غزہ کے محاصرہ کے پندرہ سال اور موجودہ صورتحال

Updated: July 09, 2022, 11:00 AM IST | Ramzy Baroud | Mumbai

وقت کے ساتھ عالمی تنازعات بڑھ رہے ہیں (مثلاً یوکرین روس جنگ جو اب بھی جاری ہے) جس کے سبب پرانے مسائل جوں کے توں ہیں (مثلاً فلسطین کی آزادی)۔ ان پر کسی کی توجہ نہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

پندرہ سال گزر گئے جب اسرائیل نے غزہ کا مکمل محاصرہ کرلیا تھا۔ اس محاصرہ کی وجہ سے ۲۰؍ لاکھ فلسطینی اب تک کے سب سے طویل محاصرہ اور سیاسی مفادات کیلئے عائد کی گئی سخت ترین پابندیوں سے لوہا لے رہے ہیں۔ جب یہ محاصرہ کیا گیا اور پابندیاں عائد کی گئیں، اُس وقت اسرائیلی حکومت نے یہ جواز پیش کیا تھا کہ اسرائیل کو ’’فلسطینی دہشت گردی اور راکٹ حملوں‘‘ سے محفوظ رکھنے کا یہی طریقہ ہے۔ اب تک اسرائیل کا یہی سرکاری موقف ہے۔ اسرائیلی حکومت کے کارپردازوں، صحافیوں اور عام لوگوں سے گفتگو کی جائے تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ اسرائیل اب محفوظ ہے۔ مگر جاننے والے، یہ حقیقت جانتے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ اور پابندیوں کا نفاذ اُس وقت کیا جب حماس اور فلسطینی اتھاریٹی کے درمیان مختصر وقت تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد غزہ حماس کے قبضے میں آیا اور مغربی کنارہ فلسطینی اتھاریٹی کی تحویل میں چلا گیا۔ یقیناً یہ ایک وجہ تھی مگر دوسری اور اس سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ کوئی اچانک ہونے والا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اسرائیل نے غزہ کو الگ تھلگ کرنے کا فیصلہ مذکورہ جھڑپوں کے بہت پہلے کرلیا تھا۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یہ فیصلہ جنوری ۲۰۰۶ء میں کرلیا گیا تھا جب حماس نے انتخابی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے غزہ میں فوجیں تعینات کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا تھا۔ اگست۔ستمبر ۲۰۰۵ء میں غزہ سے علاحدگی (جسے سفارتی زبان میں ڈِس انگیجمنٹکہا جاتا ہے) سے پہلے ۲۰۰۳ء میں یہ خاکہ تیار تھا جسے حکومت نے ۲۰۰۴ء میں منظوری دی اور پھر فروری ۲۰۰۵ء میں پارلیمنٹ نے بھی اس پر مہر لگا ئی۔ 
 یہ ’’علاحدگی‘‘ اسرائیل کی چال تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ چند ہزار غیر قانونی یہودی بازآبادکاروں کو غزہ سے اور اتنے ہی بازآباد کاروں کو مغربی کنارہ سے نکال کر یہودی بستیوں کو زیادہ محفوظ کرلیا جائے۔ پہلے یہ بستیاں غزہ میں فلسطینیوں کی گنجان آبادی کے درمیان تھیں جو سیکوریٹی کے اعتبار سے محفوظ نہیں تھیں اس لئے اُنہیں وہاں سے ہٹا کر غزہ کی سرحد کے قریب بسا دیا گیا۔ سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ غزہ سے انخلاء نہیں تھا بلکہ اس پٹی کا نئے انداز میں محاصرہ کرنے کی سازش تھی۔ غزہ کی گھیرا بندی اور پھر پابندیوں کی ابتداء یہیں سے ہوئی۔ یہ سازش یا چال جیمس وولفانسون پر بھی آشکار تھی جنہیں غزہ سے انخلاء ( ڈِس انگیجمنٹ) کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔۲۰۱۰ء میں اُن کا بھی مطمح نظر یہی تھا کہ’’علاحدگی کے اس منصوبے کے ذریعہ غزہ کو مؤثر طریقے سے مسدود کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے فلسطینی آبادی پر، عائد ہونے والی پابندیوں کے انسانی اور معاشی نتائج گہرے ہوں گے۔‘‘  مگر اس منصوبہ کی حصولیابی اتنی ہی نہیں بلکہ اس سے کافی زیادہ تھی کیونکہ مقصد جو ظاہر کیا گیا وہ الگ تھا، جو اوپر بیان کیا گیا، جبکہ ایک مقصد وہ بھی تھا جو ظاہر نہیں کیا گیا۔ وہ یہ تھا کہ قیام امن کے عمل کو منجمد کردیا جائے، مؤثر طریقے سے روک دیا جائے۔ اس کی تصدیق ایریل شیرون کے سینئر مشیر ڈو ویسگلاس نے اسرائیلی روزنامہ ’’ہاریٹز‘‘ سے انٹرویو کے دوران کی تھی۔ اس چال کو سمجھنے کی کوشش کرنے والا پوچھ سکتا ہے کہ غزہ سے انخلاء اور قیام امن کے عمل کو روکنے کا باہمی تعلق کیا ہے؟ یا اول الذکر کے ذریعہ آخر الذکر کو کیسے حاصل کیا جاسکتا تھا؟  اس کا جواب بھی مذکورہ انٹرویو کے دوران ڈو  ویگلاس نے دیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’جب آپ امن کی بحالی کے عمل کو منجمد کرتے ہیں تو اس کے ذریعہ آپ فلسطینی ریاست کے قیام میں بڑی رکاوٹ پیدا کرتے ہیں، پناہ گزینوں کی واپسی کے مذاکرات کو روکتے ہیں اور سرحدوں کی نئی تشکیل کے عمل کو خارج از امکان بناتے ہیں۔‘‘  اندازہ کیجئے کہ اسرائیل کے اقدامات کتنے پُرفریب ہوتے  ہیں۔ غزہ سے انخلاء کے بیان کردہ مقصد کو امریکی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ ویسگلاس کے مطابق اس منصوبہ ٔ عمل کو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ اُس وقت امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش تھے۔  آگے بڑھنے سے قبل ایک بار پھر اعادہ کردوں کہ یہ پورا منصوبہ حماس کی انتخابی کامیابی اور حماس نیز فتح گروپ کی جھڑپوں سے بہت پہلے تیار کیا گیا تھا۔مذکورہ جھڑپوں کے ذریعہ اس منصوبے کے نفاذ کا جواز ملا۔ اسرائیل کے لئے یہ محاصرہ ابتداء میں محض سیاسی سازش تھی جسے گزرتے وقت کے ساتھ مزید معنویت حاصل ہوتی رہی۔ ویسگلاس کے بقول جب محاصرہ ہوگیا تو ایک نیا مقصد ہاتھ آیا، وہ یہ کہ فلسطینیوں کو فاقہ کشی پر تو مجبور کیا جائے مگر بھکمری کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔ جب ویسگلاس نے یہ بیان دیا تھا تب تو اس کا مفہوم سمجھ میں نہیں آیا تھا مگر بعد میں اس کی پرتیں کھلنے لگیں۔ کسی اور نے نہیں بلکہ اسرائیل ہی کی حقوق انسانی تنظیم ’’گیشا‘‘ نے ۲۰۰۸ء کی ایک رپورٹ، جو ۲۰۱۲ء میں منظر عام پر لائی گئی، میں انکشاف کیا کہ حکومت ِ اسرائیل کم سے کم کیلوریز کی غذا ، غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کو فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ اُنہیں غذا تو ملے، غذائیت نہ ملے اور اُن کی صحت متاثر رہے۔  اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ غزہ میں انسانی محرومیوں اور مصیبتوں کی نئی داستان رقم ہونے لگی۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ غزہ کے لوگوں کو فراہم کیا جانے والا ۹۸؍ فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ اسپتالوں میں ضروری دواؤں اور جدید آلات کی کمی ہے۔ غزہ سے نکلنا اور غزہ میں داخل ہونا ممنوع ہے۔ یہ الگ بات کہ کوئی ایمرجنسی ہو تو اکا دکا مرتبہ اجازت مل جاتی ہے۔  مگر خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اسرائیل کو غزہ کے خلاف اپنے مقاصد میں کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ملی۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ اُسے عالمی برادری سے غزہ میں اپنی موجودگی کی قانونی اجازت مل جائے یا اس کی موجودگی کو قانونی سرپرستی حاصل ہوجائے۔ اس ضمن میں واشنگٹن، تل ابیب کے ساتھ تھا مگر انکل سام کی آمادگی کے باوجود بین الاقوامی قوانین کی رو سے غزہ آج بھی مقبوضہ خطہ ہی ہے، اس پر اسرائیل کو استحقاق حاصل نہیں ہوسکا ہے۔  اسرائیل نے ۲۰۰۷ء میں غزہ کو ’’دشمن علاقہ‘‘ یا ’’جارح علاقہ‘‘ قرار دیا مگر اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا سوائے اس کے کہ اسرائیل کو غزہ پر جنگ مسلط کرنے کا موقع مل گیا۔ ۲۰۰۸ء سے اب تک اس نے کئی مرتبہ غزہ پر جنگ تھوپی۔ تاہم اہل غزہ کی مزاحمت کو توڑا نہیں جاسکا ہے۔ اتنے برسوں میں وہ کبھی نہیں بھولے کہ آزادی کی جدوجہد جو اُن کے آباء و اجداد نے شروع کی تھی، جاری رہنی ہے۔

gaza strip Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK