خوشیوں کا منبع تلاش کیجئے

Updated: February 14, 2020, 3:25 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

زندگی کو پُر سکون بنانے کے لئے،ذہنوں کو دباؤ سے آزاد کرانے کے لئے اور مکمل خوشی سے اپنی زندگی کو نہال کرنے کے لئے لوگ چھٹیوں کی شکل میں فرصت کے چند لمحات تلاش کرتے ہیں۔

خوشیوں کا منبع تلاش کیجئے
خوشیوں کا منبع تلاش کیجئے ۔ تصویر : آئی این این

زندگی کو پُر سکون بنانے کے لئے،ذہنوں کو دباؤ سے آزاد کرانے کے لئے اور مکمل خوشی سے اپنی زندگی کو نہال کرنے کے لئے لوگ چھٹیوں کی شکل میں فرصت کے چند لمحات تلاش کرتے ہیں۔چنانچہ اس کے لئے کچھ افراد اپنے پسندیدہ شہروں کا سفر کرتے ہیں تو کچھ لوگ سیاحتی مقام کے لئے عازمِ سفر ہوتے ہیں؛ ایک طبقہ ساحلِ سمندر کا انتخاب کرتا ہے تو دوسرا طبقہ بڑے بڑے شاپنگ مالوں میں اپنی پسندیدہ چیزوں کی خریداری کا منصوبہ بناتا ہے۔ بہر حال چھٹی منانے کی جو شکل بھی ہو درپردہ سب کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہےخوشی اور سکون کی تلاش۔   
چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے  میں خوشی حاصل کرنے کے حوالے سے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس دنیا  کی کوئی بھی چیز مستقل، لازوال اور یقینی نہیں ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص خوابوں کو سجائے چھٹی گزارنے کے لئے سفر پر روانہ ہوتا ہے لیکن وہ سفر  اُس کے لئے ناموافق حالات،موسم اور حوادث کی وجہ سے کبھی ڈراؤنا خواب بھی بن جاتا ہے۔اگر کسی کی چھٹی خوشگوار گزر بھی جائے تو  چھٹی ختم ہوتے ہی صرف یادوں کے کچھ دھندلے نقوش باقی رہ جاتے ہیں اور خوشیاں ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں؛یہی وجہ ہے کہ پھر سے خوشی حاصل کرنے کے لئے ایک چھٹی کے بعد دوسری چھٹی کا پلان بنایا جاتا ہے۔
مذکورہ حقیقت کے سامنے آنے کے بعد کوئی آپ سے اگر یہ کہے کہ آپ اپنا ہر دن چھٹیوں کے دن کی طرح گزار سکتے ہیں کہ جس طرح چھٹیوں میں خوشی حاصل ہوتی ہے ،اُسی طرح آپ کو ہر دن خوشی مل سکتی ہے تو غالباً آپ یہ خیال کریں گے کی یہ کوئی مذاق ہے۔نہیں یہ مذاق نہیں بلکہ سچائی ہے مزید برآں یہ کہ ہر دن کی اِس  خوشی کے لئے آپ کو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑیگا؛لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے لئے آپ کو پہلے خوشی کے منبع کو تلاش کرنا ہوگا۔ مذہب کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ خوشی کا وہ منبع اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات اقدس ہے؛جس ذات سے اپنے دل کو وابستہ کر کے ہم حقیقی اور دوامی خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔
یاد رکھئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے علاوہ ہر وہ چیز جس سے ہم اپنے دل کے تار کو جوڑتے ہیں –یا تو وہ چیز ہم سے جدا ہوجائے گی یا ہم خود اُس سے جُدا ہو جائیں گے۔اس لئےاللہ کی بارگاہ ہی وہ بارگاہ ہے کہ اگر ہم صحیح معنوں میں وہاں سے وابستہ ہوگئے تو خوشیوں کیاُس  ناپیدا کنار وسعتوں میں پہنچ جائیں گے جہاں سے دنیا کی ہر خوشی جس کا ہم مزہ لیتے ہیں ،ایک حقیر اور غیر اہم چیز معلوم ہو گی۔ 
مشہور بزرگ ابراہیم ابن ادہم ؒ کبھی ایک سلطنت کے باد شاہ ہوا کرتے تھے اور ایک پُر آسائش زندگی گزارتے تھے۔بہر حال انہوں نے اپنی مرضی سے دنیا کی چکا چوند سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اپنی بادشاہت سے دستبردار ہوگئے تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے لو لگائیں۔ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ابراہیم ابن ادھمؒ نے خشک روٹی تناول فرمایا اور `الحمد للہ پڑھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا؛پھر چلو بھر کر ایک ندی سے پانی پیا اور دوبارہ `الحمد للہ پڑھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔اِس طرح کی روکھی سوکھی کھانے کے بعد،جس کا حلق سے نیچے اتارنا لوگوں کے لئے مشکل ہوتا ہے، ابراہیم ابن ادہمؒ نے فرمایا کہ اگر بادشاہوں اور شہزادوں کو  وہ آرام و خوشی معلوم ہوجائے جس سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں تو وہ پوری زندگی ہم سے وہ خوشی و آرام چھیننے کے لئے تلواروں سے لڑتے رہیں۔ یہ سن کر ابراہیم ابن ادہمؒ  کے ایک مرید ابراہیم ابن بشار نے کہا کہ (اِس آرام و خوشی کے بجائے)لوگ دنیاوی آرام و آسائش کی طرف بھاگتے ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ (حلیۃ الاولیاء)
  یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ زیرِ نظر مضمون کا مقصد لوگوں کو چھٹیاں گزارنے سے روکنا،دنیا سے بلا وجہ دوری اختیار کرنے پر آمادہ کرنا یا جائز خوشیوں سے روکنا نہیں ہے بلکہ یہ ذہن نشیں کرانا ہے کہ ہم جہاں بھی رہیں؛ جہاں بھی جائیں،جس حال میں بھی رہیں ؛جو بھی کھائیں ہمہ وقت  اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد اور خوشنودی  ہمارے ذہنوں میں رہے کیوں کہ اس کے بعد ہمارے تمام اعمال عبادت بن جا ئیں گے جو ہمارے لئے دوامی خوشی کا سبب بنیں گے۔ اس بات کو ایک مثال سے ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ ایک شخص ہر دن گھنٹوں ایک لائن میں کھڑا ہوتا ہے تاکہ ایک بالٹی گدلا پانی اسے مل جائے اور پانی ملنے کے بعد وہ شخص اپنی اِس حصولیابی پر خوش  بھی ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے ہمارا مشورہ کیا ہوگا؟ یقیناً ہم اُس سے یہی کہیں گے کہ ایک بالٹی گدلے پانی کے لئےگھنٹوں لائن میں لگنے کے بجائے ،پانی جہاں سے آتا ہے اُس منبع اور جگہ کو تلاش کریں کیونکہ اگر وہ اُس جگہ کو تلاش کر لیتے ہیں تو وہ نہ صرف یہ کہ صاف پانی پائیں گے بلکہ بڑی مقدار میں پانی بھی ملے گا۔ بعینہ اسی طرح سے نامکمل خوشی اور ناپائیدار آرام  جو دنیا پیش کرتی ہے ،اس کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ہمیں خوشی کے اُس منبع کو تلاش کرنا چاہئے جہاں سے بے شمار اور لازوال خوشی ملتی ہے اور وہ ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اور اُن کی خوشنودی۔  
اللہ ہمیں اپنی رضا نصیب فرمائے اور دل کی ایسی خوشی نصیب فرمائے جس سے ہمارا ہر دن خوشیوں کااستعارہ بن جائے! آمین

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK