Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہکتے رشتے

Updated: June 22, 2026, 2:23 PM IST | Saleem Khan | Mumbai

پچاس پچپن برس کی عمر میں بیوی کی موت مرد کو ایک ایسے المناک موڑ پر چھوڑ دیتی ہے کہ اسے تنہا اپنی بکھری زندگی سمیٹ کرجینا محال ہوتا ہے۔

Image.Photo:INN
امیج۔ تصویر:آئی این این
پچاس پچپن برس کی عمر میں بیوی کی موت مرد کو ایک ایسے المناک موڑ پر چھوڑ دیتی ہے کہ اسے تنہا اپنی بکھری زندگی سمیٹ کرجینا محال ہوتا ہے۔نہ وہ اپنے ماضی کو بھول پاتا ہے نہ اسے مستقبل کا تصور ہوتا ہے۔اکیلے پن کا دکھ  اور اس وقت کی ڈوبتی ابھرتی خواہشیں زندگی کو مضطرب کردیتی ہیں۔پروفیسرمحمد طاہر خانصاحب ایسے ہی حالات سے دو چار تھے۔خانصاحب کو ہر معاملے میں بیوی کی رفاقت حاصل تھی۔تعلیم یافتہ،باذوق شریکِ حیات کی محبت اور چاہت سے ان کی زندگی باغ و بہار اور گھرجنت تھا۔ خانصاحب اچھے تن و توش کے مالک تھے۔ان میں جوانوں سی تیزی اور کراری تھی۔اعلیٰ اخلاقی قدروں اور خاندانی وضعداری کے سبب اپنے حلقۂ  احباب اور معاشرے میں انھیں ایک خاص مقام حاصل تھا۔لیکن بیوی کی اچانک موت سے انہیں ایسادھکا لگا کہ وہ ٹوٹ کر رہ گئے۔نہ وہ اپنے ساتھیوں سے ملتے تھے نہ ہی ملازمت کے کاموں میں ان کی طبیعت لگتی تھی۔بس اداس اور کھوئے کھوئے سے رہتے۔ انہیں اذان کی آواز تک محسوس نہ ہوتی۔ جب کہ پہلے اذان سنتے ہی وہ عذرا سے کہا کرتے ،’’بیٹی وضو کے لیے پانی رکھ دو!    خانصاحب کی یہ حالت دیکھ کر ان کے دوستوں نے انہیں رائے دی ،’’خانصاحب ،آپ کی اہلیہ کو گزرے ایک ڈیڑھ سال کاعرصہ ہو چکا ہے۔اب آپ کسی نیک خاتون سے نکاح کرلیںکیونکہ آدمی کو جوانی سے زیادہ بڑھاپے میں بیوی کی ضرورت ہوتی ہے۔آپ چاہیں تو اس معاملہ میں ہم لوگ خدمت کےلئے حاضر ہیں۔‘‘مگر خانصاحب خاموش رہتے۔ان کے چہرے پر ایسا کوئی تاثر نہیں ابھرتا جس سے ان کے من کی بات سمجھ میں آتی۔
             بیوی کے بغیر خانصاحب کی زندگی میں ایک خلا پیدا ہو گیا تھااو ربلاشبہ انہیں زندگی کے اس موڑ پرہم سفر کی ضرورت بھی تھی۔رات میں جب بچے سونے کے لئےاپنے اپنے کمرے میںچلے جاتے،وہ بالکل تنہا رہ جاتے۔اس وقت دبے پاؤں بیوی کی یادیں ان کے کمرے میں داخل ہوجاتیں۔در و دیوار، گھر کی ہر شےسر گوشیاں کرنے لگتی اور سارا کمرہ پُر مسرت لمحوں کی خوشبو سے مہک اٹھتا۔خانصاحب خوابوں خیالوں کی حسین وادی میں گُم ہوجاتے اورجب یہ طلسم ٹوٹتا،وہ دل برداشتہ ہوجاتے۔
             خانصاحب کے بچے اپنے والدین کی طرح ذی فہم اورمخلص تھے۔عذرا دسویں جماعت پاس کرچکی تھی اور آگے پڑھنا چاہتی تھی۔شاہد فارمیسی کررہا تھا۔ان کی مرحوم بیٹی کی آخری نشانی پانچ سالہ آفرین بھی انہی کے زیر سایہ پرورش پارہی تھی۔وہ ان سب کے بارے سوچ کر گہری فکر میں ڈوب جاتے۔عذرا اور شاہد اپنے ابو کی ایسی حالت دیکھ کربےحدفکرمندتھے۔دونوں بھائی بہن انہیںخوش اور مستعد دیکھنا چاہتے تھے۔
بہرحال وہ اپنی امی کی طرح اپنے ابو کاپوراخیال رکھتے اور انہیںخوش رکھنے کی مقدور بھر کوشش کرتے لیکن انہیں خانصاحب میں پہلی سی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی تھی۔ شاہد کو جب اپنے آس پاس  ایسے لوگ دکھائی دیے جنھوں نے ڈھلتی عمر میںایک نئی زندگی کا آغاز کیا اور وہ اپنی گھر گرہستی میں خوش اور مطمئن ہیںتو اسے احساس ہوا کہ ابو کے لیے بھی ایک ہم سفر ضروری ہے لیکن وہ جانتا تھاکہ ابو کے خیالات اور نظریات عام لوگوں سے الگ ہیں۔وہ اس بات پر راضی نہ ہونگے سو اس نے اس ضمن میں اپنی بہن عذرا سے مشورہ کیا....اور پھر ایک روز دو پہر میںجب خانصاحب کسی رسالے کی ورق گردانی میںمشغول تھے،شاہد اور عذرا ان کے کمرے میں پہنچے ۔دونوں بچوں کو اس طرح اچانک ایک ساتھ دیکھ کرخانصاحب اٹھ بیٹھے اور بے تابی سے پوچھا،’’کیا بات ہے شاہد،سب ٹھیک تو ہے نا!؟‘‘ہاں،ابو،اللہ کا فضل و کرم ہے۔‘‘شاہد نے بڑے ادب سے جواب دیا۔پھر انھوں نے اپنی نواسی آفرین کے بارے میں پوچھا،جی ابو،وہ صحن میں کھیل رہی ہے۔‘‘عذرا نے انھیں اطمینان دلایا۔دونوں بھائی بہن جب خانصاحب کے قریب پلنگ پر بیٹھ گئے،تب وہ سمجھ گئے کہ بچے کوئی خاص بات کرنا چاہتے ہیں۔ 
انہوں نے دریافت کیا’’کیا بات ہے شاہد میاں؟‘‘ابووہ !شاہد ہچکچایا۔خانصاحب نے اس کے شانے پر پاتھ رکھ کر نرمی سے کہا،’’بولو بیٹے،گھبراؤ نہیں ۔کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘ابو،دراصل بات یہ ہے کہ ہمیں گھر میںامی کی کمی محسوس ہوتی ہے،گھر سونا سونالگتا ہے۔اور پھر ہماری دیکھ بھال کے لئے بھی ماں کی ضرورت ہے اس لئے آپ ہماری خاطر....‘‘خانصاحب نے شاہد کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ اپنے بچوں کے نیک جذبات دیکھ کران کی آنکھیں بھرآئیں۔  انھوں نے دونوں بچوں کو اپنی بانہوں میںلے کرسینے سے لگالیااوربولے،’’نہیں میرے بچّو ! تمہیں ماں کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہاری تواَب شادی کی عمریں ہیں۔میں سمجھتا ہوں تم یہ سب کیوں چاہتے ہو۔‘‘ان کی آنکھوں سے آنسوچھلک پڑے۔اپنے آپ پر قابو پاکر چند لمحوں بعدانہوں نے کہا،’’میرے جگر پارو، تمہاری امی میری روح میں سمائی ہوئی  ہیں۔ان کی جگہ کوئی دوسری عورت نہیں لے سکتی۔ مگر تم فکر نہ کرو ،اب میں تمہیں اس گھر میں کوئی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا۔میں تمہاری امی کی یادوں میں تمہاری خوشیوں کے رنگ بھر دوں گااور پھر انہوں نے دونوں بچوں کی پیشانیاں چوم لیں۔ 
پانچ بج رہے تھے۔عصر کی اذاں ہورہی تھی۔آج اذان کے الفاظ خانصاحب کے کانوں میں رس گھول رہے تھے۔انہوں نے آواز دی،’’بیٹی عذرا،وضو کے لیے پانی رکھ دو!‘‘ اپنے ابو کی آواز سن کر شاہد اورعذرا کے چہرے کھل گئے کیونکہ خانصاحب کی آواز میں وہی پہلی سی لہک اورترنگ تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK