک سے لون لے رکھا ہے۔ کیا لون کی رقم سے اس کیلئے قربانی میں حصہ لینا درست ہوگا ؟ ارشاد خان، وسئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق :غریب جس پر قربانی واجب نہیں، شریعت کا اس سے یہ مطالبہ بھی نہیں کہ قرض لے کر قربانی کرے۔ شریعت نے جب اسے مکلف نہیں بنا یا تو قرض کا بوجھ سر پر لینے کی ضروت بھی نہیں تاہم وہ قرض یا لون کی رقم سے قربانی کرے تو قربانی ہوجائیگی۔ جس پر قربانی واجب ہے اسے بہر حال قربانی کرنا ضروری ہے چاہے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ اگر بینک کی رقم ہو تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ بینک لون کا معاملہ اگر چہ سودی عقد ہے لیکن جو رقم اسے بینک سے ملی ہے اس میں سود شامل نہیں، اس لئے قربانی نہ ممنوع ہے نہ مکروہ لہٰذا قربانی درست ہوگی اور قربانی کا فریضہ بھی ذمے سے ساقط ہوجائیگا البتہ مسلمان کے لئے بغیر شدید اور اضطراری ضرورت کے سودی معاملات سختی سے منع ہیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم