• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

مقبولیت کیلئے رضائے الٰہی اور اخلاص نیت ضروری ہے

Updated: November 03, 2023, 12:37 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

ہم صرف حسن عمل کے مکلف ہیں اور کام چاہے دنیاوی قبیل کے ہوں یا دینی ،اگر اس میں حسن نیت شامل ہو جائے تو وہ کام ہی وجہ مقبولیت و محبوبیت بنتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

ایسی چیز میں وقت لگانا اور جد و جہد کرنا جو ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے؛ ایک بے فائدہ عمل ہے جس سے بسا اوقات نفع کے بجائے نقصان ہی ہوتا ہے۔ منجملہ ایسی چیزوں میں ایک قابل ذکر چیز نام و نمود، عزت و احترام اور لوگوں کی نگاہ میں محبوب بننے کے لئے مختلف غیر پسندیدہ طریقے اپنانا ہے۔ حالانکہ یہ چیزیں خدائی عطیہ ہوتی ہیں جو اپنے کام کے تئیں مخلصین کو اللہ رب العزت عنایت فرماتے ہیں۔ 
اس کی واضح دلیل وہ حدیث پاک ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبریل ؑ کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے، پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے، اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبریل ؑ سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ ۔حضرت جبریل ؑ بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں پھر آسمانوں میں ندا کردیتے ہیں کہ فلاں دشمن ِالٰہی ہے تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑ بیٹھتے ہیں پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے۔‘‘ (بخاری)۔ ظاہر ہے کہ اللہ رب العزت کسی بندے سے محبت اسی وقت فرمائیں گے جبکہ وہ ہر کام اللہ کی خوشنودی کیلئے انجام دےگا اور اس کی نیت دکھا وےکی نہیں ہوگی۔ اس حسن عمل کی وجہ سے ہی وہ مخلوق خدا میں بحکم الٰہی محبوب و مقبول ہوگا جیسا کہ حدیث سے واضح ہے۔ 
 مذکورہ حدیث کے دوسرے حصے سے زیر بحث موضوع کا ایک اوراہم پہلو واضح ہو تا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر انسان کے پیش نظر اللہ کی خوشنودی نہیں ہے اور وہ محض اپنی ذات کو شہرت کی بلندی تک پہنچانے کے لئے اور مقبولیت کا مقام حاصل کرنے کیلئے ہر جائز و ناجائز طریقے اپناتا ہے تو اللہ رب العزت کی نگاہ میں وہ مردود ہوجاتا ہے۔ اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ جو اللہ رب العزت کی نظر میں مردود و ذلیل ہو جائے، اسے کہیں حقیقی عزت اور مقبولیت نہیں مل سکتی۔
 زیر بحث موضوع کے حوالے سے قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہمیں بھر پور رہنمائی ملتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے، خدائے رحمٰن ان کے لئے ( دلوں میں ) محبت پیدا کردیں گے۔‘‘ (سورہ مریم:۹۶) تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے ضمن میں حضرت حسن بصری ؒسے ایک واقعہ منقول ہے جو موضوع کو سمجھنے میں معاون ہے۔
 حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح سے کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہوجائے اب وہ عبادت الٰہی کی طرف جھک پڑا جب دیکھو نماز میں ہے۔ مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں ۔ اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کرلیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے عمل کروں گا، کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کردیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے۔ تب حسن بصریؒ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہم صرف حسن عمل کے مکلف ہیں اور کام چاہے دنیاوی قبیل کے ہوں یا دینی ،اگر اِن میں حسن نیت شامل ہو جائے تو وہی وجہ مقبولیت اور محبوبیت بنتے ہیں۔
 مختصر یہ کہ محبوب، مقبول اور مشہور بننے کے لئے الگ سے محنت کی ضرورت نہیں بلکہ مطلوبہ اور مفوضہ کام میں رضائے الٰہی کی نیت ہی کافی ہے۔ جو لوگ نام و نمود کی خواہش لئے پھرتے ہیں اُنہیں نام و نمود حاصل ہوجائے تب بھی وہ نقصان ہی میں رہیں گے اگر اُن کا مقصد رضائے الٰہی نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK