نبی کریمؐ نے فرمایا’’بے شک قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے لہٰذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔‘‘
لغت میں قربانی کا مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ:
’’قربانی وہ چیز (ہے) جس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، اصطلاحِ شرع میں یہ قربانی جانور ذبح کرنے کا نام ہے۔ ‘‘
(المفردات للراغب ص:۴۰۸)
قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا:
’’اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر فرمائی کہ اللہ کا نام لیں، اس کے دیئے ہوئے بے زبان چوپائیوں پر۔ ‘‘ (الحج:۳۴)
احادیث مبارکہ میں بھی قربانی کی فضیلت کو واضح کیا گیا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
* امام ترمذی وابن ماجہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ابن آدم نے قربانی کے دن خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ خدا کے حضور پسندیدہ کوئی کام نہیں کیا اور بے شک وہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور بے شک خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے لہٰذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔ ‘‘
(مشکوٰۃ ،ص۱۲۸، باب الاضحیہ)
* حضورؐ قربانی کرتے وقت دعا فرماتے:
’’الٰہی، محمد ﷺ، آپ کی آل اور آپ کی امت کی طرف سے قبول فرما۔ ‘‘(مشکوٰۃ)
دوسری روایت میں ہے کہ: ’’الٰہی یہ میری طرف سے اور میرے ان امتیوں کی طرف سے قبول فرما جو قربانی نہیں کرسکے۔ ‘‘(مشکوٰۃ )
* احنش کہتے ہیں میں نے حضرت علی ؓ کو دو مینڈھے قربانی کرتے دیکھا، میں نے آپؓ سے پوچھا: یہ کیا؟ آپؓ نے فرمایا: ’’رسولؐ اللہ ﷺ نے مجھے اس بات کی وصیت فرمائی تھی کہ میں حضور کی طرف سے قربانی کروں۔ سو میں سرکار کی طرف سے (بھی) قربانی کرتا ہوں۔ ‘‘ (ابوداؤد، ترمذی، مشکوٰۃ)
سبحان اللہ! کیسے سعادت مند ہیں وہ اہل خیر، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، رسول اکرم ﷺ کی طرف سے آج بھی عمدہ قربانی دیتے ہیں۔ یقیناً آقاؐ کی روح خوش ہوگی اور یقیناً اس کے طفیل ان کی اپنی قربانی بھی شرف قبولیت پائے گی۔
* زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
’’اللہ کے رسولؐ کے صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے؟ فرمایا ہر بال کے بدلے نیکی۔ عرض کی: یارسول اللہ! اون کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ فرمایا اون کے ہر بال بدلے نیکی ہے۔ ‘‘
(احمد، ابن ماجہ، مشکوۃ)
* براء بن عازب ؓ نے بیان کیا کہ نبیؐ کریم نے فرمایا کہ آج (عید الاضحی کے دن) کی ابتداء ہم نماز (عید) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے۔ جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص (نماز عید سے) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لئے تیار کر لیا ہے، قربانی وہ قطعاً بھی نہیں۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے (نماز عید سے پہلے ہی) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے (کیا اس کی دوبارہ قربانی اب نماز کے بعد کر لوں؟) نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کیلئے کافی نہیں ہو گا۔ (صحیح بخاری،کتاب الاضاحی)