وطن عزیز میں جمہوریت کا چوتھا ستون مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے

Updated: October 18, 2020, 10:44 AM IST | Jamal Rizvi

اب صحافت میں ایسے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں جو اقتدار کے فیصلوں اور پالیسیوں کا منصفانہ تجزیہ کرتے ہوں۔ جب پوری صحافتی برادری تقریباً ایک سا رویہ اختیار کر لے تو اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ خبروں کی صورت میں جو اطلاعات عوام تک پہنچائی جاتی ہیں ان میں صداقت کا عنصر کس حد تک ہے؟

Electronic Media
الیکٹرونک میڈیا

صحافت کو جمہوریت کا ستون کہا جاتا ہے۔ جمہوریت  کے حوالے سے صحافت کی اس تعریف میں مضمر نکات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات یقینی طور سے کہی جا سکتی ہے اس ستون کا استحکام اور پائیداری ہی دیگر تین ستونوں کو مستحکم بناتی ہے۔اگر صحافت اپنا کام شفافیت اور صداقت کے ساتھ انجام دے توہی نظام جمہوریت کا کاروبار بہتر طریقے سے چل سکتا ہے ۔ صحافت کی جو تعریف بیان کی گئی ہے، اس میں صداقت اور شفافیت کو اہم حیثیت حاصل ہے۔  اگر صحافت کی اس تعریف کو مد نظر رکھتے اس شعبے کے موجودہ حالات پر نظر ڈالیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس شعبے کو بعض سطحی عناصر نے اس قدر پراگندہ کر دیا ہے کہ اس کی شفافیت اور صداقت معرض خطر میں پڑ گئی ہے ۔جمہوریت میں صحافت کو جو مقام حاصل ہے وہ نہ صرف یہ کہ نظام حیات کو بہتر بنانے میں معاون کردار ادا کرے بلکہ اس نظام کے تحت عوام کے مفاد کو یقینی بنانے کا عمل انجام دے لیکن فی الوقت اس اہم شعبے کی جو حالت ہے، اسے دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے نہ صرف صداقت اور شفافیت کو بالائے طاق رکھ دیا ہے بلکہ عوام کے مفاد سے بھی اس کا کوئی لینا دینا نہیں رہا۔
 ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہونے کے بعد جن امور میں تبدیلی کو بہت واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے، ان میں ایک یہ صحافت کا شعبہ بھی شامل ہے ۔ ایسا نہیں کہ اس سے قبل صحافت میں ایسے عناصر بالکل نہیں تھے جو اقتدار کی جی حضوری کو ترجیح دیتے تھے لیکن اب سے قبل ان کی تعداد بہت تھوڑی سی تھی  لہٰذا اگر وہ جا و بیجا ہر صورت میںاقتدار کی ہاں میں ہاں ملاتے بھی تھے تو ان کی آواز نقار خانہ میں طوطی کی آواز کی حیثیت رکھتی تھی لیکن اب معاملہ بالکل بر عکس صورت اختیار کر گیا ہے ۔ اب صحافت میں ایسے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں جو اقتدار کے فیصلوں اور پالیسیوں کا منصفانہ تجزیہ کرتے ہوں اور ان فیصلوں اور پالیسیوں سے وابستہ عوام کے حقوق اور مفاد کی نشاندہی کرتے ہوں۔ جب پوری صحافتی برادری تقریباً ایک سا رویہ اختیار کر لے اور اس رویے کا مقصد محض اقتدار کی قصیدہ خوانی ہو تو ایسے میں یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ خبروں کی صورت میں جو اطلاعات عوام تک پہنچائی جاتی ہیں ان میں صداقت کا عنصر کس حد تک ہے؟ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام کو جب بار بار ایک ہی طرز کی خبریں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں تو وہ ان باتوں پر یقین کرنے کو مجبور ہو جاتا ہے جو در حقیقت، حقیقت سے کوسوں دور ہوتی ہیں۔ ماضی قریب میں اقتدار کے بعض فیصلوں کو پیش نظر رکھ کر اس حقیقت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ ملک کے بعض میڈیا اداروں نے کس طرح ان فیصلوں کو حق بہ جانب ثابت کرنے کیلئے مصنوعی دلائل پیش کئے تھے ۔
 اقتدار کی جی حضوری کرنے والے میڈیا اداروں نے نہ صرف پیشہ وارانہ اخلاقیات کو سبوتاژ کیا بلکہ ان کے اس اقدام سے عوام  کے مسائل اور مفاد کی نوعیت بھی پیچیدہ ہوتی گئی ۔ اگر گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران اس شعبے میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت بہت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ عوام کے مسائل کو غیر اہم سمجھنے والے میڈیا اداروں نے ایسی خبروں کی غیر ضروری طور پرمسلسل تشہیر کی جن کا عوام کے مسائل سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ان میڈیا اداروں نے ایسا رویہ اختیار کر کے بہ یک وقت دو کام انجام دئیے۔ ایک تو یہ کہ عوام کو درپیش مختلف قسم کے مسائل کو میڈیا کی سرخیوں میں آنے کا بہت کم موقع ملا اور دوسرے یہ کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کے ذریعہ اختیار کی گئی پالیسیوں کی ناکامی کو مخفی رکھنے کی کوشش کی گئی ۔ میڈیا کا یہ رویہ یقیناً افسوس ناک ہے کیوں کہ اصولی طور پر یہ شعبہ عوام کے مفاد کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے اور اگراس اصول کو پوری طرح نظر انداز کر دیا جائے تو یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پھر عوام کے حالات و مسائل کیا صورت اختیار کر لیں گے؟ 
 میڈیا اور اقتدار کے درمیان یہ ساز باز یقینی طور پر جمہوری نظام کو کمزور بناتی ہے ۔ عوام نے اس ساز باز کے سبب پیدا ہونے والے مسائل کا مشاہدہ گزشتہ کچھ برسوں میں بہتر طریقہ سے کر لیا ہے ۔جمہوریت ، اقتدار اور صحافت کے مابین جو ربط ہے اس ربط کو پوری طرح نظر انداز کرکے اگر صرف اقتدار کی مرضی کو مقدم سمجھا جائے تو صحافت اپنے وقار کو بھی باقی نہیں رکھ سکتی ۔ یہی سبب ہے کہ اقتدار کی جی حضوری سے اسے جو کچھ بھی فائدہ حاصل ہوا ہو لیکن عوام کے نزدیک اس کے اعتبار کو ٹھیس پہنچی ہے ۔اس وقت ٹیکنالوجی کی ترقی کے سبب میڈیا کو وہ سہولتیں میسر ہیں جو اب سے کچھ برسوں تک اسے حاصل نہیں تھیں۔ ان سہولتوں کا بہتر استعمال اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ اقتدار اور عوام سے وابستہ خبروں کی ترسیل میں صداقت اور شفافیت کو بہر طور ملحوظ رکھا جائے۔ اگر میڈیا اپنی پیشہ ورانہ اخلاقیات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس رویہ کو اختیار کر لے تو بہت سارے ایسے مسائل جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہے، کسی حد تک قابو میں آ سکتے ہیں لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس صورت میں نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو درپیش مسائل کی حقیقت جاننے کے باوجود بعض میڈیا ادارے اقتدار پرستی کے جذبہ سے مجبور ہو کر ان مسائل کو یا تو سرے سے خارج کرتے رہے ہیں یا پھر ان کو اس انداز میں پیش کر تے ہیں کہ ان کی سنگینی میں کمی واقع ہو جائے۔ اس سلسلے میں صرف اس ایک اہم مسئلے کو ہی بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے ،جو ملک گیر سطح پر عوامی کی پریشانی کا باعث ہے اور وہ مسئلہ بے روزگاری کا ہے ۔
 کورونا کی وبا کے پھیلنے سے بہت پہلے ہی اس ملک میں بے روزگاری جس سطح پر پہنچ گئی تھی، اس نے گزشتہ تقریباً نصف صدی کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ اس وبا کے پھیلنے کے بعد یہ مسئلہ جس طرح مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے وہ پورے معاشرے کیلئے پریشانی کا سبب ہے ۔ ایسے اہم مسئلے پر حکومت کی جانب سے کیا کچھ ہورہا ہے ، اس کا صحیح صحیح اندازہ عوام کو اب تک نہیں لگ سکا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ اقتدار پرست میڈیا اداروں کا وہ رویہ ہے جو ایسے اہم اور سنگین مسئلے کو لائق توجہ ہی نہیں سمجھتا ۔بعض میڈیا ادروں کی جانب سے اگر ایسے مسائل کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو اقتدار کی جی حضوری کرنے والے میڈیا اداروں کی جانب سے ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ ایسی کوشش کرنے والے میڈیا اداروں کی وطن سے محبت پر ہی سوال کھڑے ہونے لگتے ہیں۔ چونکہ عوام کا ایک طبقہ اقتدار پرست میڈیا اداروں کی ہاں میں ہاں ملانے کا عادی ہو چکا ہے لہٰذا ان صحافیوں کو بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو عوام سے وابستہ ہر معاملے کو محققانہ نظر سے دیکھتے ہیں اور ایسے معاملات سے عوام کو باخبر کرنا اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں۔ 
 اقتدار، میڈیا اور عوام کے رابطے کا تجزیہ اگر ذرا وسیع پس منظر میں کیا جائے تو یہ افسوس ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر تقریباً ایک سی صورتحال ہے۔ اس رابطے میں اقتدار کے مفاد کو ترجیح دینے کا انداز ان ملکوں میں بھی کسی قدر رواج پا چکا ہے جن ملکوں میں عوام کے مسائل اور مفاد کو اولین حیثیت حاصل رہی ہے۔ ایسے مکدر ماحول میں عوام اگر اپنے گر د و اطراف کے ماحول سے وابستہ حقائق کی نوعیت جاننے کا خواہاں ہو، تو اس کی یہ خواہش کس طرح پوری ہو سکتی ہے؟ یہاں یہ بھی پیش نظر رہے کہ اس خواہش کی تکمیل صداقت اور شفافیت کے ساتھ ہونی چاہئے نہ یہ کہ ٹی وی اوراخبار ا ت کے ذریعہ جو تشہیر ہو رہی ہے اسے ہی سچ مان لیا جائے۔ اب تو حالات اس قدر خراب ہو گئے ہیں کہ اس شعبے سے وابستہ بعض افراد اپنی شہرت اور ناموری کیلئے ان ہتھکنڈوں کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے جو گناہ اور جرم کے مترادف ہوتے ہیں۔ شہرت کے بھوکے ان لوگوں نے نہ صرف اس شعبے کے تقدس کو مجروح کیا ہے بلکہ ان کی جعل سازی کے سبب عوام کا ایک طبقہ بھی گمراہ ہوا ہے ۔ یہ لوگ اسی طرح کی گمرہی پھیلا کر اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں لیکن حصول مفاد کا یہ راستہ کس قدر عوام اور ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اس پر غور کرنے کی انھیں مطلق پروا نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب ان کی ایسی کرتوتیں منظر عام پر آتی ہیں تو پھر یہ اس نام نہاد دیش بھکتی کا سہارا لیتے ہیں جس کاملک کے مفاد اور مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
 اگر جمہوریت کی عمارت کو مستحکم اور پائیدار رکھنا ہے تو یہ ضروری کہ یہ عمارت جن ستون پر ٹکی ہے وہ بھی مستحکم اور پائیدار ہوں۔ ان ستونوں کی مضبوطی ہی جمہوری نظام میں عوام کے مفاد کو تحفظ عطا کر سکتی ہے اور اس تحفظ کو جمہوری نظام حیات میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔صحافت سے وابستہ افراد کو شہرت اور ناموری کے پیچھے بھاگنے کے بجائے عوام اور ملک کے حقیقی مفاد کو بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اگر صحافت اس پہلوکو پوری طرح نظر انداز کر دے تو پھر وہ قت گزاری کا ایک ذریعہ تو بن سکتی ہے لیکن اس سے عوام کی بہبود کا کوئی تصور نہیں وابستہ کیا جا سکتا ۔ ظاہر ہے کہ ایسی صحافت صرف عوام اور نظام حیات کا استحصال کرتی ہے اور اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ جن اطلاعات کی تشہیر کر رہی ہے اس کا سماج پر کیا اثر پڑے گا؟ صحافت کی یہ بے حسی سماج کو پژمردہ بنا سکتی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دنوں یہی کچھ ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK