اللہ کا ڈر غیروں کے ڈر سے بچاتا ہے

Updated: November 13, 2020, 12:18 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

اگر کسی انسان کے اندر یہ سوچ رچ بس جائے کہ وہ جو چاہے گا کرے گا کیونکہ اُس کوکوئی روک ٹوک کرنے والا اور دیکھنے والا نہیں ہے، تو یہ سوچ اس انسان کے لئے وبالِ جان سے کم نہیں ہے؛کیونکہ اس کے بعد اس کی زندگی جادۂ اعتدال سے ہٹ جاتی ہے اوروہ گم کردہ راہ مسافر کی طرح کبھی اِدھر اور کبھی اُدھرٹھوکر کھاتا ہے اورہر ٹھوکر کے ساتھ اپنی منزل سے دور ہوتا جاتا ہے۔

Muslim Praying
اللہ کا ڈر غیروں کے ڈر سے بچاتا ہے

اگر کسی انسان کے اندر یہ سوچ رچ بس جائے کہ وہ جو چاہے گا کرے گا کیونکہ اُس کوکوئی روک ٹوک کرنے والا اور دیکھنے والا نہیں ہے، تو یہ سوچ اس انسان کے لئے وبالِ جان سے کم نہیں ہے؛کیونکہ اس کے بعد اس کی زندگی جادۂ اعتدال سے ہٹ جاتی ہے اوروہ گم کردہ راہ مسافر کی طرح کبھی اِدھر اور کبھی اُدھرٹھوکر کھاتا ہے اورہر ٹھوکر کے ساتھ اپنی منزل سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں ایک مسلمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنی زندگی کو معتدل بنانے کے لئے اور اپنی حقیقی منزل جنت کو پانے کے لئے اپنے اندر یہ احساس لازمی طور پر پیدا کرے کہ وہ من چاہی اور بے اعتدال زندگی گزارنے کے لئے آزاد نہیں ہے بلکہ شریعت کے احکامات اُس کو اپنے اعمال کے باب میں پابند بناتے ہیں اور حدود و قیود پر نظر رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ سب اس احساس کے ساتھ ہو کہ اللہ رب العزت اس کو ہر آن دیکھ رہا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مشینی دور میں ہماری زندگی بھی مشینی بن کر رہ گئی ہے کہ ہم ہر کام محض خانہ پُری کے طور پر کرنے کے عادی بن گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم میں سے بہت سے لوگ پانچ وقت کی نماز ادا تو کرتے ہیں لیکن غور کریں تو یہ محض اُن کے لئے روٹین کی ادائیگی ہوتی ہے، نہ وہ آدابِ نماز کا خیال رکھ پاتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں رب کے سامنے کھڑے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی نماز سے خاطر خواہ فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ یہ محض ایک مثال ہے، ورنہ غور کریں تو زندگی کے اکثر شعبوں میں ہمارا یہی حال ہے کہ نہ ہی شریعت کی حدودو قیود کا خیال ہے اور نہ ہی خوف خدا؛ گویا زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اپنی زندگی گزارنے کے لئے آزاد ہیں، نہ تو ہمیں کوئی روکنے والا ہے اورنہ ہی ہمیں کوئی دیکھنے والا۔
اپنا احتساب کریں تو یہ اندازہ ہوجائے گا کہ مذکورہ سوچ نے ہی ہمیں پستی اور زوال کی جانب دھکیل دیا ہے اور اسی کے نتیجے میں بسا اوقات مسلمانوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ بے یارو مددگار ہیں۔ ظاہرہے کہ جب ہم شریعت کے پابند نہیں ہوںگے تو انسانوں کے خود ساختہ راستوں کے اسیر ہوکر منزل سے کہیں دور بھٹک جائیں گے اور جب خدا کا خوف ہمارے دل میں نہیں ہوگا تو غیروں کا خوف دامن گیر ہوگا۔ اِس صورتِ حال سے نکلنے کا یقینی راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں اور اپنی کامیابی شریعت کی پابندی اور استحضارِ باری تعالیٰ میں مضمر سمجھیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اسی کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ۔‘‘ 
(آل عمران:۱۳۹)
زیر بحث موضوع کے آئینے میں جب ہم صحابہ کرام ؓ کی زندگی دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے لئے اُن کی زندگی میں رہنمائی کی روشنی صاف نظر آتی ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں ایک مقام پر اُمتِ محمدیہؐ کی خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ ’’تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو‘‘، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے ۔‘‘(سور ہ آل عمران :۱۷۳)
اِس آیت میں دراصل غزوۂ احد کے بعد کا تذکرہ ہے کہ جب اہلِ مکہ نے یہ دیکھا کہ بظاہر فتحیاب ہونے کے با وجود وہ یوں ہی لوٹ گئے تو دوبارہ حملہ کر نے کی ہمت تو نہیں کر پائے لیکن یہ سازش رچی کہ مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے یہ خبر دیں کہ اہلِ مکہ بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کیلئے اکٹھا ہو رہے ہیں اور اُن کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان ڈر جائیں۔ لیکن وہ اِس سازش میں کامیاب نہیں ہوئے اور مسلمانوں نے جرأت  کے ساتھ جواب دیا کہ ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے۔
 یہی وہ نکتہ ہے جو موجودہ  زمانے  میں ہمارے لئے بے انتہا کار گر ہے۔ آج جب ہم مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک نظر دوڑاتے ہیں تو یہی پاتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہر جگہ ڈرانے اور دھمکانے کی سازش رچی جارہی ہے اور مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ  سازش کا شکار ہو کر ہر جگہ لرزہ بر اندام ہیں اور نتیجتاً پِٹتے جارہے ہیں۔ اگر مسلمان صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی طرح خوف کی کیفیت سے باہر آکر ایمانی جر أت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے زبان حال سے یہ اعلان کر دیں کہ ہمارے لئے ہمارا ا للہ ہی کافی ہے تو دشمنوں کے غبارے کی ہوا از خود نکل جائے گی اور مسلمان ذلیل ہوتے رہنے سے بھی بچ جائیں گے۔ 
یہ سچ ہے کہ جب تک مسلمان اپنے اندر اللہ تبارک و تعالیٰ کا خوف پیدا نہیں کریں گے تب تک وہ غیروں سے ڈرتے رہیں گے اور اُمت محمدیہ کے حقیقی فرد ہونے کا تمغہ اُن کے سر پر نہیں سج پائے گا؛ کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے بطورِ اُمت مسلمانوں کو اِس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ صرف اللہ سے ڈریں اور غیروں کے خوف کو اپنے دل میں جگہ نہ دیں۔ 
سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۰؍میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:…’’تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرتے رہو، (یہ حکم اس لئے ہے کہ) میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK